Saturday , October 20 2018
Home / شہر کی خبریں / !مجلس کا آئندہ انتخابات میں 25 اسمبلی نشستوں پر مقابلہ

!مجلس کا آئندہ انتخابات میں 25 اسمبلی نشستوں پر مقابلہ

اترپردیش و مہاراشٹرا کی طرز پر مقابلہ کیلئے پارٹی قیادت پر دباؤ
حیدرآباد۔19نومبر(سیاست نیوز) مجلس آئندہ انتخابات میں تلنگانہ کے 25 حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کرے گی؟ملک کی مختلف ریاستوںبہار‘ اترپردیش‘ مہاراشٹر‘ تمل ناڈو‘ میں جہاں جماعت نے انتخابات میں حصہ لیا وہاں پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے نئے قائدین کو اسمبلی کی نشست کے مقابلہ کا اہل تصور کرتے ہوئے انہیں ٹکٹ دیئے جا رہے ہیں تو جماعت کی بنیاد جس شہراور ریاست میں ہے وہاں کے قائدین کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے ؟ پارٹی قائدین جو برسوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں اب وہ انتخابی سیاست کا حصہ بننے کیلئے کمر کسنے لگے ہیں اور کہا جار ہا ہے کہ اس مرتبہ تلنگانہ میں 25 تا35 اسمبلی حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کیلئے پارٹی پر دباؤ ڈالا جائے گا کیونکہ جماعت نے مہاراشٹر میں پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے 24 امیدوار میدان میں اتارے تھے جن میں 2کامیاب ہوئے تھے اور 14 کی ضمانت ضبط ہوئی تھی ۔اسی طرح بہار میں پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے جماعت نے 6 امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا جن میں 5کی ضمانت ضبط ہوئی تھی اور کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہو پایا تھا۔ اترپردیش میں جماعت نے 38 نشستوں پر مقابلہ کیا لیکن ان میں سے کسی پر بھی کامیابی حاصل نہیںہوپائی اور تمل ناڈو میں جماعت نے دو امیدواروں کو میدان میں اتار ا لیکن یہاں بھی دونوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جماعت کے قائدین میں اس بات کا احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ جہاں جماعت کی بنیاد ہے اور 50 سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے وہاں سے کیوں جماعت امیدوار میدان میں اتارتے ہوئے کامیاب کروانے کی کوشش نہیں کرتی اور کیوں مقامی جماعت کی حیثیت سے شہر کی حد تک خود کو محدود کئے ہوئے ہے؟ اترپردیش میں پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے جماعت کے قائدین انتخابی مہم کے دوران ہیلی کاپٹر کا استعمال کرسکتے ہیں تو ریاست آندھرا پردیش و تلنگانہ میں انتخابی مہم کے دوران دوسرے امیدواروں کیلئے کیوں انتخابی مہم نہیں چلائی جا سکتی؟2014 عام انتخابات میں جماعت نے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں جملہ 35 امیدوار میدان میں اتارے تھے جن میں 25امیدواروں کی ضمانت بھی نہیں بچ سکی اور تلنگانہ میں صرف 7 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے بلکہ اس سے کافی زیادہ ارکان کے انتخاب کو ممکن بنایا جا سکتا تھا لیکن آئندہ انتخابات میں تلنگانہ کے مقامی قائدین جو جماعت سے وابستہ ہیں وہ چاہتے ہیں کہ جماعت بڑے پیمانے پر امیدوار میدان میں اتارے اور اترپردیش و مہاراشٹر کے طرز پر ہر امیدوار کے حق میں انتخابی مہم میں شدت پیدا کرے تاکہ ان کی کامیابی بھی ممکن بنائی جا سکے ۔ جماعت کے اعلی قائدین اس تذبذب کا شکار ہیں کہ کس طرح ان قائدین پر کنٹرول کیا جائے کیونکہ ملک کی دیگر ریاستوںمیں امیدواروں کو میدان میں اتارتے ہوئے ان کے حق میں زبردست انتخابی مہم چلائی جا چکی ہے اور اب جماعت کی اپنی ریاست میں جہاں صدر دفتر موجود ہے وہاں ایسی ہی انتخابی مہم چلانی ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ جماعت کے قائدین کا کہنا ہے کہ اگر 25تا35 نشستوں پر سنجیدگی کے ساتھ مقابلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں برسراقتدار جماعت کی حمایت سے محروم ہونا پڑے گا اور برسراقتدار جماعت پرانے شہر کی سمت رخ کرسکتی ہے ۔ رائے دہندوں کے علاوہ سیاسی تبصرہ نگاروں کا بھی ماننا ہے کہ اگر جماعت بڑی تعداد میں امیدوار تلنگانہ اسمبلی کیلئے میدان میں نہیں اتارتی ہے تو ایسی صورت میں جماعت کو اپنے مضبوط گڑھ میں عوامی تائید سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے کیونکہ عوام یہ ماننے لگیں کہ دیگر ریاستوںمیں جو امیدوار میدان میں اتارے گئے تھے وہ کسی مخصوص مقصد کے حصول کیلئے اتارے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT