Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / محرم انتظامات کیلئے 10 کروڑ روپئے جاری کرنے کا مطالبہ

محرم انتظامات کیلئے 10 کروڑ روپئے جاری کرنے کا مطالبہ

صدر پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد سراج الدین کی پریس کانفرنس

صدر پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد سراج الدین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 7 اکٹوبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد سراج الدین نے محرم کیلئے 10 کروڑ روپئے جاری کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ٹی آر ایس حکومت وقف جائیدادوں کے تحفظ و صیانت اور اس کی نگہداشت میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر نائب صدرنشین پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر میر ہادی علی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کیلئے حکومت کی جانب سے رقمی منظوری دی گئی تھی لیکن اس کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ محرم کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس کے لئے بھی حکومت کی جانب سے کوئی تیاریاں نہیں کی گئی اور نہ ہی مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اس کا جائزہ لیا گیا۔ تلنگانہ کے مسلمان بالخصوص شیعہ مسلمان عاشورخانوں کے متولی حضرات اور مجلس انتظامی کے صدور میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ عاشورخانوں کی تعمیر و مرمت، آہک پاشی اور بورویل سے پانی کی سربراہی جیسے مسائل کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ آل انڈیا شیعہ آرگنائزیشن اور حیدری ایجوکیشنل سوسائٹی کے علاوہ دوسرے شیعہ تنظیموں نے گاندھی بھون پہنچ کر حکومت کی جانب سے محرم کو نظرانداز کرنے کی شکایت کی ہے اور شیعہ وقف جائیدادوں کے تحفظ اور نگہداشت کیلئے فوری 10 کروڑ روپئے کی اجرائی کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسٹر محمد سراج الدین نے کہا کہ 11 ہزار درج رجسٹرڈ عاشورخانہ جات ہیں۔ اے پی گزٹ کے مطابق ان کی تعمیر و مرمت، نگہداشت اور تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہر سال محرم کے موقع پر ریاستی حکومت عاشورخانوں کیلئے گرانٹ ان ایڈ جاری کرتی ہے تاہم اس مرتبہ ابھی تک کوئی گرانٹ جاری نہیں کیا گیا جبکہ 26 اکٹوبر سے محرم کا آغاز ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ محرم کی تیاریوں کے تعلق سے گذشتہ ماہ 23 ستمبر کوایک مکتوب چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو تحریر کرتے ہوئے ضروری اقدامات کرنے اور 10 کروڑ روپئے جاری کرنے کی اپیل کی تھی لیکن حکومت اور چیف منسٹر نے اس پر ابھی تک کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ وزارت اقلیتی بہبود کا قلمدان چیف منسٹر کے پاس ہے باوجود اس کے انہوں نے کوئی اقدامات نہیں کئے۔

TOPPOPULARRECENT