Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / محبوب نگر میں وقف رحمانیہ کی اراضیات پر قبضہ کی کوشش ناکام

محبوب نگر میں وقف رحمانیہ کی اراضیات پر قبضہ کی کوشش ناکام

جناب ظہیر الدین علی خاں کی قیادت میں بروقت مداخلت ، سماگرابھو سروے میں سازش
حیدرآباد۔17جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے کرائے جارہے ’سماگرا بھو سروے‘میںخشک اور زرخیز اراضیات کی تفصیلات کا اندراج عمل میںلانے کے نام پر وقف اراضیات کو ہڑپنے کی سازشوںکا انکشاف ہوا ہے۔دو روز قبل مقامی لوگوں کی شکایت پر جناب ظہیرالدین علی خان کی نگرانی میںدکن وقف پروٹیکشن سل کا وفد جس میں عثمان بن محمد الہاجری اور دیگر شامل تھے نے ضلع محبو ب نگر میں 500ایکڑ وقف اراضی کو ہڑپنے کی کوشش پر روک لگائی۔ محبو ب نگر میں وقف رحمانیہ کے تحت کے 484.27ایکڑ وقف اراضی ہے جس کے مختلف سروے نمبرات ہیں ۔ اس وقف اراضی کے سروے نمبر77اور 78کی16.27ایکڑ پر مشتمل اراضی پر قبضہ کی کوشش کی جارہی ہے اور اس میں برسراقتدار حکومت کے مقامی مسلم قائدین کے علاوہ سرکاری او راوقافی اراضیات پر قبضوں کے عادی لوگ شامل ہیں۔مقامی لوگوں کی جانب سے وقف رحمانیہ کی لب سڑک پر واقع قیمتی اراضی کوہڑپنے کی کوششوں کی اطلاع ملنے کے ساتھ ہی جناب ظہیرالدین علی خان اور عثمان بن محمد الہاجری وہاں پر پہنچے اور وہیں سے چیرمین وقف بورڈ الحاج محمد سلیم کو فون کیااور وقف اراضی کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ’ سماگرابھوسروے‘ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وقف رحمانیہ کے سروے نمبر 77اور78کی اراضی کو ذاتی ملکیت میںتبدیل کرنے کی منصوبہ سازی کی جارہی ہے۔ مقامی لوگوں نے مذکورہ اراضی کو ہڑپنے کے لئے مقامی ارباب مجاز کی مدد سے سروے نمبرات کو تبدیل کرنے کی کوشش کا بھی لینڈ مافیا پر الزام عائد کیا ہے۔محبوب نگر پہونچنے پر وفد کو مقامی افراد نے انکشاف کیاکہ سروے کے دوران ٹیم بنا ای ڈی سروے رپورٹ کے ہی اپنا کام انجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ سروے نمبرات کو آسانی کے ساتھ تبدیل کرتے ہوئے وقف اراضی کو ذاتی ملکیت میںتبدیل کیاجاسکے ۔چیرمین وقف بورڈ حرکت میں آتے ہوئے مشترکہ سروے کے لئے ایک ٹیم ضلع محبوب نگر روانہ کی ۔ مگر مبینہ طور پر یہ کہاجارہا ہے کہ وقف بورڈ کی ٹیم نے محکمہ مال سے ولیج میاپ کی بنیاد پر مشترکہ سروے کرنے سے انکار کردیا ۔ اور مقامی لوگوں نے بھی ولیج میاپ کی بنیاد پر سروے کرنے سے عہدیداروں کو روک دیا۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے ٹیپان اور لینڈ اینڈ سروے ریکارڈ سے ضلع محبو ب نگر کے مکمل نقشہ کے ساتھ مشترکہ سروے کرنے کی بات کہی ہے۔ وقف بورڈ کی سروے ٹیم کو مقامی لوگوں کی جانب سے بھی حمایت حاصل ہے۔ مقامی لوگوں نے ضروری دستاویزات کے بغیر سروے کرانے سے صاف طور پر انکار کردیا ہے۔ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ ضروری دستاویزات کے بغیر مشترکہ سروے کی وجہہ سے ٹی آر ایس قائدین اور مقامی لینڈ گرابرس وقف اراضی کو ہڑپنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔لہذا مشترکہ سروے کی تاریخ کا تعین جلد از جلد کیاجائے اورسروے کا کام جنگی خطو ط پر کرایا جائے۔صدر دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی عثمان بن محمدالہاجری نے کہاکہ حکومت وقف اراضیات کے تحفظ میںاگر سنجیدہ ہے تو ’ سماگرا بھوسروے‘ کے ذریعہ وقف اراضیات کے تحفظ کو بھی یقینی بنانے کے اقدام اٹھائے۔انہوں نے مزیدکہاکہ وقف رحمانیہ کی قیمتی اراضی کی حفاظت کے لئے چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کی توجہہ ضروری ہے۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ معمولی غلطی بھی قیمتی وقف اراضی کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ سروے میںتاخیر کی جائے گی تو دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی وقف بورڈ کے خلاف احتجاج کریگی اور ضرورت پڑنے پر عہدیداروں کا گھیرائو بھی کیاجائے گا۔انہوں نے وقف رحمانیہ کی اراضی پر قبضہ کی کوشش کرنے والوں کو بھی سخت انتباہ دیتے ہوئے آگاہ کیاکہ وقف اراضی اللہ کی امانت ہے جس میں خیانت کی کوشش دنیااور آخرت دونوں میں رسوائی کا سبب بنے گی۔انہوں نے وقف بورڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ عاجلانہ کاروائی کے ذریعہ وقف رحمانیہ کی وقف اراضی کے سروے نمبر77اور 78کے بشمول پوری زمین کی حفاظت کے لئے موثر اور مضبوط اقدام اٹھائے۔

TOPPOPULARRECENT