Saturday , April 21 2018
Home / Top Stories / مجھے اقتدار کا لالچ نہیں ، سعودی عرب سے بدعنوانیوں کا خاتمہ مقصود

مجھے اقتدار کا لالچ نہیں ، سعودی عرب سے بدعنوانیوں کا خاتمہ مقصود

’’اصلاحی اقدامات کو شاہی خاندان کے اہم افراد کی حمایت ، ہمارا ملک 80ء کے دہے سے کرپشن سے دوچار ‘‘

دوبئی ۔ 25 نومبر۔(سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان ادعاجات اور الزامات کو مسترد کردیا کہ مملکت سعودی عرب میں رشوت ستانی کے خلاف جاری کارروائیوں کے پیچھے اقتدار کی لالچ ہے۔ اس کارروائی میں شاہی خاندان کی کئی اہم شخصیتوں کو گرفتار کیا گیا ۔ انھوں نے کہاکہ مجھے اقتدار کی لالچ نہیں ہے اور اس طرح کے تبصرے طفلانہ نوعیت کے ہیں۔ میں سعودی عرب کو بدعنوانیوں سے پاک بنانا چاہتا ہوں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ عوامی استغاثہ کو یقین ہے کہ اس کارروائی کے ذریعہ 100 ملین امریکی ڈالر کی رقم برآمد کی جائے گی ۔ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ریاض رٹز کارلٹن میں جنھیں گرفتار کیا گیا ان میں سے کئی نے میرے سے اتحاد کیا ہے اور مجوزہ اصلاحات و اقدامات کو شاہی خاندان کے اہم افراد کی مکمل حمایت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا ملک 1980 ء کے دہے سے اب تک شدید رشوت ستانی کا شکار رہا ہے ۔ ہمارے ماہرین کے اندازہ کے مطابق تمام حکومت کے کاموں کا 10 فیصد حصہ محض ہر سال رشوت کی وجہ سے التواء کا شکار رہا ہے ۔ نیچے سے اوپر تک رشوت کا بازار گرم ہے ۔ کئی برس سے حکومت نے رشوت کے خلاف جنگ شروع کی ہے لیکن اس میں ناکام رہی ہے کیوں کہ یہ رشوت کا معاملہ نیچے سے اوپر تک پھیلا ہوا تھا ۔ انھوں نے کہاکہ جب ان کے والد شاہ سلمان نے جو کسی بھی بدعنوانی سے پاک ہیں اقتدار پر آئے تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب ملک کو اس لعنت سے پاک بنانا ہی ہوگا ۔ رشوت کا پتہ چلانے کیلئے ان کی تشکیل کردہ ٹیم نے معلومات اکٹھا کر درست ثبوت جمع کئے ہیںجس کے بعد ہی کارروائی کی گئی ۔

ہم نے بدعنوانیوں میں ملوث 200 ناموں کی فہرست تیار کی ہر ایک شخص کھرب پتی ہے اور اس ملک کا شہزادہ ہے انھیں گرفتار کرکے ان کے سامنے ثبوت پیش کئے گئے اور انھیں اپنا موقف درست کرنے کا موقع دیا گیا تو یہ لوگ راضی ہوگئے اور 95 فیصد نے ہماری مہم سے اتفاق کیا اور سعودی اسٹیٹ ٹریژری کو اپنی تجارت میں سے حصہ یا رقم دینے سے بھی اتفاق کیا ۔ گرفتار شدہ افراد میں سے صرف ایک فیصد لوگ ہی بے قصور پائے گئے جبکہ ماباقی 4فیصد نے زور دیا کہ وہ رشوت خورت نہیں ہیں اور اپنے وکلاء کے ساتھ عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ۔ انھوں نے کہا کہ رشوت کو مکمل طورپر ختم کرنا ممکن بھی نہیں ہے لیکن جاریہ مہم نے یہ اشارہ دیدیا ہے کہ اب بچ کر نکلنے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہے ۔ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ستائش کی اور کہا کہ درست وقت میں ایک صحیح صدر آیا ہے ۔ سعودی عرب دھیرے دھیرے اپنے حلیف ملکوں سے اتحاد کرکے ایران کے خلاف ایک مضبوط موقف بنایا جائے گا ۔ انھوں نے ایران کے عظیم رہنما آیت اﷲ خامنہ ای کو مشرق وسطیٰ کا نیا ہٹلر قرار دیا اور مزید کہا کہ ہم نے یوروپ سے سبق لیا ہے کہ خوشامدی سے کام نہیں چلے گا ہم نہیں چاہتے کہ ایران میں ایک نیا ہٹلر پیدا ہوجائے اور یوروپ میں جو کچھ ہوا اس کا مشرق وسطیٰ میں اعادہ ہوجائے ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آخر وہ اس قدر سختی سے اصلاحات کا عمل شروع کیوں کررہے ہیں انھوں نے جواب دیا کہ مجھے ڈر ہے کہ ایک دن مجھے مرنا ہے اور میں اپنے ذہن میں جو کچھ منصوبے رکھتا ہوں انھیں پورا کئے بغیر ہی فوت ہوجاؤں گا ؟ زندگی مختصر ہے لیکن تبدیلی کا عزم اپنی حیات سے بلند ہے۔

ولیعہد محمد بن سلمان ، حقیقی سعودی تشخص کے ترجمان
ریاض ۔ 25 نومبر۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے معروف قلمکار اور اعلیٰ ترین تین عالمی ایوارڈ یافتہ مشہور امریکی صحافی تھامس فریڈسن کے ساتھ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے تہلکہ خیز انٹرویو نے سعودی عرب میں دھوم مچادی ہے ۔ پوری دنیا میں اس انٹرویو میں مذکورہ حقائق اور خیالات سے گہری دلچسپی لی گئی ۔ مقامی سعودی شہریوں نے امریکی صحافی کے اس خیال سے بھرپور اتفاق کیا کہ شہزادہ ولیعہد محمد بن سلمان نہ صرف یہ کہ سعودی تشخص کے ترجمان ہیں بلکہ اس ملک کی بھرپور شکل میں نمائندگی کرتے ہیں۔ اور سعودی عرب کو اُجاگر کریں گے ۔ اعتدال پسند اسلامی شخصیت کو منظرعام پر لانے کا اہتمام کریں گے ۔ سعودی عوام کا کہنا ہیکہ محمد بن سلمان سعودی عرب کے حقیقی ترجمان ہیں۔ ایک 28 سالہ سعودی خاتون نے بتایا کہ اس نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان کا موقف مضبوط اور طاقتور معلوم ہوتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں ’’ہم انتہاپسندی کو ختم کریںگے ۔ وہ سادہ زبان استعمال نہیں کرتے ان کی بات چیت سے اندازہ ہوتا ہیکہ وہ حقیقی تبدیلی لارہے ہیں ۔ ایک سعودی بینکار نے کہاکہ 1979ء کے بعد ہماری نسل یرغمال بنالی گئی تھی اب مجھے لگتا ہے کہ میرے بچے یرغمال نہیں ہوں گے ۔

TOPPOPULARRECENT