Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد معاشی بحران سے دوچار

مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد معاشی بحران سے دوچار

حکومت نے آمدنی کے باوجود رقم جاری نہیں کی ، ترقیاتی کام متاثر ، عوام کو مسائل
حیدرآباد۔14ستمبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو معاشی اعتبار سے کمزور کرنے کے درپے ہے اور جی ایچ ایم سی کو بجٹ کی عدم اجرائی کے ذریعہ معاشی بحران کا شکار بنایا جانے لگا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کی جانب سے قانون حق آگہی کے تحت حاصل کردہ تفصیلات کے مطابق شہر حیدرآباد کے بلدیاتی امور کے نگران ادارہ کو حکومت کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ترقیاتی منصوبہ جات پر عمل آوری ممکن نہیں ہو پارہی ہے ۔ کامریڈ ایم سرینواس نے بتایا کہ حکومت نے سال 2016-17کے 14ویں فینانس کمیشن کی منظورہ گرانٹ 279.63کروڑ کی اجرائی بھی عمل میں نہیں لائی ہے جوکہ شہری ترقیاتی امور کیلئے منظور کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایاکہ اسٹامپ ڈیوٹی کے ذریعہ ہونے والی آمدنی سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو حکومت کی جانب سے 240کروڑ روپئے وصول طلب ہیں لیکن تاحال صرف 40کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں۔ اسی طرح مختلف محصولات کے ذریعہ وصول طلب آمدنی میں حصہ کی اجرائی بھی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے۔ مسٹر ایم سرینواس نے بتایا کہ پروفیشنل ٹیکس سے ہونے والی آمدنی میں حکومت کو 41.25کروڑ روپئے جی ایچ ایم سی کو جاری کرنے ہیں لیکن وہ بھی اب تک جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ اسی طرح موٹر وہیکل ٹیکس سے ہونے والی آمدنی سے 50لاکھ روپئے جاری کئے جانے ہیں اسی طرح سرکاری عمارتوں کے جائیداد ٹیکس کے ذریعہ 24کروڑ 20لاکھ وصول طلب ہیں جبکہ تفریحی ٹیکس میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کا حصہ 34.25 کروڑ وصول طلب ہیں جو جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے سال گذشتہ جی ایچ ایم سی کو حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو منتقل کیا اور اس کیلئے 270کروڑ روپئے آر ٹی سی کے حوالے کئے گئے جس کے سبب بلدیہ کو مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور حکومت کی جانب سے گرانٹ کی عدم اجرائی کے سبب شہر یوں کو بالوسطہ طور پر مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ترقیاتی و مرمتی کاموں کو مفقود رکھا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بلدیہ کے خزانہ میں مالیہ نہ ہونے کے سبب ترقیاتی کام کی انجام دہی ممکن نہیں ہے۔مسٹر ایم سرینواس نے کہا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو شہری حدود میں ترقیاتی کام بلکلیہ طور پر بند ہوجائیں گے اور جی ایچ ایم سی ریاستی حکومت کی آمدنی میں اضافہ کے لئے خدمات انجام دینے والا ادارہ بن کر رہ جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT