Tuesday , August 21 2018
Home / مضامین / مجھے مما پاس جانا ہے

مجھے مما پاس جانا ہے

محمد مصطفی علی سروری
اتوار کی رات تھی اور رات کے سوا بجے تھے ، احمد بھائی اپنے پڑوسی کی لڑکی کی شادی سے واپس لوٹ کر سوگئے تھے ۔ احمد بھائی کو اگلے دن دکان کھولنے خود ہی جانا تھا ، ان کے ہاں کام کرنے والا لڑکا ہفتہ کوہی اطلاع کردیا تھا کہ پیر کی صبح وہ دکان پر دیر سے آئے گا۔ احمد بھائی کے پڑوسی فلیٹ میں رہنے والے صاحب نے ان سے بہت اصرار کیا تھا کہ آپ کے بہت سارے احسانات ہیں اور آپ کا ہمیشہ سے تعاون رہا ہے ۔ اب اللہ کے کرم سے بچی کی شادی ہورہی ہے اور یہ میری نہیں آپ کی بچی کی شادی ہے ۔ آپ کو ضرور حاضر رہنا ہے ۔ احمد بھائی مجبور تھے ، پیرکے دن ان کے بچوں کا اسکول بھی تھا۔ انہوں نے اپنی بیگم کو بھی بتلا دیا تھا کہ شادی میں تحفہ کا لفافہ پہلے دے دینا اور اول دسترخوان پر کھانا کھاکر جلدی واپس آجانا ہے ۔ خیر سے رات ساڑھے گیارہ بجے کھانے سے فارغ ہوکر احمد بھائی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ واپس گھر آچکے تھے اور سردیوں کی رات میں جلد ہی سونے بھی چلے گئے تھے ۔ رات کے سوا ایک بجے ڈور بیل (Door Bell) کی آواز پر وہ چمک گئے لیکن ان کی بیوی نے بتلایا کہ دیکھو باہر کوئی ہے ۔ انہوں نے کمرے کی لائیٹ کھولی اور موبائیل فون اٹھاکر ٹائم دیکھا تو رات کے سوا بجے تھے اور مو بائیل میں دو Miss Calls بھی تھے ۔ جب غور سے دیکھا تو وہ Miss Call کسی اور کے نہیں بلکہ اسی پڑوسی فلیٹ والے صاحب کے تھے جن کی لڑکی کی شادی میں وہ ہوکر آئے تھے ۔ خیر آگے بڑھ کر دروازہ کی (Magic Eye) سے باہر دیکھا تو پڑوسی تھے، گود میں اپنی نواسی نیہا کو اٹھائے کھڑے تھے اور نیہا کے رونے کی اور ہچکیاں لینے کی آواز مسلسل سنائی دے رہی تھی ۔ پڑوسی نے پہلے تو احمد بھائی سے معافی چاہی کہ اتنی رات کو وہ ڈسٹرب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ موبائیل پر بھی دو مرتبہ کال کرچکے تھے، فون نہیں اٹھائے تو مجبواً کال بل دبانا پڑا۔ اب انہوں نے معافی چاہتے ہوئے کہا احمد بھائی ذرا آپ کے پاس بچوں کی کوئی ایسی دوا ہو تو دیجئے جس کو پی کر بچے سو جاتے ہیں، نیہا کو پلانی ہے۔ احمد بھائی نے خیریت پوچھی تو انہوں نے کہا کہ آپ کو تو سب معلوم ہے ، آپ سے کیا چھپانا ۔ نیہا امی کے پاس جاتی بولکر روتی جارہی ہے اور رو کر برا حال ہے ، کوئی دوا بچوں کی ہے تو پلادو بولکر بچی بولی تھی مگر دوا کہاں ہے نہیں مل رہی ہے ۔ آپ کے پاس بھی بچے ہیں ، دوا مل جاتی بولکر زحمت دیا ۔ بچی کو اب تو ہچکیاں لگ گئی تھی ۔ احمد بھائی کی بیوی دروازے کی اوٹ سے ساری باتیں سن رہی تھی ، دوڑ کر گھر کے اندر گئی اور ایک دوا کی شیشی تو لادی مگر کہنے لگی بھائی صاحب آپ بولے تو میں بچی کو سلانے کی کوشش کرتی ہوں مگر جیسے ہی احمد بھائی نے اپنے پڑوسی کے کاندھے سے نیہا کو اپنی گود میں لیا ، اس کی رونے کی آواز مزید بڑھ گئی ۔ احمد بھائی یہ دیکھ کر لڑکی اس کے نانا کو واپس کردئیے اور ساتھ میں دوا کی شیشی بھی دے دی جو ایک بچوں کے ڈاکٹر نے لکھا تھا کہ رات میں پلادو بچے اچھی نیند سوجاتے ہیں ۔ نیہا کے نانا روتی نواسی کو کاندھے پر لئے واپس پلٹ گئے ، ان کی آنکھوںمیں بلا کی تھکن اور چہرے پر گہری فکر طاری تھی ۔

احمد بھائی کی آنکھوں میں نیہا کی حالت دیکھ کر آنسو ہی آگئے تھے ، وہ اپنی جذباتی کیفیت کو چھپانے باتھ روم چلے گئے ۔ وضو کر کے باہر نکلے تاکہ بیگم کو ان کی حالت کا پتہ نہ چل سکے ۔ باہر کیا دیکھتے ہیں ، وہ بیگم جو جلدی سوجانے اور صبح کے کاموں کا ذکر کر رہی تھی ، ان سے پہلے ایک مصلیٰ بچھائے کھڑی تھی ۔ احمد بھائی کا نیہا کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں تھا ، ہاں نیہا کے نانا ان کے پڑوسی فلیٹ میں رہتے تھے اور نیہا کی ماں کو اس کے شوہر نے یہ کہہ کر طلاق دے دی تھی کہ تم میری پسند نہیں ہو۔ امی نے تمہیں پسند کیا تھا ، اس لئے مجبوراً میں نے شادی کرلی۔ اب امی خود اس دنیا میں نہیں رہی ، مجھے تمہارے ساتھ زندگی بھر نہیں رہنا ہے ۔ نیہا کے والد نے آسٹریلیا میں ہی ایک پاکستانی نژاد لڑکی سے شادی کرلی اور نیہا کی والدہ کو طلاق دیدی ۔ نیہا کی عمر تقریباً دو سال کی تھی جب وہ اپنی ماں کے ساتھ ہمیشہ کیلئے اپنے نانا کے گھر آگئی تھی اور گزشتہ دو برسوں کے دوران وہ اپنے نانا کے ہاں ہی رہ رہی تھی ۔ احمد بھائی کو اکثر نیہا کے نانا بتلاتے تھے کہ بھائی صاحب کیا کروں ، میری عمر گزرتی جارہی ہے اور گھر میں سب کچھ تو ہے مگر میری لڑکی کو میں کب تک بٹھاکر رکھوں۔ دوسری شادی کرنے کیلئے بھاگ دوڑ کر رہا ہوں ، مگر کوئی بھی نیہا کو قبول کرنے تیار نہیں بلکہ رشتے لگانے والے افراد اور اداروں نے مجھے واضح کردیا کہ ارے صاحب ایسے سینکڑوں مثالیں ہیں اور کئی لڑکیاں ہیں جو اپنے بچوں کو اپنے والدین کے بھروسے چھوڑ کر دوسری شادی کر کے سیٹ ہوگئی ہیں ۔ نیہا کی ماں پہلے تو دوسری شادی کیلئے تیار ہی نہیں ہورہی تھی ، اس کا کہنا تھا کہ وہ بی ایڈ کا کورس کر کے ٹیچنگ کرلے گی اور کسی پر بوجھ نہیں بنے گی ۔ پھر جیسے جیسے نیہا کی نانی کی طبیعت خراب رہنے لگی ، ویسے ویسے نیہا کی ماں نیم رضامند ہوتی گئی لیکن ایسا کوئی مرد نہیں ملا جو نیہا کی ذمہ داری لیتے ہوئے نیہا کی ماں سے نکاح کرے اور نیہا کے نانا نے ہاتھ پاؤں جوڑ کر اپنی بیٹی کو سمجھایا بجھایا اور یقین دلایا کہ نیہا اب ان کی ذمہ داری ہے ۔ یہی نہیں وہ تو اپنا ایک ذاتی فلیٹ بھی نیہا کے نام پر محفوظ کرنے کا وعدہ کرچکے ہیں۔

احمد بھائی کے نفل نماز کے بعد دعا کیلئے ہاتھ اٹھے تو دعا کیا مانگیں انہیں سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا ۔ نیہا کی آواز مجھے مما پاس جانا ہے ، ان کے کانوں میں گویا اٹک سی گئی تھی ۔ نیہا اس کی مما پاس چلی جائے وہ ایسی دعا نہیں مانگ سکتے تھے ۔ اب تو کچھ دنوں تک نیہا کی ممی بھی نیہا کے پاس نہیں آسکتی تھی۔ احمد بھائی نے دیر تک اپنے دونوں ہاتھ دعا کیلئے اٹھائے رکھے ، زبان پرکچھ نہیں تھا ہاں آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ انہیں نیہا کی فکر تو ہوئی مگر ساتھ ہی دل میں اپنے بچیوں کیلئے بھی طرح طرح کے خیالات تھے اور جب پیچھے سے ان کی بیگم کی آواز آئی کہ کیا ہوا نماز نہیں ہوئی ، صبح دکان کو جلدی جانا ہے ۔ بولے تھے نا تب وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھرتے ہوئے اپنے آنسو پوچھنے کی کوشش کرنے لگے۔ پھر بیگم نے کہا ذرا سامنے جاکے دیکھئے نا ؟ نیہا کی رونے کی آواز تو بند ہوگئی پھر خود ہی کہنے لگی نیند آگئی ہوگی اس کو چلو رہنے دو صبح میں پوچھ لوں گی۔
اس سارے قصے میں احمد بھائی کا اور نیہا کا نام میں نے بدل دیا اور کچھ بھی تو نہیں بدلا ، اس ساری کہانی کو میں نے بالکل ویسے ہی بتانے کی کوشش کی جیسا مجھے بتلایا گیا تھا ۔ کیا یہ کوئی اپنی طرح کا اکلوتا واقعہ ہے ؟ کیا یہ اپنی نوعیت کا ایک ہی مسئلہ تھا ؟ اس سارے قصے میں کس کو بڑا بولوں ، کس پر رحم کروں ، کچھ بھی تو سمجھ میں نہیں آتا۔ نیہا کی ماں سے شادی کرنے والے پہلے لڑکے پر غصہ آرہا تھا کہ آخر اس نالائق کو ایسی حرکت کرنے کا خیال کیسے آیا کہ بچی ہونے کے بعد بھی کس طرح اپنی بیوی کو چھوڑ دیا ؟ پھر میں سوچنے لگا کہ آخر اس لڑکے کی ماں کو زبردستی کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟ جب لڑکا آسٹریلیا میں رہنے لگا تھا اور وہاں کما رہا تھا تو اس سے بھی پوچھ لیتے ؟ لیکن اب کیا کریں جن کو دنیا چھوڑ کر جانا تھا ، وہ تو چلے گئے اور جس کو ماں کی پسند کی فکر نہیں وہ لڑکا اب واپس آسٹریلیا میں اپنی پا کستانی نژاد بیوی کے ساتھ ہے۔ آخر نیہا کا قصور کیا ہے ، دو سال میں باپ کے پیار سے محروم ہوگئی ، چار سال میں ماں کی دوسری شادی ہوئی اور وہ بھی دور ہوگئی ۔ کیا مجھے نیہا کی ماں سے دوسری شادی کرنے والے نوجوان پر غصہ کرنے کا حق ہے ؟ وہ تو اپنے نزدیک معلوم نہیں کیا کیا سوچ رہا ہوگا ، میں ایک ایسی لڑکی سے شادی کر رہا ہے جس کو پہلے شوہر نے چھوڑ دیا ہے اور ایک مطلقہ سے شادی کرنے سے بڑا نیک کام کیا ہوگا ؟

آسٹریلیا والا لڑکا بھی سوچ رہا ہوگا کہ میں اپنی بوڑھی ماں کی خوشی کی خاطر شادی کیلئے تیار ہوا تھا ۔ میں اپنی ماں کو منع نہیں کر سکتا تھا لیکن ماں کو خوش کرنے والا یہ کیوں بھول جاتا کہ وہ ایسا بھی کرسکتا تھا کہ خدا بھی خوش ہوجاتا ؟
قارئین آپ کیا سوچتے ہیں اس معاملے پر کیا آپ نیہا کا رونا دیکھتے تو آپ خاموش ہوجاتے ؟ کیا ہم یہ دنیا کا اصول ہے کہہ کر نیہا کے مسئلہ کو نظر انداز کرسکتے ہیں۔ مسلم سماج میں شادیاں ہی نہیں شادیوں کے بعد کے مسائل بھی سنگین سے سنگین تر ہوتے جارہے ہیں اور طلاق یا میاں بیوی کے درمیان علحدگی کے معاملے بڑھتے جارہے ہیں اور اب تو ایسے بچوں کی اچھی خاصی تعداد ہوگئی ہے جو اپنے ماں باپ سے دور رہ کر نانا ، نانی کی زیر پرورش بڑے ہورہے ہیں۔ ان بچوں کی نفسیات کیسی ہوگی ، ان کے معصوم ذہنوں پر کس طرح کے اثرات پڑ رہے ہوں گے، لیکن مجھے کیا ؟ میرا تو نیہا سے کوئی رشتہ نہیں ہے ۔ ارے زمانے میں بہت سارے لوگ پریشان ہیں۔ ایسے سینکڑوں نہیں ہزاروں کہانیاں ہے۔ یہاں ملک کے مسلمانوں کو فرقہ پرستی کے بڑھتے ہوئے زہریلے ماحول کا سامنا ہے۔ گجرات اسمبلی انتخابات پر سب کی نظر لگی ہوئی ہے ۔ ادھریروشلم کو غاصب اسرائیل کا دارالحکومت کو امریکہ نے تسلیم کرلینے کا اعلان کر کے دنیا بھر کے مسلمانوں کو غم و غصہ میں مبتلاکردیا۔ راجستھان میں افرازول کو زندہ مار کر جلا دیا گیا ۔ اتنے اہم قومی ملی اور ایمانی مسائل کو چھوڑ کر آپ ایک نیہا کا مسئلہ لیکر بیٹھ گئے ۔ قارئین اکرام میری دانست میں ہمیں نیہا اور اس جیسے بچوں کے متعلق بھی سوچنا ہوگا ، یہ بھی ہماری ہمدردی کے مستحق ہیں۔ ایسے حالات پیدا نہ ہوں جہاں ماں باپ کے پیار کیلئے ان کی زندگی میں ہی ان کے بچوں کو تڑپنا پڑے اس کیلئے ہمیں کام کرنا ہوگا۔ کیا ہی بہتر نہیں کہ ہم شادیوں سے پہلے ہی ہر دو لڑکا اور لڑکی کی کونسلنگ کو لازمی بنالیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT