Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / محلہ کی مسجد، ائمہ و مؤذنین … اور ہماری ذمہ داریاں

محلہ کی مسجد، ائمہ و مؤذنین … اور ہماری ذمہ داریاں

حیدرآباد ۔ 7 فبروری (ابوایمل) ایک ایسے وقت جب مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، کیا کوئی تصور کرسکتا ہے کہ تین چار ہزار یا 5 ہزار کی تنخواہ میں کوئی تین وقت کا کھانا آسودگی سے کھا سکتا ہے؟ اپنے بچوں کو اس قلیل تنخواہ میں اچھے خانگی اسکول میں داخلہ دلا سکتا ہے؟ یا کسی ناگہانی بیماری کے موقع پر اطمینان بخش علاج کروا سکتا ہے؟ اتنی کم تنخواہ میں سکون کی زندگی گذارنا ممکن نہیں لیکن ہمارے لئے یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے مسلم معاشرے کا وہ معزز طبقہ جو تمام دینی معاملوں میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ دن رات 5 وقت نماز کی طرف بلاتا ہے۔ اس معزز طبقے کے ساتھ ایسی ہی ناانصافی ہورہی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے، اسے دیکھ کر بہت سارے مسلمان اپنی اولاد کو امام یا مؤذن نہیں بنانا چاہتے۔ بتایا جاتا ہیکہ مؤذن صاحب کے ساتھ نوکر جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ ایک مسجد کے مؤذن صاحب نے راقم الحروف سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پچھلے 6 سال سے ایک مسجد میں مؤذن کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ آج ہماری 5 ہزار تنخواہ ہے۔ ہر سال رمضان میں 500 کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ مجھے تین لڑکے اور دو لڑکیاں، یہ تمام خانگی اسکولوں میں زیرتعلیم ہیں۔ یہ تنخواہ میرے لئے ناکافی ہے۔ ہر ماہ کی آخری تاریخوں میں کچھ نہ کچھ قرض لینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا ذمہ دار وہ صرف مسجد کمیٹی کو بھی نہیں سمجھتے کیونکہ میں ہر مہینہ کے شروع میں محلہ کے گھرگھر جاکر چندہ وصول کرتا ہوں جہاں انہیں 10 ، 20 اور کوئی 30 روپئے دیتے ہیں۔ پورے محلہ میں صرف چند افراد ہی ایسے ہیں جو 100 روپئے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام صاحب کی تنخواہ 5500 روپئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اہلیان محلہ کی بھی ذمہ داری ہیکہ وہ زیادہ سے زیادہ چندہ دیں تاکہ مسجد کے دیگر کاموںکے علاوہ مؤذن اور امام کی تنخواہ بھی معقول دی جاسکے اور وہ بھی باآسانی زندگی بسر کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT