Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / محمد اخلاق کی موت پر اقوام متحدہ کو مکتوب کی مدافعت

محمد اخلاق کی موت پر اقوام متحدہ کو مکتوب کی مدافعت

بچہ مزدوری ، بدائیون پھانسی کیس کے وقت یہ سماج کے ٹھیکیدار خاموش کیوں تھے:اعظم خاں
لکھنو ۔ 7 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) دادری میں بیف کھانے کی افواہوں پر مقامی ہجوم کی زد و کوب میں محمد اخلاق کی ہلاکت کے مسئلہ کو اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کے سوال پر مختلف گوشوں کی سخت تنقیدوں کے شکار اترپردیش کے سینئر وزیر اعظم خاں نے آج اپنے سیاسی مخالفین پر جوابی وار کیا اور دریافت کیا کہ بچہ مزدوری کا سوال جب اقوام متحدہ میں اٹھایا گیا تھا، اس وقت سماج کے یہ ٹھیکیدار کہاں تھے۔ اعظم خاں نے یہاں منعقدہ ایک پروگرام میں کہا کہ ’’محض مٹھی بناکر ہوا مُکے مارنے سے کوئی طاقت کا مظاہرہ نہیں ہوتا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ الفاظ کی الٹ پھیر کے ذریعہ حقائق بیان نہیں کئے جاسکتے ۔ اس کے لئے ٹھوس کام کی ضرورت ہے ‘‘۔ اعظم خاں نے مزید کہا کہ بدائیون میں جب دو رشتوں کی بہنوں کو پھانسی پر لٹکا گیا تھا، یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا تھا۔ چیف منسٹر کو اقوام متحدہ کے سکریٹری کے ایک مکتوب کا جواب دینا پڑا تھا۔ اس وقت سماج کے یہ نام نہاد ٹھیکیدار کہاں تھے‘‘۔ محمد اعظم خاں نے دریافت کیا کہ ’’بچہ مزدوری اور مزدور تحریکوں کے کئی مسائل اقوام متحدہ میں اٹھائے گئے اور حتیٰ کہ کیلاش ستیارتھی نے نوبل انعام بھی حاصل کرلیا، اس وقت یہ لوگ کہاں تھے‘‘؟  اترپردیش کے  سینئر وزیر نے کہا کہ صحت سے متعلق لاکھوں مسائل اقوام متحدہ سے رجوع کئے گئے لیکن اس وقت کسی نے بھی یہ نہیں کہا تھا ایسا کرنے والے پاکستان کے ایجنٹس ہیں اور انہیں ہندوستان چھوڑ دینا چاہئے لیکن جب کوئی شخص، محض ہندوستان کو ہندو راشٹرا میں تبدیل کرنے اور جمہوریت کو ختم کرنے کے خواہشمند افراد کے ہاتھوں کسی بے قصور پر کی موت پر سوگ مناتا ہے تو اس پر اعتراض کی کوئی گنجئش نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ اعظم خاں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون کے نام ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے ہجوم کے ہاتھوں محمد اخلاق کی بے رحمانہ ہلاکت کا تذکرہ کیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ آر ایس ایس اس سیکولر اور کثیر ثقافتی ملک کو ایک اکثریتی قوت پر مبنی ہندو راشٹر بنانے کے در پر ہے۔
گجرات ہائیکورٹ میں تیستا سیتلواد کی عرضی مسترد
احمد آباد ۔ 7 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) گجرات ہائیکورٹ نے آج مبینہ رقومات غبن کیس میں سماجی کارکن تیستا سیتلواد اور ان کے شوہر جاوید آنند کی اس عرضی کو مسترد کردیا کہ ان کے شخصی اور غیر سرکاری تنظیموں کے منجمد بینک کھاتوں کو بحال کردیا جائے ۔ اس خصوص میں زیریں عدالت کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے ہائیکورٹ نے کہا کہ گلبرگ سوسائٹی فنڈ کے غبن کیس میں سنگیین الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہے ۔ اہمیت رقومات کی نہیں ہے بلکہ رقم کی ہیرا پھیری سے متعلق مجرمانہ کارستانی کی ہے، چونکہ اس کیس میںایک سنجیدہ نکتہ پر تحقیقات کی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT