Sunday , January 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / محسن دکن حضرت شیخ الاسلام کی خدمات

محسن دکن حضرت شیخ الاسلام کی خدمات

سید محبوب قادری

سید محبوب قادری

اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ الاسلام کو اس دنیا میں مقصد دے کر پیدا کیا اور وہ مقصد عظیم ’’توحید و رسالت کی پاکیزہ تعلیم‘‘ ہے، جس کی نشر و اشاعت کے لئے آپ نے تدریس کا راستہ اپنایا اور اسی تدریسی شوق نے آپ کو مجبور کیا کہ ایک مضبوط اور تادیر قائم رہنے والے ادارہ کی بنیاد ڈالی جائے۔ آپ نے وقت کی ضرورت اور اپنے مقصد عظیم کو پورا کرنے کے لئے ’’جامعہ نظامیہ‘‘ کی بنیاد اللہ کے بھروسے پر رکھی۔ آپ نے یہ بھی محسوس کیا کہ شاہانِ وقت کی ذہن سازی وقت کی اہم ضرورت ہے، جو مقصد میں کامیابی کا ایک اہم ترین ذریعہ ثابت ہوگی۔ اسی غرض سے آپ اتالیق سلاطین ہوئے۔ جب سلاطین آپ کے مطیع ہو گئے تو آپ نے پوری سلطنت میں اسلامی تعلیم کی اشاعت کا آغاز کیا اور پھر حکومت کی جانب سے شہر شہر اور گاؤں گاؤں میں علماء اور واعظین مقرر کئے گئے۔ جب لوگوں کا دینی شعور بیدار ہوا تو سلطنت کے طلبہ دینی تعلیم کے حصول کے لئے جامعہ نظامیہ کا رخ کرنے لگے۔

طلبہ کی جستجو اور ان کی قابلیت کو پروان چڑھانے کی غرض سے آپ نے سلاطین کو توجہ دِلائی کہ وہ ایک کتب خانہ قائم کریں، جس سے طلبہ، علماء، واعظین اور باذوق افراد استفادہ کرسکیں، جس پر سلطانِ دکن میر عثمان علی خاں بہادر نے ایک بہترین کتب خانہ کے قیام کا حکم جاری کیا اور اس کا نام ’’کتب خانہ آصفیہ‘‘ رکھا۔
حضرت شیخ الاسلام نے یہ بھی محسوس کیا کہ عربی زبان و ادب کی جو نادر کتب ہیں، انھیں منظر عام پر لانا چاہئے۔ اس سلسلے میں آپ نے اپنے ہم عصر علماء اور دانشوروں سے مشورہ کیا، جس کے نتیجے میں ’’دائرۃ المعارف العثمانیہ‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ جہاں سے حدیث، فقہ، ادب اور تاریخ وغیرہ کی نادر عربی کتب شائع کرکے ایک بہت بڑے ذخیرہ کو ضائع ہونے سے بچالیا گیا۔ اسی طرح جب حضرت شیخ الاسلام کی نظر باطل فرقوں اور شرپسند عناصر پر پڑی تو آپ نے عقائد اسلام کے تحفظ کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی باطل فرقوں کا رد بلیغ کیا اور پھر اس ضمن میں آپ نے درجنوں کتابیں تصنیف فرمائیں۔

واضح رہے کہ فلاسفہ اور مستشرقین، اسلام پر منطقی انداز میں حملے پر حملے کئے جا رہے تھے، لیکن حضرت شیخ الاسلام نے حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح ان کا ردکیا اور انھیں یہ بتایا کہ ’’حق وہ نہیں ہے، جو وہ لوگوں کو بتلا رہے ہیں، بلکہ حق وہ ہے جو قرآن و حدیث یعنی اسلام بتا رہا ہے‘‘۔ اسی مناسبت سے آپ نے ایک کتاب بنام ’’کتاب العقل‘‘ تصنیف فرمائی۔
حضرت شیخ الاسلام نے نہ صرف کتابیں تصنیف کیں، بلکہ انھیں عوام میں متعارف کرانے کی غرض سے ایک ادارہ ’’مجلس اشاعت العلوم‘‘ قائم کیا، جہاں سے عربی، فارسی اور اُردو کی سیکڑوں کتابیں شائع ہوئیں اور اب تک ہو رہی ہیں۔ آپ نے سفر حجاز کے دوران مدینہ طیبہ میں دیکھا کہ میلاد النبی کے پُرمسرت موقع پر ایک خصوصی خطبہ ’’خطبۂ میلاد‘‘ دیا جاتا ہے۔ اس خطبہ کو آپ نے بہت پسند کیا اور دکن لوٹنے کے بعد تاریخی مکہ مسجد میں میلاد النبی کے موقع پر ’’خطبۂ میلاد النبی‘‘ کا آغاز کیا، جو تاحال جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT