Saturday , November 25 2017
Home / مضامین / مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں

مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں

محمد مصطفے علی سروری
’’ہیلو کون بول رہے ہیں، اچھا آپ ہی رپوٹر صاحب ہیں۔ بھائی صاحب آپ کا بھی نام مسلمان ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے یہ اچھی بات نہیں ہے کہ ایک مسلمان بچی مرگئی تو اپنی خبر میں اس کی فوٹو ڈالنا۔ آپ ہی بولو، اوردیکھو میں آپ کو سمجھاروں کہ ذرا مرگئی سو بچی کی فوٹو نکالدوبچی کا معاملہ ہے بدنامی ہوتی ورنہ دیکھو اچھا نہیں ہونگا۔‘‘ یہ تو ایک رپورٹر کو آنے والی کال کا احوال تھا جو ہمارے ایک شناسا نے ہمیں بتلایا۔
قارئین کرام آپ لوگ سونچ رہے ہونگے کہ یہ سارا قصہ کیا ہے اور کیوں ہم نے اپنے کالم کے آغاز میںایک رپورٹرکو کی جانے والی کال کی تفصیلات بتلانی ضروری سمجھی۔
تفصیلات کے مطابق پُرانے شہر حیدرآباد کی ایک مسلمان لڑکی /5 جون کو اپنے گھر والوں سے بغیر بتلائے کہ چلی جاتی ہے۔ پولیس کے حوالے سے اخبار ’’ تلنگانہ ٹوڈے ‘‘ نے /8جولائی کو خبر دی ہے کہ ممبئی جاکر ماڈل بننے کی خواہش مند یہ لڑکی جب /5 جولائی کو گھر سے غائب ہوجاتی ہے تو اُس کے والدین پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرواتے ہیں، اگلے دن پولیس کو پتہ لگتا ہے کہ لڑکی ممبئی جانے کے ارادے سے نامپلی میں ہے، پولیس لڑکی کو پکڑ کر پولیس اسٹیشن لاتی ہے اور پھر والدین کو طلب کرکے تقریباً آٹھ گھنٹے کونسلنگ کرنے کے بعد لڑکی کو والدین کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اور پھر اگلے دن /7 جولائی بروز جمعہ لڑکی کے والدین کیا دیکھتے ہیں کہ اُن کی لڑکی نے اپنے کمرے میں فیان سے لٹک کر خودکشی کرلی ہے۔ اخبار ’’ تلنگانہ ٹو ڈے ‘‘ کی خبر کے مطابق یہ نوجوان لڑکی ممبئی جاکر ماڈلنگ کرنا چاہتی تھی لیکن اُس کے والدین اس بات کے لئے رضامند نہیں تھے اور وہ اس کی شادی کروادینا چاہتے تھے۔ پولیس اور دیگر ذرائعوں سے جب اُس لڑکی کی خودکشی کی خبر پھیل گئی تو میڈیا والے بھی لڑکی کے گھر پہنچ گئے اور پولیس تو پہلے ہی وہاں موجود تھی اور جیسا کہ ایک رپورٹر صاحب نے بتلایا کہ پولیس کے اِرد گرد منڈلاتے رپورٹرس اور کیمرہ پرسن نہ صرف گھر میں گھس آئے اُنھوں نے لڑکی کے والد سے انٹرویو لیا اور اس دوران لڑکی کی نعش کا بھی ویڈیو اور تصاویر اُتار لی اور خبر کے ساتھ اُس کو پیش کرنے لگے۔ اس بات پر ناراض لڑکی کے رشتہ دار رپورٹر کو بار بار فون کرکے تنگ کررہے تھے کہ وہ لڑکی کی نعش کی تصویر اپنی خبروں میں استعمال نہ کرے۔

خیر یہ تو وہ گفتگو تھی جو مجھ تک پہونچی، اس کے ساتھ جن صاحب نے یہ ساری بات بتلائی اُن کا کہنا تھا کہ مرنے والی لڑکی کے رشتے داروں کا رویہ کیسا ہے کہ جب لڑکی زندہ تھی اور ممبئی جاکر ماڈلنگ کرنا چاہتی تھی اُس وقت اپنی بچی کو سمجھاتے اور گھر کا معاملہ گھر میں طئے کرلیتے، نہ صرف پولیس والوں کو بلکہ پورے تلگو اور انگلش میڈیا کو معلوم ہوگیا کہ مسلم لڑکی کو جب اُس کے گھر والوں نے ماڈل بننے نہیں دیا اور ممبئی جانے سے روک دیا تو اُس نے خودکشی کرلی ایسے میں رپورٹر پر طعنے کسنا اور اُس کو یہ کہنا کہ ’’ ارے بھائی صاحب، آپ مسلمان ہے ایک مسلمان لڑکی مرگئی ہے اُس کی نعش کی فوٹو مت ڈالو ۔‘‘ بولنا کہاں تک درست ہے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
قارئین کرام اس خبر کے تذکرے کے بعد اب ذرا آیئے ہم اپنا تجزیہ شروع کرتے ہیں کہ آخر وہ کونسے عوامل تھے جس کے سبب ایک مسلم لڑکی نے ماڈلنگ سے منع کرنے پر اپنی جان لے لی؟۔ایک شکل تو یہ ُابھر کر سامنے آتی ہے کہ ہم سب ملکر لڑکی اور اُس کے والدین کو بُرا بھلا کہیںکہ سارا قصور ماں باپ اور گھروالوں کا ہے، اگر وہ لوگ اپنے ہی گھر میں بچی کی تربیت پر توجہ مرکوز کرتے تو آج ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوتی۔ ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میڈیا پر غصہ اور بھڑاس نکالیں کہ یہ رپورٹر کی ذلیل حرکت ہے واقعی اگر وہ مسلمان ہے تو اُس کا فرض تھا کہ وہ ایک مسلم لڑکی کی خودکشی کے معاملے میں اُس کی نعش کی ویڈیو نہ بناتا۔
کیا اس کے علاوہ اور بھی کچھ سیکھ ہوسکتی ہے؟ ارے جناب ! جرائم کی سینکڑوں خبریں ہوتی ہیں اب کیا کچھ کام دھندا نہیں ہے کہ اُن خبروں سے بھی ہم کچھ سیکھیں اور غور کرنے لگیں، ایسی خبریں تو ہر روز آتی ہیں کس کس کا رونا روئیں اور کس کس کو بولیں؟ چھوڑو بھائی صاحب اپنا کام کرو۔ جی جی میں اپنا کام ہی تو کررہا ہوں اور ذرا آپ بھی غور کرلیں، آپ نے اپنے گھر میں اپنے بچوں کی تربیت کا ذمہ کس کو دے رکھا ہے؟ کیا آپ کے گھر میں ٹیلی ویژن نہیں ہے اور ٹیلی ویژن کے پروگرام سے آپ کے بچے کس قدر مانوس ہیں، کیا آپ جانتے ہیں؟ ایک منٹ کا وقت لگے گا، ذرا اپنے چھوٹے بچے سے ہی پوچھ لیجئے سی آئی ڈی سے لیکر انڈین آئیڈیل ننھے کلاکار سے لیکر بڑے بوڑھے لوگوں کی گلوکاری تک یہی تو سارے پروگرام ہیں جو آپ کی موجودگی اور غیر موجودگی میں آپ کے بچے بڑے شوق سے دیکھتے ہیں۔ اگر آپ کا کہنا ہے کہ نہیں نہیں، میں تو اپنے بچوں کو ایسے واہیات پروگرام دیکھنے نہیں دیتا تو آپ کو کیا پتہ جب آپ کسی دعوت میں گئے ہوں اور گھر میں بچے اپنے ہاتھ میں ریموٹ لئے کیا دیکھ رہے ہیں۔ کم عمری سے ہی بچوں کو تفریح کے طور پر جن چیزوں کا مشاہدہ کرواتے ہیں کیا وہ ان کے دل و دماغ پر کوئی اثر نہیں چھوڑتے۔ خواب غفلت سے جاگ جانے کا وقت آگیا ہے، ہم بچوں کو تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی جن چیزوں کا مشاہدہ کرواتے ہیں وہی چیزیں اُن کے ذہنوں میں تاعمر نقش ہوجاتی ہیں۔ آپ چاہے مانیں یا مانیں مگر مغربی ملکوں میں تو میڈیا کے اثرات پر باضابطہ طور پر تحقیق کی گئی اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
بچے نہیں جانتے تو الگ بات ہے مگر بچے جب جاننے لگیں کہ گلوکاری کے میدان میں، اداکاری کے میدان میں ، ماڈلنگ کے شعبے میں کام کرتے ہوئے لاکھوں روپئے کمائے جاسکتے ہیں تو بچے تو یہی چاہیں گے کہ وہ بھی لاکھوں روپئے کمائیں۔ مسلمان بچے خود دین اسلام کے بارے میں کتنا جانتے ہیں نہیں معلوم مگر دیگر برادران وطن کے مذاہب، اُن کے تہوار، اُن کے رسوم و رواج اور عادات و اطوار کے بارے میں بچے ہمارے بہت کچھ جانتے ہیں اور ہم نے تو پہلے ہی سے طئے کررکھا ہے کہ یہ تعلیم دین کی ہے اور یہ تعلیم دنیا کی اور ہمیں دنیا میں کامیاب بننے کے لیئے دنیا کی تعلیم بیحد ضروری ہے، بس اب بچوں کا قصور کیا ہے۔ ہم نے اُن کو پیسہ کمانا ہی کامیابی سمجھایا ہے اور ہمارے بچے کامیاب ہی تو بننا چاہتے ہیں، ہاں دین بھی اُنھیں معلوم ہے رمضان میں روزے رہنا فرض ہے، دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں بس اور کیا۔ دین اسلام آسان ہی تو ہے۔ ہمارے بچے کامیاب ہی تو بننا چاہتے ہیں اور ہم ہیں کہ انھیں عین اُس وقت منع کررہے ہیں جب وہ کامیابی کے زینے چڑھنے تیار ہوجائیں۔

یہ کسی ایک گھر کی یا کسی گھر کے بچوں کی بات نہیں ہے یہ ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے۔ کیا ہمیں پتہ ہے کہ ہمارے اپنے گھر میں ہمارے اپنے بچوں کے پاس کامیاب بننے کا پیمانہ کیا ہے، کیا یہ کسی ایک لڑکی کی کہانی ہے جو ماڈلنگ کرنا چاہتی تھی، کیا ہم نے آنکھیں بند کرلی ہیں، کیا ہمیں یہ نظر نہیں آرہا ہے؟۔ہمارے لڑکے عجیب عجیب طرح کے بال کیوں کٹوارہے ہیں ، کیا یہ صرف نقل ہے یا نقل کرکے کامیاب بننے کی کوشش ہے۔
تقریباً دو برس پہلے کا وہ واقعہ تو ہم بھول ہی گئے جب انٹر میڈیٹ کے دو لڑکوں نے ہمارے شہر میں ایک اسٹریٹ فائیٹ کی جس میں انٹر میڈیٹ کے ایک نوجوان کی جان چلی گئی تھی۔ میڈیا اور ٹیلی ویژن اس قدر تیزی سے ہمارے بچوں کی زندگی کا ایک لازمی جز بن گئے کہ ان کے بغیر زندگی کا تصور ہی محال ہوگیا ہے۔ اب یہ لوگ کیا سیکھ رہے ہیں اور کیا چیز نادانستہ طور پر ان کے دل و دماغ میں گِھرتی جارہی ہے اس کا والدین کو اندازہ ہی نہیں۔ مسلمان ہوکر بھی کوئی خودکشی کیسے کرسکتا ہے؟ ذرا سوچیئے کوئی کپڑوں کیلئے خودکشی کررہا ہے، کوئی امتحان میں ناکامی کے خوف سے خودکشی کررہا ہے، کوئی اپنی پسند کی شادی نہ ہونے پر موت کو گلے لگارہا ہے، کوئی تو اپنی پسندیدہ گاڑی نہ دلانے پر اقدام خودکشی کررہا ہے۔ یہ کیسے مسلمان ہیں جو زندگی کی حقیقتوں کا سامنا کرنا ہی نہیں چاہتے، ذرا سے ناموافق حالات کا سامنا کرنے آمادہ نہیں اور زندگی کی حقیقتوں سے اتنے دور بھاگتے ہیں کہ زندگی جب من چاہی نہ لگے تو اپنی آنکھیں موند کر خوابوں کی دنیا میں جانا پسند کرنے لگے ہیں تاکہ پریشانی سے تو جان چھوٹے مگر من چاہا سکون دور نہ ہو۔

دوسرا برس شروع ہوچکا ہے جب سے حیدرآباد پولیس نے راتوں میں سڑکوں پر گشت کرنے والوں کو پکڑنا شروع کیا۔ کیا ایسے نابالغ نوجوانوں کی تعداد کم ہوئی جو راتوں میں گھر سے باہر گھومنے نکلتے ہیں ہرگز نہیں۔ کم عمر بچوں کی جانب سے نشہ آور اجزاء لینے کی رپورٹس آرہی ہیں کیا یہ تشویشناک پہلو نہیں ہے۔ فون اور واٹس اَپ کے ذریعہ اسکول کے بچے گھر بیٹھے ڈرگس حاصل کررہے ہیں اور شہر میں صرف ایک ہزار بچوں کے نام سامنے آئے ہیں ، معلوم نہیں اور کتنے ایسے نام ہیں جو سامنے نہیں آئے۔ کیا ہم پولیس کے دھاوؤں کا ہی انتظار کرتے رہیں گے۔
وقت آگیا ہے کہ کامیابی کا پیمانہ والدین سمجھیں اور پھر اپنی اولاود کو سمجھائیں ورنہ پیسہ کمانا کامیابی ہے تو ہمارے ہی شہر میں کامیاب لوگوں کی فہرست تو طویل ہے کوئی نقلی ادرک لہسن بناکر پیسے کمارہا ہے تو کوئی نقلی فروٹ جوس بیچ کر پیسے کمارہا ہے۔ کوئی ڈرگس بیچ کر پیسے کمارہا ہے تو کوئی دودھ میں ملاوٹ کرکے پیسے کمارہا ہے۔
کیا ہم نے سوچا ہے کہ ہمارے بچوں کی کامیابی کیا ہے اور اصل کامیابی کے حصول کے لئے کیا کرنا چاہیئے وہ سکھانا کتنا ضروری ہے۔ نہیں تو دو منٹ کے لئے غور کیجئے کہ اصل کامیابی پیسہ کمانا نہیں ہے؟ اگر اب بھی سمجھ میں نہ آئے تو دُعا ہی کی جاسکتی ہے کہ ’’ اے اللہ تو ہماری عقل پر پڑے پردے کو ہٹادے اور صراط مستقیم کے راستے پر ہمیں اور ہماری اولاد کو چلادے ۔‘‘ ( آمین ثم آمین )۔
ہم کیسے جی رہے ہیں، امت مسلمہ اگر جسد واحد کی طرح رہیں تو کسی کو اتنی اخلاقی جرأت کیوں ہوگی کہ وہ ہمیں اپنے ہی نقصان کی خبردے۔ کوئی کیوں اب تو ہمارے بڑے ہی اپنے بچوں کو ٹوکنے اور روکنے سے ڈرنے لگے ہیں ، آخر کیوں کیا ہم نے سوچا ہے ۔ ہمارا حال تو یہ ہوگیا ہے بقول شاعر:
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
[email protected]

TOPPOPULARRECENT