Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / مجلس نے کانگریس اور مسلمانوں کو دھوکہ دیا : اتم کمار

مجلس نے کانگریس اور مسلمانوں کو دھوکہ دیا : اتم کمار

بارکس کے لئے فنڈس دینے محمد علی شبیر کا وعدہ ‘ پرانے شہر میں کانگریس کی انتخابی مہم کا عملاً آغاز
حیدرآباد ۔ 13 ڈسمبر ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے آج حیدرآباد کے پرانے شہر میں زبردست انتخابی ریالی نکالی اور چندرائن گٹہ سے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لئے اپنی مہم کا عملاً آغاز کر دیا ۔ اس موقع پر کانگریس قائدین نے کہا کہ پرانے شہر میں مجلس نے عوامی مسائل کی یکسوئی کے لیئے کوئی کام نہیں کیا ہے ۔ کانگریس کیڈر کی حوصلہ افزائی کرنے اور مجلس کی قیادت کی ناکامیوں کا پردہ فاش کرنے کی غرض سے کانگریس قائدین نے عہد کیا اور کہا کہ آنے والے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں پارٹی کو کامیاب بنایا جائیگا ۔ گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے چیرمین شیخ عبداللہ سہیل نے پرانے شہر میں پارٹی کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ کو اس ریالی کا مرکز بنایا ۔ وہ کانگریس کیڈر کو ایک مضبوط پیام دینا چاہتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم مجلس کے لیڈر اکبرالدین اویسی حلقہ میں اتنی بڑی ریالی اور انتخابی مہم چلا سکتے ہیں تو پرانے شہر کے دیگر حلقوں میں بھی مہم کو کامیاب بنانا یقینی ہے ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر این اتم کمار ریڈی ‘ قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر ‘ اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے چیرمین محمد فقیرالدین ‘ جی ایچ سی سی جنرل سکریٹری سید نظام الدین کے علاوہ اس بڑی ریالی اور روڈ شو کے دوران دیگر اعلی قائدین کے ساتھ شرکت کی ۔ بنڈلہ گوڑہ میں کارنر میٹنگس سے خطاب کرتے ہوئے  اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ہم نے پرانے شہر کی ترقی کے لئے مجلس کو موقع فراہم کیا تھا لیکن مجلس کے قائدین نے اپنے مفادات کے لئے کام کیا اور لاکھوں عوام کے مسائل کو نظر انداز کر دیا گیا ۔ پرانے شہر کے غریب عوام مجلسی قیادت میں نت نئے مسائل سے دو چار ہیں ۔ آج مجلس بی جے پی کے ساتھ خفیہ طور پر ہاتھ ملا چکی ہے ۔ ملک کے دیگر حصوں میں کانگریس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ ایم آئی ایم کے قائدین کے اصل ارادے کیا ہیں ۔ ہم نے انہیں سکیولر پارٹی سمجھا تھا لیکن وہ آستین کا سانپ نکلے اور فرقہ پرستانہ سیاست کو اختیار کرتے ہوئے  امن و سکون دھکا پہونچایا ۔ اب یہ پارٹی بی جے پی اور دیگر فرقہ پرست طاقتوں سے ہاتھ ملا چکی ہے ۔ قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیرنے مجلس پر تنقید کی اور کہا کہ اس نے پرانے شہر کی ترقی میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ مجلس نے 1961 ء میں پہلا میونسپل الیکشن جیتا تھا ۔ 1962 ء میں اسمبلی داخل ہوئی اور 1984 سے حیدرآباد لوک سبھا نشست پر مسلسل کامیاب ہوتے آ رہی ہے ۔گذشتہ 54  سال سے یہاں کی عوام کی نمائندگی کرنے کے باوجود پرانے شہر کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ ترقیاتی اقدامات کے لئے دیئے گئے فنڈس کو ذاتی اغراض کے لئے استعمال کیا ۔ اب مجلس بی جے پی کا دوسرا رخ بن چکی ہے اور اس فرقہ پرست پارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے درپردہ کام کر رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT