Wednesday , September 19 2018
Home / اضلاع کی خبریں / مجلس بلدیہ عادل آباد کے نتائج پر تجسس

مجلس بلدیہ عادل آباد کے نتائج پر تجسس

صدر نشین کے عہدہ پر کانگریس کے قبضہ کا امکان

صدر نشین کے عہدہ پر کانگریس کے قبضہ کا امکان

عادل آباد۔/9مئی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عادل آباد مجلس بلدیہ کے صدر نشین کے عہدہ پر کانگریس پھر ایک مرتبہ اپنا قبضہ برقرار رکھ سکتی ہے۔ 12مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد کانگریس پارٹی کونسلرز کی خاطر خواہ تعداد کامیابی حاصل کرنے کے امکانات ہیں۔ نمائندہ ’سیاست‘ محبوب خاں کے سروے کے مطابق عادل آباد مجلس بلدیہ میں12تا15کانگریس،10تا 12ٹی آر ایس، چار تا پانچ بی جے پی، کمیونسٹ، مجلس، ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے بالترتیب ایک، ایک امیدوار منتخب ہونے کے امکانات ہیں۔ جبکہ آزاد امیدواروں کی زیادہ تعداد منتخب ہوسکتی ہے۔ مجلس بلدیہ کے 36وارڈ کے منجملہ 35وارڈز میں انتخابات30اپریل کو کئے گئے تھے۔ وارڈ نمبر 34 میں بی جے پی امیدوار مسٹر ایم کشن بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ عادل آباد مجلس بلدیہ کے 35وارڈز میں 146خواتین کے بشمول 262 امیدواروں نے انتخابی میدان میں حصہ لیا۔87مراکز میں 85 مراکز رائے دہی پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے تحت رائے دہندوں نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ ان انتخابات میں اقلیتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 63مسلم افراد جن میں 28مسلم خواتین سیاسی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدوار کے طور پر انتخابی میدان میں شامل ہیں۔ چار سیاسی جماعتوں کے ٹاؤن کمیٹی صدور جن میں مسٹر ساجد خان کانگریس، مسٹر سید ساجد الدین ٹی آر ایس، مسٹر فاروق مجلس، مسٹر روی کمار بی جے پی بھی اپنے سیاسی کیرئیر کو داؤ پر لگایا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق ٹاؤن کمیٹی صدور انتخابات میں کامیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا انہیں حق حاصل نہیں۔ عادل آباد مجلس بلدیہ صدر نشین کا جلیل القدر عہدہ خاتون کیلئے مختص کیا گیا۔ کانگریس کو کونسلرز کی اکثریت حاصل ہونے کے بعد بھی اس عہدہ کو حاصل کرنے کیلئے مزید کونسلرز کی ضرورت پڑے گی۔ سینئر کانگریس قائد، ضلع کانگریس کمیٹی صدر مسٹر سی رامچندر ریڈی 2005ء کے طرز پر اپنی سیاسی حکمت عملی کا استعمال کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر موجودہ رکن اسمبلی مسٹر جوگو رامنا سیاسی حربوں کے تحت مجلس بلدیہ پر اپنا قبضہ جماتے ہیں؟۔ جبکہ گزشتہ بلدیہ انتخابات میں کانگریس اور تلگودیشم کو مساوی نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ 13کانگریس کونسلرز، مجلس کے تین اور آزاد تین کونسلرز کے ذریعہ کانگریس مجلس بلدیہ پر قبضہ جماتے ہوئے اپنی پانچ سالہ میعاد تکمیل کی تھی۔ سیاسی افراد سے ملنے والی اطلاع کے مطابق کوآپشن ممبر منتخب کرنے کیلئے تین تا پانچ لاکھ روپیوںکی پیشکش قائدین کو دی جارہی ہے۔ ضلع کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مستقر عادل آباد کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں چھ مجالس بلدیات جن میں منچریال، نرمل، کاغذ نگر، بیلم پلی، بھینسہ اور عادل آباد کے ووٹوں کی گنتی کا کام کیا جارہا ہے جس کی بناء بڑے پیمانے پر غیر مقامی سیاسی و غیر سیاسی افراد مستقر عادل آباد میں 11مئی سے شرکت کررہے ہیں۔ عادل آباد کے چھوٹے بڑے تمام اور لارجنگوں میں قبل از وقت بکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT