Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / مجلس کے سابق رکن اسمبلی کے فرزند کی کانگریس میں شمولیت

مجلس کے سابق رکن اسمبلی کے فرزند کی کانگریس میں شمولیت

ساجد شریف کی ڈگ وجے سنگھ سے ملاقات، مجلس پر پرانے شہر کو نظرانداز کرنے کا الزام
حیدرآباد /13 جنوری (سیاست نیوز) مجلس کے سابق رکن اسمبلی جناب افضل شریف کے فرزند و مجلس کے سرگرم قائد ساجد شریف نے آج گاندھی بھون پہنچ کر جنرل سکریٹری اے آئی سی سی و انچارج تلنگانہ کانگریس امور ڈگ وجے سنگھ سے ملاقات کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس موقع پر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے ساجد شریف کا تعارف کروایا، جب کہ ڈگ وجے سنگھ نے انھیں کانگریس کا کھنڈوا پہناکر کانگریس میں شامل کیا۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، قائد اپوزیشن اسمبلی کے جانا ریڈی، کانگریس کے رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ، صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس اقلیتی سیل شیخ عبد اللہ سہیل، جنرل سکریٹری آل انڈیا یوتھ کانگریس سید عظمت اللہ حسینی اور دیگر بھی موجود تھے۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ساجد شریف نے کہا کہ ان کے والد اور وہ خود مجلس کے ساتھ طویل عرصہ تک رہے اور بڑی دیانتداری سے کام کیا، مگر مجلس میں وفاداروں کی کوئی عزت نہیں ہے، صرف جی حضوری کرنے والوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ صرف عوامی خدمت کے جذبہ کے تحت کام کر رہے تھے، مگر مجلس پرانے شہر کو ترقی دینے کے حق میں نہیں ہے، جس کا ثبوت میٹرو ریل کو پرانے شہر میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پرانے شہر کے غریب مسلمان مزید غریب ہو رہے ہیں، لیکن ان کی ترقی کے لئے اب تک کوئی پروگرام نہیں تیار کیا گیا، اسی لئے وہ مجلس چھوڑکر کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں۔ کانگریس میں شمولیت کی وجہ پوچھنے پر انھوں نے کہاکہ کانگریس ایک سیکولر جماعت ہے، جس نے پرانے شہر کی ترقی کے لئے دو ہزار کروڑ روپئے کا پیکیج دے کر فلائی اوورس اور سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ ڈرینج نظام کو بہتر بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی وجہ سے غریب مسلم بچوں کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا، جب کہ اسکالر شپس اور فیس باز ادائیگی اسکیم سے مسلم بچوں کو کافی فائدہ پہنچا۔ کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ساجد شریف نے کہا کہ وہ آج ہی کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے ہیں، تاہم پارٹی جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اس پر عمل کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT