Thursday , August 16 2018
Home / ہندوستان / مجوزہ ایف آر ڈی آئی بل حقیقی ڈکیتی کے مماثل

مجوزہ ایف آر ڈی آئی بل حقیقی ڈکیتی کے مماثل

فینانس بل قانون کی شکل اختیار کرنے کے بعد عام آدمی اپنے ہی پیسوں سے محروم ہوں گے:شانتا رام نائک
پاناجی۔20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) گوا کانگریس سربراہ شانتا رام نائک نے مجوزہ فینانس بل (ایف آر ڈی آئی) 2017ء کو عام آدمی کے بینک اکائونٹ پر ’’حقیقی ڈکیتی‘‘ سے تعبیر کیا۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نائک نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت مجوزہ ایف آر ڈی آئی بل 2017ء کے ذریعہ عام آدمی کے بینک اکائونٹ پر شب خون مارنے کی تیاری کررہی ہے۔ وہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ایف آر ڈی آئی بل کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بیان دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بل قانون کی شکل اختیار کرلیتا ہے تو حکومت آپ کے اکائونٹس اور چیک پر اپنے طریقہ سے استعمال کرنے کا حق حاصل کرلے گا اور وہ جب چاہے گی آپ کے بچت کھاتے سے رقم حاصل کرلے گی۔ گویا آپ کی قسمت اور آپ کے اولاد کی قسمت خطرے میں ہے اور بینک عہدیدار آپ کے ساتھ بھکاریوں کی طرح پیش آئے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس قانون سازی کے ذریعہ بی جے پی حکومت ان بینکوں اور صنعتکاروں کی مدد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جو بہت زیادہ قرضوں تلے دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مالیاتی اداروں، بینکس اور اسی طرح کے دوسرے مالیاتی اداروں کو غریب مزدور، کسانوں، چھوٹے تاجروں اور تنخواہ دار ملازمین کی محنت کی کمائی کو انتہائی چالاکی کے ساتھ منتقل کردینا چاہ رہی ہے۔ دراصل مجوزہ فینانس بل مالیاتی اداروں جیسے بینکس، انشورنس کمپنیز، نن بینکنگ ، مالیاتی سرویسس جیسے کمپنیز کی دیکھ ریکھ کے لیے ایک مناسب ڈھانچہ تیار کرے گا جس کے تحت اس قانون کے ذریعہ مذکورہ مالیاتی اداروں کی دیوالیہ پن کا شکار ہونے کی صورت میں حکومت دیکھ بھال کرے گی۔ ریزولیشن کارپوریشن نے مجوزہ طور پر اس بل میں ایسے نکتے شامل کیے ہیں جس کے تحت وہ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کو دیوالیہ ہونے سے بچاپائے گا جس کے تحت وہ واجبات کو منسوخ یا اس میں کمی کرتے ہوئے بینک کو دیوالیہ پن کا شکار ہونے سے روکا جاسکے گا۔ تاہم اس بل کے حوالے سے ماہرین معاشیات نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ خصوصاً انہیں عام آدمی کے سیونگ اکائونٹ میں ہونے والے نقصانات کو نظرانداز کیے جانے اور عام آدمی کے مفادات سے چشم پوشی اختیار کیے جانے کا اظہار کیا ہے۔ اسی نکتہ پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شانتا رام نائک نے اس بل کو حقیقی ڈکیتی سے تعبیر کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT