Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / محروس مسلم نوجوانوں کا مقدمہ عدالت میں پیش

محروس مسلم نوجوانوں کا مقدمہ عدالت میں پیش

داعش سے تعلق کے الزام پر گرفتاری کی کوئی بنیاد نہیں : جمعیتہ علماء ہند
نئی دہلی ۔ 19 جولائی (فیکس) بے قصور افراد کا مقدمہ لڑنے والی تنظیم جمعیتہ العلماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر آج وکلاء کی ایک ٹیم نے این آئی اے کی نامپلی کریمنل کورٹ میں فاضل جج سے کہا کہ جس عطاء اللہ رحمن سے متعلق تحقیقاتی ایجنسی، داعش کا مقامی امیر اور لوگوں کو بھرتی کرنے والا ماسٹرمائنڈ ہونے کا دعویٰ کررہی ہے وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہے اور حکومت آندھراپردیش نے اسے بہتر کارکردگی کیلئے انعام سے بھی نوازا ہے۔ جمعیتہ علماء آندھراپردیش و تلنگانہ کے صدر حافظ پیر شبیر احمد و ناظم اعلیٰ حافظ پیر خلیق صابرکی نگرانی میں ایڈوکیٹ ایم اے مجیب نے عدالت میں عطاء اللہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بے قصور شخص ہے اور ایجنسی کے پاس اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ تاہم ملزم عطاء اللہ رحمن کی پولیس تحویل میں پانچ دن کیلئے مزید بڑھا دی گئی ہے حالانکہ این آئی اے کے وکلاء مزید سات دن کی تحویل کا مطالبہ کررہے تھے مگر ایڈوکیٹ مجیب کے سخت اعتراض کی وجہ سے اسے پانچ دن تک محدود کیا گیا۔ دوسری طرف مظفرحسین کی جوڈیشیل کسٹڈی میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ عطاء اللہ اور مظفر حسین ان سات افراد میں سے ہیں جن کو این آئی اے نے داعش سے ہمدردی اور وابستگی کے الزام میں قائد کیا ہے۔ ان پر داعش جیسی خطرناک دہشت پسند تنظیم سے وابستگی کے ساتھ ان کیلئے کام کرنے اور لوگوں کو اکسانے کا بھی الزام ہے۔ آج ان میں سے چار کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے عطاء اللہ کو چھوڑ کر دیگر کو عدالتی تحویل میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ جمعیتہ علماء ہند باضابطہ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ ریاستی ناظم اعلیٰ حافظ پیر خلیق صابر نے کہا کہ انشاء اللہ بے قصوروں کو جلد انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح حیدرآباد واطراف کے بے قصور نوجوانوں کی گرفتاری کا سلسلہ چل پڑا ہے، اس کے مد نظر ہماری جماعت نے فیصلہ کیا ہیکہ جمعیتہ علماء ہند کی نگرانی میں باضابطہ لیگل سیل قائم کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT