Wednesday , November 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / محبت کی کسوٹی

محبت کی کسوٹی

مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ

نبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ  ﷺکی بعثت مبارکہ سے پہلے انسانیت گویا ایک آگ کے دہانے پرکھڑی تھی،اللہ نے ان کواس آگ میں گرنے سے بچالیا ۔:آل عمران ۱۰۳: وہ آگ دشمنی وعداوت کی تھی ،بغض وعنادکی تھی ،انتقام ونفرت کی تھی ،ایک دوسرے کی خون کے پیاس کی تھی،انسانی معاشرہ شفقت ورحمت سے محروم ہوگیاتھا، رافت ورحمت پیاروالفت رحم دلی اورمہربانی جیسے الفا ظ اپنے معانی کھو چکے تھے،ایسے ماحول میں آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ نے ہرطرح کے ظلم وجور کا دروازہ بند کردیا،اورآپ ﷺ کی بعثت مبارکہ رحمتوں کا سائبان بن گئی،برسوں کی عداوتیں ختم ہوئیں اورانسانی معاشرہ محبتوں کا گہوارہ بن گیا،آپ ﷺ کی عفودرگزرکی تعلیم نے انسانی دلوں پر ایسا ڈیراجمایا کہ انتقام کی آگ بجھ کر راکھ کے ڈھیرتبدیل ہوگئی،اخلاص وایثار کے انسان ایسے پیکر بن گئے کہ خودغرضی کا انسانی مزاجوں سے خاتمہ ہوگیا،آپ ﷺکی تربیت نے تواضع و خاکساری کو دلوں میں ایسے راسخ کردیا کہ غروروتکبراور اپنی بڑائی کا سوداجو ان کے سروں میں سماگیا تھاوہ اپنے آپ رخصت ہوگیا،اسی لئے اللہ سبحانہ نے آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ کو ایمان والوں پر اپنے بڑے احسان سے تعبیرفرمایا ہے۔: آل عمران ۱۴۶ :یہ اللہ سبحانہ کایہ ایک عظیم احسان ہی تو ہے کہ ا نسانیت کی سطح سے نیچے گرکردرندگی کا لبادہ اوڑھی ہوئی انسانیت آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ کی وجہ پھرسے حقیقی معنی میں انسانیت کے روپ میں ڈھل گئی،آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ سے کفروشرک کے اندھیارے ختم ہوئے،نورتوحید کا اجالا ہر سوچھا گیا ،فسق وفجور کے بادل چھٹ گئے،تقوی وپرہیزگاری ،دین داری و خداترسی رحمت بن کرسارے ماحول پر سایہ فگن ہو گئی،آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ نے اللہ سے ٹوٹے ہوئے بندوں کو اللہ سے جوڑا اورٹوٹے دلوں کو ایسے جوڑاکہ سارے انسان آپس میں بھائی بھائی بن گئے چنانچہ اللہ سبحانہ نے اپنی اسی نعمت کا ذکرفرمایا ہے۔ ارشادہے اللہ سبحانہ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے ،(حوالہ سابق )
جانی دشمنوں کا آپس میں شفیق  ومہربان ہوجانا، خونی پیاسوں کا ایک دوسرے کا جانثار بن جانا، باہمی عداوتوں کا خاتمہ ہو کر ان کے دلوں میں پیارومحبت کا پیداہوجانا،یہ اللہ سبحانہ کا ایک عظیم احسان ،اس کی خاص مہربانی ورحمت کا کرشمہ ہی تو ہے کہ وہ ایک دوسرے کی محبت والفت کی ڈورمیں بندھ گئے ،ارشاد باری ہے ! ان کے دلوں میں باہمی الفت ومحبت بھی اسی نے ڈالی ہے،زمین میں جو کچھ ہے اگرآپ سارے کا سارا خرچ کرڈالتے تب بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتے  یہ تو اللہ ہی ہے جس نے ان میں محبت ڈال دی وہ غالب حکمتوں والا ہے۔: الانفال ۶۳:

سیدنا محمدرسول ﷺ کی بعثت مبارکہ سے جو انقلاب اس دنیا میں رونماہوا اس نے خالق ومخلوق کے رشتوں کو استوارکیا،خا لق کی محبت کو جہاں دلوں میں بسایا وہیں خلق خداسے پیار کرنے کا خوب سلیقہ سکھایا،خالق کی محبت تو اصل الاصول ہے اس محبت کے بغیر مومنانہ کیفیات کا تصورنہیں کیا جا سکتا،ارشاد باری ہے کہ، ایمان والے تو اللہ تعالی سے شدید محبت کرتے ہیں۔البقرہ۱۶۵،  اس ارشادپاک سے اللہ کی محبت کا اثبات  ہوتا ہے لیکن اس سے کسی اورسے محبت کی نفی نہیں ہوتی،بلکہ یہ اللہ کے محبت درس دیتی ہے خلق خداسے محبت کا ،خلق خدامیں ماں باپ بھی ہیں ،بیوی اوربچے بھی ، عزیزواقارب بھی ، پاس پڑوس میں رہنے والے بھی ،اپنی بستی اورشہروالے بھی ،اپنے ملک بلکہ سارے عالم میں رہنے والے انسان بھی ،الغرض درجہ بدرجہ ان کی محبتوں کا حق توادا ہوتا ہی رہے،لیکن اللہ سے اقتضاء محبت کی  ضروری شرط یہ ہے کہ ان سب کی محبتوں پر اللہ تعالی کی محبت غالب رہے ،اللہ سبحانہ کی محبت کے بعدایمانی تقاضوں کی تکمیل کے لئے  خلق خدامیں جن کی محبت کا بہت بڑااعتبار ہے وہ ہے رسول رحمت پیکر محبت سیدنا محمدرسول ﷺ کی محبت ،یہ دونوں محبتیں کمال ایمان کے لئے لازم وملزوم ہیں ،اللہ اوراللہ کے رسول ﷺ کی محبت اس درجہ اعلی اورارفع ہو کہ اس کے با لمقابل اوراورچیزوں کی محبت ان کے تابع بھی ہواور مغلوب بھی ،چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالی نے ارشادفرما اے نبی ﷺ آپ فرمادیجئے اگرتمہارے آبا ء واجداد، تمہاری اولاد،تمہارے بھائی اورتمہاری بیویاں اورتمہارے کنبے اورقبیلے اورتمہاراکمایا ہوامال اورتمہارے وہ کاروبارجس میں خسارہ کا تمہیں ڈرلگارہتاہے اورتمہارے وہ محلات جن کو تم پسند کرتے ہواگریہ سب اللہ اوراللہ کے رسول ﷺ سے اوراس کے راستے میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز اورمحبوب ہو جائیں توتم انتظار کرویہاں تک کہ اللہ تعالی اپنا حکم جاری فرمائے ،التوبہ۲۴،اس آیت پاک میں جن محبتوں کا ذکرفرمایاگیا ہے وہ سب  فطری ہیں ،اسلام دین فطرت ہے وہ ان فطری محبتوں پر کوئی روک نہیں لگاتا،بلکہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے ان محبتوں کی تکمیل کی راہ دکھا تاہے،مقصدزندگی تو اصلااللہ اور اس  کے رسولﷺ کی محبت ہے،اسلام نے  خلق خدا سے جس طرح کی محبت سے منع کیا ہے وہ دراصل  اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی محبت کوپس پشت ڈال کر دوسروں کی محبت میں کھوجانا اورخلق خداکی محبت میں پڑ کراللہ کی یادسے غافل ہوجاناہے،اسی لئے ارشادفرمایا گیااے ایمان والو! تمہارامال اورتمہاری اولاد تمہیں اللہ کی ذکرسے غافل نہ کردے۔:المنافقون ۹:نبی رحمت ﷺ کی بعثت مبارکہ کا حاصل یہی ہے کہ وہ ان محبتوں میں فرق کرنا سکھا تی ہے،اللہ سبحانہ کی یاد، اس کے احکام وفرائض کی پابندی ،حلال وحرام میں فرق وامتیاز ،یہ وہ صفات ہیں جواللہ اوراس کے رسولﷺ کی محبت  میں غلبہ کی وجہ بندگان خداکو حاصل ہوتی ہیں، لیکن دنیا جہاں کی محبتیں اگرغالب ہوجائیں تو گویا یہ ابتلاء وآزمائش کا موقع ہے،اس سے فوری تنبہ ہو جائے کہ کمال ایمان کے لئے یہ ضروری ہے،اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کو عزیزازجان بنانے کے لئے ان دیگرمحبتوں کو قربان کرنا پڑے تو اس سے ہرگز دریغ نہ کرے،اللہ سبحانہ نے سیدنا محمدرسول ﷺ کو اپنا محبوب بنایاہے اسی لئے  فرمایا اے نبی ﷺ آپ فرمادیجئے اگرتم اللہ کی محبت کے دعو یدارہو توتم میری اتباع اور پیروی کرو۔اللہ سبحانہ تعالی خو د تم سے محبت کریگا اورتمہارے گناہ معاف کردیگا اللہ تعالی بڑابخشنے والا اورمہربان ہے۔ (آل عمران۔۳۱)

TOPPOPULARRECENT