Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / محمد اخلاق کا قتل ہندوستانی تمدن پر سوالیہ نشان

محمد اخلاق کا قتل ہندوستانی تمدن پر سوالیہ نشان

ظفر آغا
دہلی سے چند میل کے فاصلے پر اخلاق کا بہیمانہ قتل ۔ محض اس ملک کے مسلمانوں کا نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا المیہ ہے ۔ اخلاق کو بے وجہ جس سفاکی سے گائے کا گوشت کھانے کے جھوٹے الزام میں مارا گیا اس سے ہر باضمیر شخص کی گردن شرم سے جھک گئی ۔ اخلاق کا قتل محض کسی مسلمان کا قتل نہیں بلکہ اخلاق کا قتل ، ہندو تہذیب اور ہندو سماج کی روح پر لگا ایک ایسا داغ ہے جس کو کوئی باضمیر ہندو بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ۔ بقول صدر جمہوریہ ہند جناب پرنب مکھرجی ہندوستان اور ہندو سماج کی صدیوں پرانی پہچان ہی ’’شانتی اور اہنسا‘‘ ہے یہی ہندو سماج اور ہندو دھرم کی روح ہے ۔ دادری واقعہ نے اس ملک کی شانتی اور اہنسا کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی شانتی اور اہنسا کے تصور کو ہی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ تب ہی تو دادری واقعہ کے بعد ہندوستان ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں ہندوستان کو لعنت ملامت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔
ہندوستان کوئی معمولی ملک نہیں ہے ۔ یہ وہ ملک ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال جیسے شاعر و مفکر نے کہا تھا کہ

کچھ بات ہے ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دور جہاں ہمارا
۔ آخر ہندوستان کی ہستی کیوں نہیں مٹتی جبکہ بقول اقبال ’’یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے‘‘ ۔ ہندوستان کی اس ابدی بقا اور مسلسل کامیابی کا راز ہندو دھرم کی آتما ہے ۔ جس کی بنیاد اہنسا اور شانتی کے ستونوں پر رکھی ہوئی ہے ۔ یہ شانتی اور اہنسا ہی دو ایسے عناصر ہیں جنہوں نے ہندو سماج کا دامن ہر مذہب کے لئے کھول دیا ۔ تب ہی تو دنیا کی کم و بیش ہر قوم اس عظیم الشان ملک میں آئی اور یہیں کی ہو کر رہ گئی ۔ ہر مذہب کو ہندوستان نے قبول کیا ۔ اس ملک میں کبھی گوتم بدھ نے راج پاٹھ چھوڑ کر نسلی اونچ نیچ کے خلاف جنگ لڑی تو کبھی صوفیوں اور اولیاء نے انسانی برابری اور انسانی ہم آہنگی کا پیغام دیا ، تو کبھی نانک اور کبیر نے پریم کے گیت گائے ۔ اسی ملک میں کلیساؤں سے نکل کر راہبوں نے جدیدیت کا پیغام دیا اور ہندو سماج نے ہر مثبت پیغام کو قبول کیا ،کیونکہ ہندو دھرم کی روح شانتی اور اہنسا ہے ۔ تب ہی اس ملک کی تہذیب میں ہر مذہب کا رنگ گھل مل گیا اور اسی کے سبب ہندوستان میں ایک ایسی گنگا جمنی تہذیب وجود میں آئی جس نے ہندوستانی ہستی کو وہ بقا دی کہ ہندوستان کو نہ کوئی مٹاسکا اور نہ شاید مٹاپائے گا ۔
لیکن دادری واقعہ نے ہندوستان کی بقا پر پہلی بار سوال کھڑا کردیا ہے کیونکہ دادری میں اخلاق کا قتل نہیں ہوا بلکہ دادری میں ہندو مذہب اور ہندو تہذیب کے بنیادی عناصر شانتی اور اہنسا کا قتل ہوا ہے ۔ دادری کا پیغام گوتم بدھ ، صوفیوں اور سنتوں اور نانک و کبیر جیسے ہندوستانی تہذیب کے معماروں پر وار ہے ۔ دادری سے جو صدا اٹھی ہے اس کی گونج تو یہ کہہ رہی ہے کہ ہندوستان کا دامن تنگ ہے اور ہندوستان کے دل میں صرف ایک خاص مذہب کے علاوہ کسی اور کے لئے جگہ نہیں ہے ۔ یہاں اب گنگا جمنی تہذیب نہیں برقرار رہے گی بلکہ اب ہندوستان ایک تنگ نظر تمدن کو جنم دے گا جس میں شانتی اور عدم تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہوگی ۔
کیا ہندوستان دادری کے اس تنگ نظر پیغام کو تسلیم کرلے گا ۔ ہندو سماج کے سامنے اب یہ سوال ہے کہ آیا وہ صدیوں پرانی شانتی اور اہنسا پر مبنی ویدوں اور پرانوں کی روایت کو چھوڑ کر دادری کی روایت  کو تسلیم کرے گا؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہندو سماج ہی نہیں شاید ہندوستان کی ہی ہستی مٹ جائے ۔ کیونکہ یہ کوئی چھوٹا ملک نہیں ہے ۔ اس ملک میں درجنوں مذہبوں کی آمیزش ہے ۔ یہاں سیکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں یہاں تھوڑے سے فاصلے پر رسم و رواج بدل جاتے ہیں ۔ اس سرزمین پر ہر خطے میں الگ تہوار منایا جاتا ہے ، الگ گیت و سنگیت ہوتا ہے ۔ الگ قسم کا کھانا پینا ہوتا ہے ۔ کیا ایسے ملک کے بارے میں کوئی ایسا نظریہ قائم رکھ سکتا ہے جس میں دادری کی تنگ نظری کے سوا کچھ نہ ہو ۔ دادری کا نظریہ یہ اعلان کرتا ہے کہ ہر ہندوستانی کو محض وہی کھانا کھاناہوگا جو دادری کے قاتلوں کا کھانا ہے۔ کل دادری کے قاتل ہر ہندوستانی سے کہیں گے کہ ہر ہندوستانی وہی کپڑا پہنے گا جو کپڑا وہ پہنتے ہیں ۔ ہر ہندوستانی وہی مذہب تسلیم کرے جو انکا مذہب ہے ۔ ہر ہندوستانی وہی تہوار منائے جو انکا تہوار ہے ۔ ہر ہندوستانی وہی زبان بولے جو ان کی زبان ہے ۔ کیا اس سوا سوکروڑ کی آبادی والے وسیع و عریض ہندوستان میں وہ ممکن ہے جو دادری کے قاتل چاہتے ہیں ؟

اب ہندوستان کو یہ طے کرنا ہے کہ آیا وہ شانتی اور اہنسا پر مبنی صدیوں پرانی ہندو تہذیب کو برقرار رکھے گا یا دادری سے اٹھنے والے تنگ نظریہ کو تسلیم کرے گا ۔ دادری نے ہندو ۔ مسلم رشتوں کا سوال نہیں کھڑا کیا ہے کیونکہ اس ملک سے مسلمانوں کو کوئی ختم نہیں کرسکتا ہے ۔ مسلمان اس ملک کی تہذیب ، سماج اور سیاست کا اٹوٹ انگ ہیں ، جن کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ دادری کا حملہ تو ہندو تہذیب پر حملہ ہے ۔ اب ہندو سماج کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ آیا شانتی اور اہنسا کو ترک کرکے دادری کی تنگ نظری کو اختیار کرے گا یا پھر وہ ہندو تہذیب کی صدیوں پرانی شانتی اور اہنسا کی روایت کو تسلیم کرے گا ۔ اور اس سوال کے جواب میں ہندوستان کی بقا بھی پنہاں ہے ۔ کیونکہ ہندوستان صدیوں پرانی شانتی اور اہنسا کی ہندو روایت  کے بغیر چل ہی نہیں سکتا ہے ۔ دادری کے بعد دو صدائیں اٹھی ہیں ۔ ایک دادری کی تنگ نظر گونج اور دوسری صدر محترم پرنب مکھرجی کی صدا ، جس نے ہندوستان کی صدیوں پرانی شانتی اور اہنسا کی روایت کو پھر سے اجاگر کیا ہے ۔ دیکھیں اب اس ملک کا ضمیر کون سی صدا سنتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT