Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / محبوبہ مفتی بے بس ، اقتدار پر برقراری واحد مقصد:نیشنل کانفرنس

محبوبہ مفتی بے بس ، اقتدار پر برقراری واحد مقصد:نیشنل کانفرنس

سری نگر ، 11 مئی (سیاست ڈاٹ کام) نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر کی حکومت میں شامل اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرف سے کشمیر میں یکطرفہ فائر بندی کی تجویز کی مخالفت اور فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کے بیان کو وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے لئے ہزیمت کا سامان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج عوام کے سامنے ایک اور بار یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ قلم دوات جماعت (پی ڈی پی) والوں کی اپنے اتحادیوں کے آگے کچھ نہیں چلتی ہے اور اس جماعت کے لیڈران کا مدعا و مقصد صرف اقتدار میں بنے رہنا ہے پھر چاہئے اس کے لئے انہیں کتنی ہی ہزیمت اور ذلت کیوں نہ برداشت کرنی پڑے ۔ان باتوں کا اظہار پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقعے پر پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفے ٰ کمال، ایم ایل سی شوکت حسین گنائی ،نائب صدر صوبہ محمد سعید آخون اور سابق ایم ایل اے شوپیان شیخ محمد رفیع بھی موجود تھے ۔

علی محمد ساگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیرا علیٰ نے بڑے زور و شور سے کُل جماعتی میٹنگ بلائی لیکن جب اس میٹنگ میں اتفاق پائے گئے امور عوام کے سامنے لائے گئے تو ان کے اتحادی بھاجپا والوں نے خود کو اس سے الگ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں نے محبوبہ مفتی کو وادی میں امن و امان کی بحالی کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن افسوس اس بات ہے کہ اُن کے اپنے ہی اتحادی اُن کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں، اس کے باوجود بھی پی ڈی پی والے کرسی کو گلے لگائے بیٹھے ہیں۔علی محمد ساگر نے کہا کہ اگر بھاجپا والوں نے پی ڈی پی کا مکمل سرینڈر بے نقاب کرنے میں کوئی کثر باقی رکھی تھی تو وہ فوجی سربراہ نے کل اپنے تازہ بیان سے وہ کثر بھی پوری کردی۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ فوجی آپشن سے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کی سیاست ہیت کو تسلیم کرکے اس کا سیاسی حل نکلنا انتہائی ناگزیر ہے ۔ ساگر نے کہا کہ اشتعال انگیز بیان بازی اور طاقت کے بلبوتے پر مسئلہ کشمیرکی حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی امن لوٹایا جاسکتا ہے ۔پارٹی معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفے ٰ کمال نے اپنے خطاب میں مرکزی سرکار کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نئی دلی میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ پڑھا لکھا کشمیری نوجوان ہتھیار کیوں اُٹھا رہا ہے اور جنگجوئیت کے رجحان میں اتنا اضافہ کیوں ہورہاہے ۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ نئی دلی میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ریاست کے موجودہ حالات کشمیریوں کے ساتھ کی گئی وعدہ خلافیوں اور ان سے چھینے گئے آئینی اور جمہوری حقوق کا ہی نتیجہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT