Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / مجلس کے بلند بانگ دعوے لیکن %12 مسلم تحفظات پر خاموش

مجلس کے بلند بانگ دعوے لیکن %12 مسلم تحفظات پر خاموش

پرانے شہر کو پسماندگی کے دلدل میں ڈھکیل دیا، عوامی شعور اب بیدار ، کانگریس کی زبردست انتخابی مہم

حیدرآباد ۔ 21 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : ایسا لگتا ہے پرانے شہر کے بیشتر بلدی حلقوں میں کانگریس اور مجلس کے درمیان راست مقابلہ ہوگا ۔ اس بات کا اندازہ کانگریس میں شامل ہونے والے سینکڑوں کارکنوں سے لگایا جاسکتا ہے ۔ جن کا تعلق مجلس ، بی جے پی اور تلگو دیشم سے ہے۔ کانگریس نے آج اپنی انتخابی مہم میں جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے مجلس کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیا اور کہا کہ گذشتہ 40 سال سے ایم پی ، ایم ایل ایز ، کارپوریٹرس ، اسٹانڈنگ کمیٹی صدور نشین اور مئیر مجلس کے رہے ہیں تو پھر کیا مجلس پرانے شہر کی پسماندگی کے لیے ذمہ دار نہیں ہے ۔ کانگریس کی انتخابی مہم چلاتے ہوئے محمد علی شبیر اور پرانا پل کے کانگریسی امیدوار محمد غوث نے اپنے خطاب میں کہا کہ صدر مجلس پہلے حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کے عوامی مسائل حل کریں بعد میں ملک کے دوسرے ریاستوں کا دورہ کریں ۔ ان قائدین نے یہ بھی کہا کہ سابق صدر مجلس مرحوم سلطان صلاح الدین اویسی عوامی قائد تھے اور سنگھ پریوار سے کافی دور تھے تاہم موجودہ قیادت عوام سے دور اور سنگھ پریوار سے قریب ہوگئی ہے ۔ مجلس نے اپنے مفاد کی خاطر مسلم قوم کا سودا کیا ہے ۔ 4%مسلم تحفظات کی مخالفت کرنے والی مجلس جب عمل آوری کا وقت آیا تو ہمیشہ کی طرح اس کا سہرا اپنے سر لینے کی کوشش کی ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت سے قریبی تعلقات ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمانوں کی چمپئن ہونے کا دعویٰ کرنے والی مجلس 12 فیصد مسلم تحفظات کے تعلق سے سوال کرنا بھی مناسب نہیں سمجھ رہی ہے ۔ محمد علی شبیر نے آج صدر تلنگانہ یوتھ کانگریس کمیٹی انیل کمار یادو ، صدر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر شیخ عبداللہ سہیل گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری سید نظام الدین کے ساتھ کانگریس کے امیدوار شاہ علی بنڈہ محمد سہیل جنگم میٹ کے امیدوار راجندر اور گولی پورہ کی امیدوار مسز وانی پرانا پل کے امیدوار محمد غوث کے ساتھ آج لاڈ بازار ، روپ لال بازار ، سید علی چبوترہ ، شکر گنج ، شاہ علی بنڈہ ، لال دروازہ ، مہانکالی مندر ، گولی پورہ کے علاوہ پرانا پل کے مختلف علاقوں میں امیدواروں کے ساتھ پیدل دورہ کرتے ہوئے عوام سے فردا ًفرداًملاقات کی ۔ امیدواروں کا ان سے تعارف کراتے ہوئے کانگریس کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی ۔ اس موقع پر بی جے پی کے قائدین نے اپنے دو انتخابی آفس بند کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ۔ محمد علی شبیر اور محمد غوث نے سیاسی مفادات کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں کو خانوں میں بانٹتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے کا مجلس اور بی جے پی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بس اب بہت ہوگیا ہے ۔ فرقہ پرستی اور جھوٹی سیاست سے پرانے شہر کے عوام عاجز آچکے ہیں ۔ پرانے شہر تبدیلی چاہتے ہیں ۔ انہیں کانگریس بھروسہ مند اور متبادل پارٹی نظر آتی ہے کیوں کہ کانگریس ایک سیکولر جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے 10 سالہ دور حکومت میں گریٹر حیدرآباد کی ترقی کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپئے کے ترقیاتی و تعمیراتی کام انجام دئیے ہیں ۔ پرانے شہر کی ترقی اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے 2 ہزار کروڑ روپئے کا خصوصی بجٹ مختص کیا ہے ۔ مگر افسوس ہوتا ہے کہ مجلس نے اس کو ترقی کے لیے استعمال نہیں کیا ۔ آج بھی پرانے شہر کے عوام کئی مسائل سے دوچار ہیں ۔ انہیں پینے کے پانی ، ڈرینج ، سڑک جیسی بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہے۔ جگہ جگہ سڑکیں ادھوری کھودی ہوئی ہیں ڈرینج کا پانی سڑکوں پر ابل رہا ہے اور کچرے کے انبار پڑے ہوئے ہیں عوام میں شعور بیدار ہوچکا ہے ۔ زیادہ دنوں تک جذباتی نعروں سے قوم کا کھلواڑ نہیں کیا جاسکتا ۔ عوام جاگ گئے ہیں ۔ مجلس غفلت کی نیند سے بیدار ہوجائے ۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنا چھوڑ کر خود اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھ لیں ۔ اتنے لمبے عرصے تک پرانے شہر کے عوام نے ان پر بھروسہ کیا بدلے میں قیادت نے عوام کو کیا دیا ۔ تعلیم کی بدولت پرانے شہر کے عوام میں شعور بیدار ہوچکا ہے ۔ وہ صحیح اور غلط کا فرق محسوس کررہے ہیں ۔ مجلس کا اصلی چہرہ منظر عام پر آگیا ہے ۔ ملت اسلامیہ کا سودا کرنا بند کردیں ۔ پرانے شہر کے عوام معصوم ہیں باوجود کئی تکالیف کے مجلس کو کامیاب بنا رہے ہیں مگر کامیاب ہونے والے عوامی منتخب نمائندے مسائل لے کر ان سے رجوع ہونے والے عوام سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتے انتخابات کے بعد انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے ووٹوں سے کامیاب ہونے والی قیادت مسلمانوں کے تئیں ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے گھمنڈ اور تکبر کا شکار ہوگئی ہے ۔ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کے نام پر سچ کہا جائے تو سودا کررہی ہے ۔ محمد علی شبیر نے پدیاترا کے دوران راست عوام سے ملاقات کی ۔ دوکانات اور مکانات پہونچ کر مرد و خواتین سے ان کے مسائل دریافت کئے اور کانگریس کے امیدواروں کو کامیاب بنانے کی صورت میں مسائل کو حل کرانے کا یقین دلایا ۔ ایک مقام پر ایرانی چائے نوشی کی ۔ کانگریس قائدین کی پدیاترا سے کانگریس کارکنوں میں کافی جوش و خروش دیکھا گیا ۔ جگہ جگہ پر عوام نے کانگریس قائدین کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کی کثرت سے گلپوشی کی اور اپنی بستی کے مسائل سے انہیں واقف کرایا۔

TOPPOPULARRECENT