Friday , June 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / محبت اور اتباع کا ربط و تعلق

محبت اور اتباع کا ربط و تعلق

ہمارے ہاں ظاہری اور آسان سنتوں پر اس طرح زور دیا جاتا ہے، جیسے یہی مقصود بعثت ہے۔ اس بارے میں ہماری روش یہ ہو گئی ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی سنتوں کو تو ضرور اہمیت دیتے ہیں، لیکن جو اہم سنتیں ہیں، جن کا تعلق مقاصد بعثت سے ہے، ان کو ہم نظرانداز کردیتے ہیں۔ مثلاً ایک مشہور واقعہ آپ نے بھی سنا ہوگا۔ بعثت سے پہلے کسی خرید و فروخت کے معاملے میں ع

ہمارے ہاں ظاہری اور آسان سنتوں پر اس طرح زور دیا جاتا ہے، جیسے یہی مقصود بعثت ہے۔ اس بارے میں ہماری روش یہ ہو گئی ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی سنتوں کو تو ضرور اہمیت دیتے ہیں، لیکن جو اہم سنتیں ہیں، جن کا تعلق مقاصد بعثت سے ہے، ان کو ہم نظرانداز کردیتے ہیں۔ مثلاً ایک مشہور واقعہ آپ نے بھی سنا ہوگا۔ بعثت سے پہلے کسی خرید و فروخت کے معاملے میں عبد اللہ بن ابی الحمساء نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہا کہ ’’آپ ٹھہریں میں ابھی آتا ہوں‘‘ اور حضورﷺ نے ٹھہرنے کا وعدہ فرمالیا۔ وہ بھول گیا۔ اتفاقاً تیسرے روز عبد اللہ کا گزر اسی مقام سے ہوا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی مقام پر تین دن سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ آپﷺ نے عبد اللہ سے صرف اتنا ہی کہا: ’’تم نے مجھے زحمت دی، میں تین دن سے یہیں ٹھہرا ہوا ہوں‘‘۔ غور کیجئے کہ اس چھوٹے سے واقعہ میں ہمارے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تین سنتیں آتی ہیں، ایک صبر و تحمل، دوسرے ایفائے عہد اور تیسری عفو و درگزر۔ ٹھنڈے دل سے سوچئے! اگر کوئی شخص آپ کو کہیں کھڑا کرکے چلا جائے تو کیا آپ وہیں ٹھہرکر تین دن تک اس کا انتظار کرسکتے ہیں۔ آج ہم ایسے واقعات سیرت کی کتابوں میں پڑھ کر حضورﷺ کی سوانح حیات کے طورپر بیان کرتے ہیں، لیکن اس کو ہم سنت نہیں سمجھتے۔

ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا کہ ’’عائشہ آؤ آج تم ہم دوڑ لگائیں، دیکھیں کون آگے نکلتا ہے‘‘۔ چنانچہ دوڑ میں حضرت عائشہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گئیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے رہ گئے۔ ایک عرصہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو دعوت مسابقت دی، لیکن اس عرصہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جسم مبارک ذرا بھاری ہو چکا تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پیچھے رہ گئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگے نکل گئے۔ اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عائشہ آج میں نے تم سے پچھلی دوڑ کا بدلہ لے لیا‘‘۔ اس سنت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ بھی اپنی بیگم کے ساتھ دوڑ لگائیں۔ یہ سنت کا قالب ہے جو ضروری نہیں، لیکن اس سنت کی روح یہ ہے کہ بیوی کے ساتھ خوشگوار تعلقات، خوش مزاجانہ اور زندہ دلانہ ہونا چاہئے۔ یہ نہ ہو کہ بیوی کے ساتھ بھی آدمی زاہد خشک اور مولوی ہی بنا رہے۔
یہ ایک یا چند مثالیں میں نے بطور نمونہ پیش کی ہیں، ورنہ پوری سیرت طیبہ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ ایک ایک واقعہ سے کئی کئی سنتیں معلوم ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی حیات طیبہ اور سیرت طیبہ کے لئے ’’سنت‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں، ایک کتاب اللہ اور دوسری میری سنت‘‘۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ کے بارے میں قرآن پاک نے شہادت دی ہے (سورۃ القلم) محاسن اخلاق میں مداومت عمل، حسن معاملہ، عدل و انصاف، جود و سخا، ایثار، مہمان نوازی، مساوات، تواضع و انکساری، شرم و حیاء، عزم و استقلال، شجاعت، راست گفتاری، ایفائے عہد، زہد و قناعت، عمل و عفو، سادگی، بے تکلفی، محبت و شفقت، رقیق القلبی، عیادت و تعزیت، ہمدردی، غم خواری، صبر و شکر، توکل، نظافت پسندی، رفتار و گفتار، صداقت، دیانت، شرافت، شگفتہ مزاجی وغیرہ، یہ اور اسی طرح کے بیسیوں عنوانات ہیں، جن کو سیرت نگار ’’اخلاق نبوی‘‘ کے تحت بیان کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں ہیں، جن کی طرف لوگوں کی توجہ ہی مبذول نہیں ہوتی۔ جیسے لباس اور عبادات کی چند سنتوں کو لے کر ہم سمجھ بیٹھے ہیں کہ بس یہ سنتیں ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے سیرت کی ساری کتابیں بھری ہوئی ہیں، ان کو ہم عنوان دے کر سیرت النبی اور میلاد النبی کے جلسوں کی رونقیں بڑھا لیتے ہیں۔ حالانکہ بنیادی طورپر یہ سب سنتیں ہی ہیں اور ان پر عمل کرنا ایمان کا تقاضہ ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ایسی ہے، اگر اس پر عمل کرلیا جائے تو ہماری ساری خرابیوں کی جڑ کٹ جائے گی اور ہم کندن بن کر چمک اٹھیں گے، لیکن اس سنت کی طرف کسی کا خیال تک نہیں جاتا۔ عام آدمی تو کجا بڑے بڑے جید علماء کو بھی احساس نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت یہ بھی ہے۔ وہ سنت یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نجی زندگی کو عوامی زندگی بنا دیا تھا، جس سے آپ کی حیات طیبہ کھلی کتاب بن گئی تھی۔ جو آپﷺ کا ظاہر تھا وہی باطن تھا اور جو باطن تھا وہی ظاہر تھا۔ اگر آج ہم اس سنت پر عمل کرلیں تو ظاہر و باطن کی یکسانیت سے ہماری زندگیاں کتنی پاکیزہ، کتنی روشن اور کتنی مثالی بن جائیں گی۔ مگر ہمارے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ یہ بھی کوئی سنت ہے، جس پر عمل کرنا چاہئے۔

ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ آج ہمارے پاس وحی بھی ہے اور مہبط الوحی بھی، قرآن بھی ہے اور سنت بھی، لیکن ہم کتنے کم نصیب ہیں کہ نہ ہم قرآن کو سمجھ رہے ہیں اور نہ سنتوں کو، نہ ان پر غور کرتے ہیں اور نہ ان کو اپناتے ہیں۔ صرف صوفیہ کرام کے ہاں یہ تعلیم ہے کہ اپنے ظاہر و باطن کو یکساں کرلو، اس سنت کو صرف ان ہی بزرگوں نے اپنایا ہے۔ عرض مدعا یہ ہے کہ صرف چند سنتوں پر اکتفا نہ کریں، بلکہ تمام سنتوں کو اپنائیں اور خاص طورپر ان سنتوں کی روح کو اپنالیں۔ غیر ضروری طورپر صورت اور قالب کے پیچھے نہ لگ جائیں۔
واضح رہے کہ محبت اور اتباع کا آپس میں بڑا عجیب و غریب تعلق ہے۔ اتباع سے محبت بڑھتی ہے اور محبت سے اتباع میں اضافہ ہوتا ہے، اس طرح یہ دونوں ایک دوسرے کی دلیل اور ثبوت ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے والا بنائے اور آپ کے اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT