Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / مجلس سے مفاہمت کانگریس کیلئے نقصاندہ ثابت ہوئی

مجلس سے مفاہمت کانگریس کیلئے نقصاندہ ثابت ہوئی

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں تنہا مقابلہ کرنے، صدر پردیش کانگریس کا مشورہ

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں تنہا مقابلہ کرنے، صدر پردیش کانگریس کا مشورہ

حیدرآباد /17 جون (سیاست نیوز) کانگریس کے مسلم قائدین نے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس پنالہ لکشمیا کو بتایا کہ مجلس سے مفاہمت کانگریس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوئی۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس نے آج گاندھی بھون میں کانگریس کی 13 محاذی تنظیموں کا علحدہ علحدہ اجلاس طلب کرتے ہوئے پارٹی کی شکست کی وجوہات کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں اے آئی سی سی انچارج سکریٹری کنٹیا کے علاوہ تلنگانہ پردیش کانگریس کے معاون صدر اتم کمار ریڈی، سکریٹریز پردیش کانگریس سید یوسف ہاشمی، ایم اے غنی، ڈاکٹر ایم اے انصاری، ترجمان پردیش کانگریس ایس کے افضل الدین کے علاوہ دیگر قائدین میں میر ہادی علی، معراج خان، اعجاز خان، دلاور، موسیٰ قاسم اور دیگر بھی موجود تھے۔ ذرائع کے بموجب صدر پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ نے پارٹی کی شکست پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پہلے تو ٹکٹوں کی تقسیم میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی اور صرف 4 مسلم قائدین کو ٹکٹ دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ محبوب نگر میں پہلے سید ابراہیم کو کانگریس میں شامل کیا گیا، پھر عبید اللہ کوتوال کو ٹکٹ دیا گیا۔ علاوہ ازیں کانگریس کی ریڑھ کی ہڈی سمجھنے جانے والے مسلمانوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور صحیح طریقے سے انتخابی مہم نہیں چلائی گئی۔ انھوں نے کہا کہ مجلس کو اہمیت دے کر کانگریس کے مسلم قائدین کو نظرانداز کیا گیا۔ مجلس سے کانگریس کی انتخابی مفاہمت کانگریس کے لئے نقصاندہ اور بی جے پی کے لئے فائدہ مند رہی۔ انھوں نے کہا کہ مجلس کے ہی ایما پر فیروز خان کو کانگریس کے ٹکٹس سے محروم کیا گیا اور مجلس نے کانگریس پر دباؤ ڈالتے ہوئے ایک لوک سبھا اور 7 اسمبلی حلقہ جات سے اپنے کمزور امیدوار کو کھڑا کرنے پر مجبور کیا، تاہم مجلس نے حلقہ لوک سبھا سکندرآباد، عنبر پیٹ، صنعت نگر، جوبلی ہلز اور مشیر آباد میں اپنے امیدوار کھڑا کرتے ہوئے بی جے پی اور تلگودیشم امیدواروں کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ مجلس ایک طرف کانگریس سے مفاہمت کرتی ہے، جب کہ دوسری طرف تلگودیشم، بی جے پی اور ٹی آر ایس سے اپنے تعلقات کو برقرار رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ مجلس، کانگریس سے اتحاد کرکے اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ وہ سارے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس اپنے ماضی کو بھول کر مستقبل کی تیاری کرے اور مسلمانوں کو اہمیت دے۔ علاوہ ازیں مجوزہ گریٹر حیدرآباد کے انتخابات میں مجلس سے اتحاد کے بغیر تنہا مقابلہ کرے۔ انھوں نے کہا کہ مجلس سے کبھی کانگریس کو فائدہ نہیں ہوا، بلکہ کانگریس سے مجلس کو فائدہ پہنچا ہے۔ کانگریس کو چاہئے کہ ابھی سے گریٹر حیدرآباد کے بلدی انتخابات کی تیاری شروع کردے اور اچھے امیدواروں کو سامنے لاکر ان کی حوصلہ افزائی کرے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو پارٹی سے دوبارہ قریب کرنے کے لئے شہر حیدرآباد کے علاوہ ضلعی سطح پر بھی ان کو نمائندگی دی جائے، افطار پارٹیوں کا اہتمام کرے اور شہر حیدرآباد میں ایک بڑا کنونشن منعقد کرتے ہوئے پارٹی کیڈر میں نیا جوش و جذبہ پیدا کرے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ پارٹی اور بلدیات کے علاوہ منڈل اور ضلع پریشد میں اقلیتوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی جائے۔ دریں اثناء اے آئی سی سی انچارج سکریٹری کنٹیا نے کہا کہ مجلس کے تعلق سے پارٹی کے مسلم قائدین کے احساسات کو ہائی کمان تک پہنچایا جائے گا۔ اسی دوران صدر تلنگانہ پردیش کانگریس نے کہا کہ کانگریس اور اقلیتوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کانگریس کے لئے ہار جیت کوئی نئی بات نہیں ہے، کانگریس میں اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دی جائے گی اور مستقبل میں اقلیتی قائدین کے ساتھ اجلاس طلب کرکے پارٹی کو مستحکم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT