Friday , February 23 2018
Home / شہر کی خبریں / مجھے شکست دینے ٹی آر ایس کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا: ریونت ریڈی

مجھے شکست دینے ٹی آر ایس کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا: ریونت ریڈی

9 ڈسمبر کو گاندھی بھون سے نئی سیاسی اننگز کا آغاز، تلگودیشم سے کانگریس میں شامل ہونے والے قائد کا ردعمل
حیدرآباد 26 نومبر (سیاست نیوز) تلگودیشم سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شامل ہونے والے ریونت ریڈی نے کہاکہ وہ پہلی مرتبہ 9 ڈسمبر کو کانگریس پارٹی کے ریاستی ہیڈکوارٹر گاندھی بھون پہونچ کر اپنی نئی سیاسی اننگز کی شروعات کریں گے۔ کوڑنگل میں اپنے حامیوں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہاکہ حکمراں ٹی آر ایس اور ریاستی وزراء اسمبلی حلقہ کوڑنگل میں ان کے حامیوں کو ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے انھیں سیاسی طور پر کمزور کرنے کا عوام میں پیغام پہونچا رہے ہیں یہ ان کی مجرمانہ غفلت ہے اور ٹی آر ایس کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا کیونکہ جنھیں ٹی آر ایس میں شامل کیا جارہا ہے وہ سب ان کے کٹر حامی ہیں۔ تختہ کس طرح اُلٹا ہوتا ہے اس کا بہت جلد ٹی آر ایس کو اندازہ ہوجائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ ان کا صرف ایک مقصد ہے وہ کے سی آر کو چیف منسٹر کے عہدے سے بیدخل کرنے کے لئے کانگریس میں شامل ہوئے ہیں، ان کے پاس اس کا منصوبہ موجود ہے۔ دہلی پہونچ کر کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی سے ملاقات کرتے ہوئے کانگریس میں شامل ہونے والے ریونت ریڈی ابھی تک گاندھی بھون نہیں پہونچے۔ انھوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران کہاکہ صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی کی سالگرہ کے موقع پر وہ پہلی مرتبہ گاندھی بھون پہونچیں گے اور پارٹی کی ہدایت پر وہ کانگریس پارٹی کو مستحکم کرنے کے لئے کام کریں گے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ 9 ڈسمبر کے بعد ٹی آر ایس کی ساری سرگرمیاں ان کی ارد گرد گھومیں گی۔ وہ حکومت کی ناکامیوں، عوام سے کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کے ساتھ طلبہ، بے روزگار نوجوان اور خواتین کے ساتھ جو انصافیاں ہوئی ہیں اس کے خلاف جدوجہد کریں گے۔ سب سے پہلے اپنے اسمبلی حلقہ کے ہر منڈل میں دو دن تک قیام کرتے ہوئے عوامی مسائل سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے اس کی یکسوئی کے لئے حکومت پر دباؤ بنائیں گے اور ہر گاؤں میں کانگریس کا پرچم لہراتے ہوئے کانگریس پارٹی کو مستحکم کریں گے۔ انھوں نے کہاکہ ٹی آر ایس حکومت تمام شعبوں میں ناکام ہوچکی ہے۔ وزراء دستوری ذمہ داریاں نبھانے اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے بجائے سارا وقت دوسری جماعتوں کے قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے پر ضائع کررہے ہیں۔ وہ ریاست میں کانگریس پارٹی کو اقتدار میں لانے اور راہول گاندھی کو وزیراعظم بنانے کیلئے ہرممکن کوشش کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT