محبوبہ مفتی بی جے پی سے ہاتھ ملانے تیار!

جموں؍ سرینگر۔/26ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل پر تجسس کے برقرار رہنے کے درمیان گورنر این این ووہرا نے پی ڈی پی اور بی جے پی کو حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں انتخابات میں پہلی اور دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری ہیں۔ منقسم رائے دہی کے باعث کسی بھی پارٹی کو قطعی اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ پی ڈی

جموں؍ سرینگر۔/26ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل پر تجسس کے برقرار رہنے کے درمیان گورنر این این ووہرا نے پی ڈی پی اور بی جے پی کو حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں انتخابات میں پہلی اور دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری ہیں۔ منقسم رائے دہی کے باعث کسی بھی پارٹی کو قطعی اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ پی ڈی پی کی لیڈر محبوبہ مفتی نے بی جے پی سے ہاتھ ملانے کا اشارہ دیا ہے، ان کے والد اور پی ڈی پی کے بانی مفتی محمد سعید نے اس سلسلہ میں بی جے پی قائدین سے بات چیت کی ہے۔ محبوب مفتی نے حکومت سازی کیلئے حمایت کرنے عمر عبداللہ کی پارٹی نیشنل پارٹی کی پیشکش کو مسترد کردیا۔ گورنر این این ووہرا نے پی ڈی پی لیڈر مفتی محمد سعید اور بی جے پی کے ریاستی سربراہ جگل کشور کو علحدہ علحدہ دعوت نامہ روانہ کرتے ہوئے تشکیل حکومت کیلئے تجویز پر تبادلہ خیال کیلئے مدعو کیا ہے۔ راج بھون کے عہدیدار نے کہا کہ گورنر کا مکتوب دونوں پارٹیوں کے حوالے کردیا گیا۔ بی جے پی جس نے 87رکنی اسمبلی میں 25نشستیں حاصل کی ہیں اور پی ڈی پی کو 28نشستیں ملی ہیں‘ حکومت بنانے کیلئے گزشتہ دو دن سے تبادلہ خیال کررہی ہیں۔ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ بات چیت کب تک چلے گی اور اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ متوازی طور پر دونوں پارٹیاں کشمیر میں حکومت سازی کے دعویدار ہیں۔ دیگر دو اہم پارٹیاں جیسے نیشنل کانفرنس کو 15نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ کانگریس نے 12پر کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کی مسلسل کوشش کررہی ہیں اور پی ڈی پی کی تائید کرتے ہوئے حکومت تشکیل دینے پر زور دے رہی ہیں۔ پی ڈی پی نے اس بارے میں ابھی کھل کر جواب نہیں دیا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر اور سبکدوش ہونے والے چیف منسٹر عمر عبداللہ نے پہلے ہی اعلان کردیا ہے کہ ان کی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان کوئی معاملت نہیں ہوگی۔ آج پھر ایک مرتبہ انہوں نے ٹیوٹر پر لکھا ہے کہ ان کی پارٹی پی ڈی پی کی تائید کرنے کیلئے تیار ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پی ڈی پی کے ذہن میں کچھ اور ہی کھیل چل رہا ہے اور وہ بی جے پی کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہتی ہے، اس نے ہی نیشنل کانفرنس کی تائید کے مکتوب سے متعلق انکشاف کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے بی جے پی سے کہا کہ وہ اپنی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرے اور نہ ہی وہ سودے بازی پر اُتر آئے۔ تشکیل حکومت کیلئے وہ اپنی توانائی عوام پر مسلط نہیں کرسکتی۔ بی جے پی جس طریقہ سے جموں کشمیر کی علاقائی پارٹیوں کو راغب کرنے کی کوشش کررہی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ریاست کے عوام کے خط اعتماد سے متعلق غیر سنجیدہ ہے۔ یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ پی ڈی پی‘ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیلئے تیار ہے یا پھر کانگریس کے ساتھ وہ سمجھوتہ کرسکتی ہے۔ نیشنل کانفرنس کی جانب سے باہر سے تائید کی جاتی ہے تو یہ حکومت بن جائے گی۔ پی ڈی پی کو حکومت بنانے کیلئے 44ارکان کی تائید ضروری ہے، اس کے پاس 28نشستیں ہیں جبکہ مزید16 ارکان کی تائید حاصل ہونا ہے۔پی ڈی پی کی ایک اور لیڈر نے کہا کہ ان کی پارٹی کانگریس اور بعض آزاد ارکان کی تائید سے حکومت بنانے کیلئے تیار ہے۔ پی ڈی پی اس موقف میں ہے کہ وہ حکومت بنانے کیلئے درکار 44 ارکان اکٹھا کرسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT