Thursday , December 13 2018

مجھے انصاف چاہئے ، ایک مظلوم باپ کی التجا

نظام آباد۔ 21جنوری( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) محمد عبدالستار ساکن متوطن محلہ مالاپلی نظام آباد نے ایک مکتوب میں بتایا کہ میرے فرزند عبدالرزاق مسعود جسے 2000ء تا 10؍اکٹوبر 2012ء تک مختلف دفعات بشمول پوٹا کے تحت دبئی سے گرفتار کیا گیا اور وہاں سے ایران لیجاکر 4سال تک قید وبند کی صعوبتوں میں رکھا گیا مختلف نمائندگیوں کے بعد ایران کے سفارتخانہ ک

نظام آباد۔ 21جنوری( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) محمد عبدالستار ساکن متوطن محلہ مالاپلی نظام آباد نے ایک مکتوب میں بتایا کہ میرے فرزند عبدالرزاق مسعود جسے 2000ء تا 10؍اکٹوبر 2012ء تک مختلف دفعات بشمول پوٹا کے تحت دبئی سے گرفتار کیا گیا اور وہاں سے ایران لیجاکر 4سال تک قید وبند کی صعوبتوں میں رکھا گیا مختلف نمائندگیوں کے بعد ایران کے سفارتخانہ کی مدد سے 2005ء میں ہندوستان منتقل کیا گیا

میرے فرزند کو حیدرآباد لانے کے بجائے دہلی میں اتارکر 20 دنوں تک شدید تکالیف پہونچائی گئیںاور سفید کاغذات پر دستخط لیکر چیرالہ پلی جیل میںمحروس رکھتے ہوئے دلسکھ نگر کیس میں ماخوذ کیا گیا دو سال کی طویل ترین قانونی کاروائیوں کے بعد 2لاکھ روپئے کی ضمانت پر رہائی عمل میں لائی گئی اور یہ شرط عائد کی گئی کہ میرا لڑکا عبدالرزاق مسعود حیدرآباد میں قیام پذیر رہے اس شرط کی وجہہ سے مجھے ماہانہ 15000/- روپیہ کا خرچ و زائد برداشت کرنا پڑا اس دوران پولیس کیس کی وجہہ سے میرے فرزند کو کہیں بھی نوکری کرنیکا موقع نہیں ملا مسلسل آٹھ سال تک تمام اخراجات ہم باوجود ضعیفی کے ادا کرتے رہے مزید دو سال کا عرصہ گذرگیا اس طرح مکمل 10سال کا وقت گذر گیا

مذکورہ بالا دس سالہ عرصہ میں میرے فرزند عبدالرزاق مسعود پر کسی قسم کا جرم ثابت نہیں ہوا بغیر مقدمہ چلاتے ہوئے پولیس کی حراست میں میرے فرزند کا خودکشی کے ذریعہ قتل کردیا گیا اور انصاف کا خون ہوگیا پولیس نے خودکشی کی تشہیر کی 10اکٹوبر 2012ء کو اطلاع دی گئی کہ عبدالرزاق مسعود نے پھانسی لے لی ہے پنچنامہ کے وقت بھی مجھے اطلاع نہیں دی گئی میری اپیل ہے کہ میرے فرزند کے قتل کے واقعہ کی CBI سے تحقیقات کروائی جائے یا جوڈیشل تحقیقات کی جائے۔ میرے فرزند کے مسئلہ میں 50لاکھ روپئے کے اخراجات ہوئے ہیں جس کو میں باوجود پیرانہ سالی لوگوں سے قرض حسنہ حاصل کیا ہوں اور مجھے یہ قرض ادا کرنا فرض ہے ان تمام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ارباب اقتدار سے نمائندگی کرتے ہوئے میری مصیبت کو ختم کرنے کیلئے حکومت سے امداد منظور کروائی جائے تو مہربانی ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT