Saturday , November 18 2017
Home / Mera Column / محتاط بیگ

محتاط بیگ

میرا کالم                   مجتبیٰ حسین
محتاط بیگ اُن کا اصلی نام نہیں تھا ،کچھ اور تھا ۔ کسی نے ان کا نام جاننے کی کوشش بھی نہیں کی ۔ دوستوں نے انہیں یہ نام ان کے کام کی وجہ سے دیا تھا ۔ وہ جو بھی کام کرتے اس میں اتنی احتیاط برتتے تھے کہ کام تو خیر کچھ بھی نہیں ہوتا تھا صرف احتیاط باقی رہ جاتی تھی ۔ گھر سے باہر نکلتے تو اپنا پانی اپنے ساتھ لے جاتے تھے کہ کہیں ایسا ویسا پانی پینے کی وجہ سے بیمار نہ ہوجائیں ۔ پانی تو خیر اور بھی بہت سے لوگ لے جاتے ہیں ۔ انہیں کوئی اپنے ہاں کھانے پر بلاتا تو اپنا کھانا وہ اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور دعوتوں میں الگ تھلگ بیٹھ کر یوں کھاتے تھے جیسے چوری کررہے ہوں ۔ میزبان کے لئے یہ سخت آزمائش کی گھڑی ہوتی تھی ۔ بعد میں لوگوں نے انہیں دعوتوں میں بلانا چھوڑ دیا تھا ۔ محتاط بیگ زندگی گزارنے کے معاملہ میں اتنے محتاط واقع ہوئے تھے کہ اگر ان کی خدمت میں آب حیات بھی پیش کیا جاتا تو وہ اسے اُبالے بغیر پینے کے قائل نہیں تھے ۔ اسی محتاط رویے کی وجہ سے وہ اپنی ہر چیز کو بڑی احتیاط کے ساتھ استعمال کرتے تھے ۔ ہاتھ پر گھڑی ضرور باندھتے تھے لیکن وقت کو جاننے کے لئے کبھی اپنی گھڑی کو زحمت نہیں دیتے تھے ۔ دوسرے سے وقت پوچھتے تھے اور نتیجہ میں ہر کام ہمیشہ دیر سے انجام دیتے تھے ۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے وقت پوچھا ۔ میں نے کہا دس بجے ہیں ۔
پوچھا ’’دن کے یا رات کے؟‘‘
میں نے کہا ’’قبلہ! آپ کو دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ باہر سورج چمک رہا ہے ۔ چاروں طرف روشنی پھیلی ہوئی ہے ۔ پھر آپ نے یہ سوال مجھ سے کیوں پوچھا؟‘‘ ۔

بولے ’’احتیاطاً پوچھ لیا ہے ۔ احتیاط ہمیشہ اچھی چیز ہوتی ہے ۔ اس میں ناراض ہونے کی کیا بات ہے؟‘‘ ۔
ویسے تو وہ ایک دفتر میں کام کرتے تھے لیکن کام اتنی احتیاط سے کرتے تھے کہ دن بھر میں ایک فائل بھی ان کی میز سے نکل نہیں پاتی تھی ۔ ایک ایک لفظ پر گھنٹوں غور کرتے تھے ۔ جس لفظ کو لکھنا چاہتے تھے اس کے مختلف معنی مختلف ڈکشنریوں میں دیکھتے تھے ۔ یہاں تک کہ دفتر کا وقت ختم ہوجاتا تھا۔ کام شروع کرنے سے پہلے اپنے ہر ساتھی سے پوچھتے تھے کہ آج کیا تاریخ ہے ۔ تاریخ معلوم ہوجاتی تو دن کے بارے میں دریافت کرتے ۔ دن معلوم ہوجاتا تو جاریہ مہینہ کی تصدیق کروالیتے تھے ۔ کبھی کبھی تو جاریہ سن کے بارے میں بھی پوچھ لیتے تھے۔ اس پر بھی انہیں اطمینان نہیں آتا تھا تو خود کیلنڈر لے کر بیٹھ جاتے تھے ۔ نیا سال آتا تو نئے سال کا پورا ایک مہینہ اپنے ساتھیوں سے یہ پوچھنے میں گزار دیتے تھے کہ واقعی نیا سال آگیا ہے یا نہیں یا ابھی اس کے آنے میں تھوڑی سی کسر باقی رہ گئی ہے ۔ کپڑے نہایت نفیس پہنتے تھے اور پتلون سے کہیں زیادہ اس کی کریز کا ہر دم خیال رکھتے تھے ۔ وہ کپڑے پہنتے نہیں تھے بلکہ کپڑوں کو اپنے اوپر لٹکائے رکھتے تھے ۔ دن بھر ہینگر کی طرح ٹنگے رہتے تھے اور اپنے جسم کو کم سے کم حرکت میں لاتے تھے ۔ کبھی کوئی چیز ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرجاتی تو اسے خود سے نہیں اٹھاتے تھے ۔ دوسروں سے اٹھواتے تھے تاکہ پتلون کی کریز خراب نہ ہونے پائے ۔ چلتے تو بہت احتیاط سے چلتے تھے ۔ ہر قدم نہایت آہستہ اٹھاتے تھے اور اسے دوبارہ زمین پر رکھنے سے پہلے اس زمین کا بغور جائزہ لے لیا کرتے تھے جہاں اُٹھے ہوئے قدم کو رکھنا مقصود ہوتا تھا ۔ صحیح معنوں میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے تھے بلکہ پھونکتے زیادہ تھے اور قدم کم اٹھاتے تھے ۔
ایک دن میں نے پوچھا ’’محتاط بیگ تم اس قدر احتیاط سے کیوں چلتے ہو؟‘‘ بولے ’’میرا قد یوں بھی ساڑھے پانچ فیٹ کا ہے ۔ احتیاط سے نہیں چلوں گا تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ گھس گِھسا نہ جائے  ۔ اسی لئے احتیاط لازم ہے‘‘ ۔

ایسا محتاط آدمی اپنی صحت کے بارے میں کتنی احتیاط کرتا ہوگا اس کا اندازہ آپ خود لگالیجئے ۔ دن میں دس بارہ مرتبہ اپنی نبض پر ہاتھ رکھ کر یہ اطمینان کرلیتے تھے کہ نبض چل بھی رہی ہے یا نہیں ۔ کبھی کبھی انہیں شبہ ہوجاتا تھا کہ ان کی نبض رک گئی ہے ۔ تب وہ اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑ کر میرے پاس آتے تھے اور اپنی نبض میرے ہاتھ میں تھمادیتے تھے تاکہ میں ان کے زندہ رہنے کی تصدیق کرسکوں ۔ ایک دن میں نے کہا ’’یار! تمہاری سانس تو چل رہی ہے ، نبض دیکھ کر کیا کروگے؟‘‘
بولے ’’سانس کے چلنے سے کیا ہوتا ہے ۔ نبض کو بھی تو چلنا چاہئے‘‘ ۔
میں نے کہا ’’یار! کیوں میرا وقت برباد کررہے ہو ۔ تم تو ابھی زندہ سلامت ہو‘‘ ۔
بولے ’’احتیاطاً اسی کی توثیق آپ سے چاہتا ہوں‘‘ ۔
میں نے کہا ’’بھیا! یقین کرو تم صد فیصد زندہ ہو‘‘ ۔
اپنے زندہ رہنے کی توثیق پا کر پہلے تو خوش ہوئے مگر دوسرے ہی لمحہ میں اپنے اوپر مایوسی طاری کرتے ہوئے بولے ’’مگر یار یہ بھی کوئی زندگی ہے‘‘ ۔ یہ کہہ کرانہوں نے پھر اپنا بایاں ہاتھ داہنے ہاتھ سے پکڑا اور چلے گئے ۔
جب بھی کسی بیماری کے بارے میں کہیں کچھ پڑھ لیتے تو وہ اس بیماری کے جراثیم کو اپنے جسم میں تلاش کرنا شروع کردیتے تھے ۔ طرح طرح کے وسوسے اپنے دل میں اور ان جراثیم کو اپنے جسم میں پالنے میں لگ جاتے تھے ۔ پھر اپنے ڈاکٹر کے پاس جاکر اپنے مخصوص سوالات کے ذریعہ خود ڈاکٹر کی طبی معلومات میں اضافہ کرنا شروع کردیتے تھے ۔

محتاط بیگ نے کبھی شادی نہیں کی ۔ زندگی بھر کنوارے رہے ۔ یوں بھی جس آدمی کو اپنی پتلون کی کریز کے ٹوٹنے کی ہر دم فکر لاحق رہتی ہو وہ بھلا شادی کرکے کیا کرتا ۔ انہوں نے محض اس ڈر سے پہلی شادی نہیں کی کہ اگر پہلی شادی کے بعد بیویوں نے مرنے کا سلسلہ شروع کردیا تو چوتھی بیوی کے بعد وہ کیا کریں گے ۔ شرع کو بھی وہ پتلون کی کریز سمجھتے تھے جسے کسی قیمت پر ٹوٹنا نہیں چاہئے ۔ غرض محتاط بیگ نے اپنی نوجوانی کے دن بھی اتنے محتاط گزارے کہ نوجوانی حیرت سے محتاط بیگ کو صرف دیکھتی رہ گئی کہ ہائے میں کس کے پلّے پڑگئی ۔ گویا انہوں نے اپنی پتلون کے ساتھ ساتھ اپنی نوجوانی کی کریز بھی ٹوٹنے نہیں دی ۔
پچھلے ہفتہ اچانک پتہ چلا کہ محتاط بیگ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ میں ان کے گھر گیا تو دیکھا کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو تھامے ہوئے ابدی نیند سورہے ہیں ۔ میں نے ازراہ احتیاط ان کی نبض دیکھی وہ واقعی بند تھی ۔
یہ سچ ہے کہ محتاط بیگ نے زندگی کو کچھ نہیں دیا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے زندگی سے کچھ لیا بھی نہیں ۔

TOPPOPULARRECENT