Friday , December 15 2017
Home / مذہبی صفحہ / محدث دکن حضرت سید عبد اللہ شاہ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ اللہ کے دوستوں کو اذیت پہنچانے والوں کیخلاف اعلانِ جنگ

محدث دکن حضرت سید عبد اللہ شاہ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ اللہ کے دوستوں کو اذیت پہنچانے والوں کیخلاف اعلانِ جنگ

کیا انسان اسی گوشت پوست کا نام ہے؟ گوشت پوس تو دیگر حیوانوں کو بھی ہے۔ معلوم ہوا کہ کوئی اور بات ہے جس کی وجہ سے یہ دھوم دھام مچی ہوئی ہے۔ اور وہ بات کسی اور مخلوق میں تو کیا، بلکہ فرشتوں میں بھی نہیں ہے۔ انسان معجوم مرکب ہے کہ کل مخلوق میں فرداً فرداً جو باتیں رکھی گئی ہیں، وہ سب حضرت انسان میں موجود ہیں۔
(۱) حرص و شہوت کی وجہ سے وہ بہائم ہے (۲) غصہ کی وجہ سے شیر بھیڑیا جیسے درندوں کے کام کرتا ہے (۳) مکر و حیلہ کی قوت ہونے سے شیطان کی طرح فتنہ پردازی وغیرہ کرتا ہے (۴) عقل کی وجہ سے فرشتوں کے کام مثل تقویٰ پرہیزگاری اور خدائے تعالی سے محبت کرتا ہے اور اس کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ غرض انسان کے اندر جانور بھی ہیں، درندے بھی ہیں، شیطان بھی ہے اور فرشتہ بھی۔

جب انسان جانور، درندہ اور شیطان کی اطاعت کرتا ہے تو ان ہی کے اوصاف قلب میں جمع ہوکر اس کے قلب کو تیرہ و تاریک کردیتے ہیں اور اس کی وجہ سے وہ جانور، درندہ و شیطان کہلانے لگتا ہے۔ لیکن ان سب صفات کا مٹا دینا بھی برا ہے۔ چاہئے تو یہ کہ فرشتہ پن کو تابع کرکے کھانا پینا، خدا کے حسب مرضی غصہ کرنا اور حسب ضرورت مکر و حیلہ کرنا سیکھے۔ اس سے انسان کامل ہوتا ہے اور فرشتے بھی اس کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتے۔ کیونکہ فرشتوں میں بہائم، درندوں اور شیطان کے اوصاف ہوتے ہی نہیں۔ وہ اگر فرشتہ ہے تو کیا تعجب ہے۔ انسان میں یہ سب قوتیں ہوتے ہوئے پھر جب ان سب کو خدائے تعالی کی مرضی کے موافق چلاتا ہے تو کمال کی بات ہے اور اسی وجہ سے وہ اشرف المخلوقات کہلاتا ہے۔ مثلاً آنکھ میں بات کرنے کی قوت ہیں نہیں، پھر اگر آنکھ بات نہ کرے تو کیا تعجب ہے۔ زبان میں بات کرنے کی قوت ہے، پھر اس کو روک کر جہاں خدا کی مرضی ہے، وہاں بات کرے اور جہاں مرضی نہ ہو وہاں بات نہ کرے یہ کمال ہے۔
’’ولایت‘‘ کے تین مدارج ہیں۔ ولی خواہ کسی درجہ کے ہوں انھیں قیامت کی سختیوں کا خوف نہیں۔ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈالی جاتی ہے۔ موت کے وقت فرشتے آتے اور خوش خبری دیتے ہیں کہ ’’مت ڈرو اور غم نہ کرو اور خوش خبری قبول کرلو جنت کی‘‘ یعنی قبروں سے نکلتے ہی بشارتیں شروع ہو جاتی ہیں۔(۱) مسلمان ہوکر اعمال صالحہ کرتے ہوئے ظاہری گناہوں سے بچنا یہ پہلے درجہ کی ولایت ہے، ایسے لوگ بھی ولی ہوتے ہیں۔ (۲) ولایت اول کے لوازم کیساتھ تقویت ایمان اور باطنی گناہوں سے بچنا، یہ دوسرے درجہ کی ولایت ہے۔ اور یہ دونوں اقسام ولایت اختیاری ہیں۔ ذرا سی کوشش کی جائے تو بندہ پر فضل الہی ہو جاتا ہے۔(۳) تیسرے درجہ کی ولایت غیر اختیاری ہے، جس کی ایسی مثال ہے کہ محنت و مشقت کرکے اراضی درست اور گھاس وغیرہ سے صاف کردی گئی اور بیج بو دیا گیا۔ اب نظر آسمان پر ہے، ہر وقت بارش کا انتظار ہے۔

ایسے ہی ایمان لاکر اعمال صالحہ کرنا، اراضی میں محنت و مشقت کرنا ہے۔ ظاہری و باطنی گناہوں سے پاک ہونا۔ گھاس وغیرہ سے اراضی کو پاک و صاف کرنا ہے۔ مرشد کی طرف سے تلقین ذکر و القاء، نسبت اراضی میں بیج بونا ہے۔ جس طرح زراعت میں تخم ریزی کے بعد نظر آسمان پر ہوتی ہے ہے اور ہر وقت بارش کا انتظار رہتا ہے، اسی طرح اب معاملہ مرید و مرشد کے اختیار سے باہر ہے۔ فقط عرش پر نظر ہے۔ جیسے اب تک دنیا میں جذب ہو جانے کی وجہ سے دنیوی تعلقات اپنی طرف کھینچ رہے تھے، ایسے ہی جذب خداوندی اپنی طرف کھینچ لے گا۔ اس کے بعد تیسرا درجۂ ولایت شروع ہوتا ہے جو کمال ولایت ہے۔
جس طرح دس روپیہ ماہوار آمدنی ہو تو بیس روپیہ کی کوشش اور ایک مکان یا اراضی ہو تو دوسرے کی تلاش، غرض ہر وقت مال و متاع دنیا و ذرائع معیشت کی جستجو رہتی ہے، اسی طرح اگر آپ کو پہلے درجہ کی ولایت حاصل ہو تو دوسرے و تیسرے درجہ کے حصول کی کوشش کیوں نہ کی جائے! اور وہ تو بہت ہی کم نصیب ہے جو کسی بھی درجہ کا ولی نہ ہو۔
’’اولیاء اللہ‘‘ کی بھی بھی دو قسمیں ہیں، ایک مجذوب، دوسرے سالک۔ ان میں مجذوبوں کے پاس کسی ریاضت کی ضرورت نہیں۔ جب کوئی مجذوب کسی کو اپنے جیسا بنانا چاہتا ہے تو ایک نظر اس پر ڈالتے ہی وہ دنیا اور اہل دنیا سے متنفر ہو جاتا ہے۔ دیوانوں کی حالت بناکر کسی ویران جنگل یا کھنڈروں میں اپنے عمر کے دن گزار دیتا ہے۔ برخلاف اس کے سالکوں کے پاس ریاضت کی ضرورت ہے، بغیر اس کے کچھ نہیں ہوسکتا۔ حہ حضرات عقل و دماغ کی حفاظت کرتے ہوئے راستہ طے کرواتے ہیں۔ آپ نے حضرت پیران پیر رضی اللہ تعالی عنہ کی حالت سنی ہوگی کہ حضرت نے جنگلوں میں بارہ برس تک گھاس پات کھاتے ہوئے گزارے۔ مگر حضرات نقشبندیہ رحمہم اللہ تعالی نے دیکھا کہ اب لوگوں میں ویسی محنت ہے نہ ہمت، اس لئے بجائے ریاضت شاقہ کے صرف ایک ہی ریاضت اختیار کی ہے اور وہ کثرت ذکر ہے۔ اس سے وہی کام لیتے ہیں، جو پچھلے بزرگ ریاضت شاقہ سے کام لیتے تھے۔اللہ تعالی فرماتے ہیں جو کوئی میرے اولیاء کو ستاتا ہے، میں اس کو بری نظر سے دیکھتا ہوں، جیسے شیرنی اپنے بچہ کو چھیڑنے والے کو نظر غضب سے دیکھتی ہے، بلکہ فرمایا ’’میں میرے دوست کو اذیت پہنچانے والے کے خلاف اعلان جنگ کردیتا ہوں‘‘۔
بعض دفعہ اللہ تعالی اپنے دوستوں کا امتحان ان کے مخالفین اور دشمنوں کے ذریعہ فرماتے ہیں، مگر پھر بہت جلد مخالفین پر غضب نازل ہونے لگتا ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ ہم نے بزرگوں کی مخالف کی، لیکن ہمارا کچھ نہ بگڑا۔ اولیاء اللہ کو ستانا کبھی خالی نہیں جاتا۔ (مواعظ حسنہ سے ماخوذ)
مرسل :  سید اعجاز علی نواب

TOPPOPULARRECENT