Wednesday , December 13 2017
Home / ادبی ڈائری / محمد افسر علی پٹیل

محمد افسر علی پٹیل

اشہر ندیمی کا شمار حیدرآباد کے ان شعراء میں ہوتا ہے ، جنہوں نے دنیائے ادب کو اپنی خوش کلامی، حقیقت سے مزین شاعری کے بے شمار نادر و نایاب تحائف پیش کئے ہیں ۔ ’’شاہکار‘‘ اشہر ندیمی کا شعری مجموعہ بھی اسی کا ایک حصہ ہے ۔ اشہر ندیمی کی شاعری میں خیال کی بالیدگی الفاظ کی جدت کا جو ہنر ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے وہ حد درجہ کمال کا حامل ہے اور نہایت ہی عمدہ اور نفیس معلوم ہوتا ہے ۔ شاعری تو وہی ہے جس میں عصر حاضر کے تقاضوں کا احساس و ادراک کا خزانہ موجود ہو اور اپنے کسی رفیق سے رفاقت کو نبھانے میں زمانے میں درپیش مسائل کی جانکاری ہو ۔ مزدوروں کا استحصال سماج کا وطیرہ رہا ہے ۔ سماج میں ہر وقت محنت پر سرمایہ داری کا غلبہ رہا ہے ۔ اس نظام کے خاتمے کے متعلق شاعری میں راہوں کو ہموار کیا جاتا ہے ۔ وہی شاعری سماج کی شاعری مظلوموں کی شاعری پچھڑے طبقات کی شاعری متصور کی جاتی ہے اور ان تمام کا نچوڑ اشہر ندیمی کی شاعری میں ہم کو جا بجا محسوس کرنے کو ملے گا ۔
عصر حاضر کے مسائل پر شاعرانہ گفتگو کرنا اشہر ندیمی کا ایک خاص کمال معلوم ہوتا ہے  اور یہ ضروری بھی ہے کیوں کہ دور حاضر میں نت نئے مسائل سماج کے لئے درپیش ہیں ۔ اسی لئے بذریعہ شاعری ان مسائل کی نشاندہی کرنا اور ان کے حل کی راہیں تلاش کرنا ایک باہنر فنکار کی عین ذمہ داری ہوتی ہے ۔ اسی مناسبت سے اشہر ندیمی بھی شعر کہتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ایک جگہ یوں کہتے ہیں۔

جو دل پہ ہوا ہے وہ ستم بول رہا ہے
تم چپ ہو مگر دیدۂ نم بول رہا ہے
کب جاگوگے تم نیند سے اے نیند کے مارو
یہ وقت کوئی بات اہم بول رہا ہے
بربادی ملت کے ہیں آثار نمایاں
ہر شخص ہر اک بات میں ہم بول رہا ہے
اشہر ندیمی نے اپنی شاعرانہ و فنکارانہ صلاحیت کے ذریعے زمانہ میں مجبور ، مظلوم پر بیتنے والے حالات کی مکمل عکاسی کی ہے اور یہ حقیقت بھی مسلم ہے کہ جب کبھی بھی کسی مجبور پر جبر ہوتا ہے کسی مظلوم پر ظلم ہوتا  ہے تو حالت یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ اپنی زبان حال سے کچھ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو مگر اس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ یہ مظلوم ہے مجبور ہے ۔ اس کی ترجمانی کرنے کی اشہر ندیمی نے جو کوشش کی ہے وہ نہایت خوبصورت ہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

اشہر ندیمی کی غزل گوئی ہو کہ نظم گوئی انہوں نے دونوں اصناف میں روایتی اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے نئے نئے خیالات اور موضوعات سے اپنی شاعری کو ایک نئی جہت دی ہے ۔ ان نئے خیالات اور موضوعات میں کمزوروں پر ظلم و استبداد سے لے کر حکومتوں کے ناپائیدار نظام تک کا احاطہ کیا ہے ۔ اشہر ندیمی جب غزل کہتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی پر لحن ساز بج رہا ہے جو الفاظ کی بندش میں بندھا ہوا ہے اور وہ لحن کبھی زمانے کے پیچ و خم کی بات کرتا ہے تو کبھی زمانے میں پائے جانے والے ناقص اقتصادی ، سماجی ، سیاسی اصولوں پر تنقیدی نظر ڈالتا ہے ۔ اشہر ندیمی نے اپنی شاعری کے ذریعے قدرت کے نظام کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا بلکہ سماج کی جانب سے بنائے گئے نظام جس میں انفرادیت پرستی ، شخصیت پرستی کا دخل ہوتا ہے جو خالص چند لوگوں کے ذاتی مفادات پر قائم ہوا کرتا ہے جس کی وجہ سے سماج میں ایک افراتفری کا عالم برپا ہوتا ہے اس کی نشاندہی کی ہے ۔

1940 اور 1950 کے دہے کی شاعری کا تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت کے ادبی معیار کی مناسبت سے اس دور کے شعراء نے شعر کہے ہیں جن میں نمایاں طور سے مخدوم محی الدین ، جاں نثار اختر ، ساحر لدھیانوی ، خورشید احمد جامی اور شاذ تمکنت اور بے شمار شعراء وغیرہ ہیں ۔ ان شعراء کی شاعری میں بلا کی سحر انگیزی و منظر کشی پائی جاتی ہے اور کسی معاملے میں سماج کے ناروا سلوک پر مذکورہ بالا شعراء اپنی شاعری کے ذریعے صدائے احتجاج اس طرح بلند کرتے ہیں جیسے یہ ناروا سلوک خود ان کے ساتھ ہوا ہے  اس طرح کی کوشش ، اشہر ندیمی بھی کرتے ہوئے ہم محسوس کرسکتے ہیں ۔
تاریخ میں ملی نہ مثال اس جنون کی
ہولی وہ میرے ملک نے کھیلی ہے خون کی
بڑھنے لگی ہے ملک میں جو پیاس خون کی
تیرے جنون کی ہے کہ میرے جنون کی
1950 کے دور میں ساحر لدھیانوی نے جن پرخطر حالات سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ پائے اشہر ندیمی نے دور حاضر میں ان حالات کو محسوس کیا ہے اور ان سے دوچار ہونے کی ان کی شاعری ہی اس کی زندہ مثال ہے ۔ ساحر لدھیانوی اپنی ایک نظم میں یوں کہتے ہیں ۔

مرے جہاں میں سمن زار ڈھونڈنے والے
یہاں بہار نہیں آتشیں بگولے ہیں
دھنک کے رنگ نہیں سرمئی فضاؤں میں
افق سے تابہ افق پھانسیوں کے جھولے ہیں
پھر ایک بار منزل خوبنار کی طرف ہیں رواں
وہ رہنما جو کئی بار راہ بھولے ہیں
بلند بام اس جمہوریت کے پردے میں
فروغ محبس زنداں ہیں تازیانے ہیں
اسی طرح اشہر ندیمی یوں کہتے ہیں
ہوا خراب ہے بارود ہے فضاؤں میں
چھڑی ہے جنگ دو ساختہ خداؤں میں
برس رہے ہیں مزائل  دھل رہی ہے زمیں
ستم کے ظلم کے شعلوں میں جل رہی ہے زمیں
زمیں پہ جب بھی کہیں جنگ سر اٹھاتی ہے
وباء بھی قحط بھی فاقے بھی ساتھ لاتی ہے
اور ایک نظم کا بند یوں ہے
میں اپنے جسم پہ سانسوں کا بار اٹھائے ہوئے
بھٹک رہا ہوں حصول حیات کی دھن میں
ستم جہاں کے مَیں ہنس ہنس کے جھیل لیتا ہوں
سحر کی دھن میں حسیں کائنات کی دھن میں
مندرجہ بالا نظموں کے بندوں میں اشہر ندیمی نے جن تجربات کو عصر حاضر میں خود محسوس کیا ہے ان کی ترجمانی کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ انتہائی خوبصورت ہے جو لسانی اعتبار سے اور حقیقت بیانی کے اعتبار سے بھی درست معلوم ہوتی ہے ، کیوں کہ آج کے دور میں انسان ہر جگہ ، اپنے آپ پر پچھتاوا ، ندامت  ،ناکامی کا احساس لئے پھرتا ہے ۔ جو خود انسان کا اپنا پالا ہوا ہے  اور اشہر ندیمی اپنے کسی رفیق سے جو بے باکی سے مخاطب ہیں ہم اس کو مندرجہ بالا اشعار میں ہم محسوس کرسکتے ہیں ۔ اشہر ندیمی نے ایک جگہ حکومتوں کے ناپائیدار نظام کے بارے میں یوں اظہار خیال کرتے ہیں :۔

اساس امن پہ یہ اتحاد کا انبوہ
تلاش امن کی کوشش میں تلخ کام نہ ہو
دکھا کے خواب اجالوں کا لے چلے رہبر
جدھر یہ لے کے چلے تھے ادھر بھی شام نہ ہو
گزر رہے ہیں دلوں سے ہزار اندیشے
ہر ایک ہاتھ میں خنجر دکھائی دیتا ہے
دکھائی دیتے ہیں دم توڑتے ہوئے انساں
اچھلتے خون کا منظر دکھائی دیتا ہے
اس بند میں دنیا میں جو بدامنی کا ماحول ہے اس کی عکاسی کی گئی ہے ۔ جو بدامنی اکثر و بیشتر حکومتوں کے جابرانہ اور تشدد سے بھرے فیصلوں سے رونما ہورہی ہے جس میں بے قصور لوگوں کو جام شہادت نوش کرنا پڑرہا ہے ۔ جو ایک بھیانک امر ہے ۔
اشہر ندیمی کے مجموعہ کلام ’’شاہکار‘‘ میں پائے جانے والے اشعار کو پڑھنے سے یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اشہر ندیمی بھی مخدوم ، ساحر ، جاں نثار اختر سے متاثر تھے ۔ تب ہی تو ان کی شاعری میں ان شعراء کے کلام کا پرتو ملتا ہے ۔ ’’شاہکار‘‘ اشہر ندیمی کا مجموعہ کلام نہایت ہی خوبصورت انداز میں قارئین کے لئے پیش کیا گیا ہے ۔ اس کی کتابت کمپیوٹر کی نہیں ہے بلکہ کاتب نے کتابت کی ہے اور سرورق بھی سادہ ہے جو دل کو لبھانے والا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT