Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / محمد عبدالحفیظ اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے

محمد عبدالحفیظ اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے

شادی سے عین ایک دن قبل دو پاؤں اور ہاتھ سے محروم نوجوان خوشی سے سرشار ، ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور ہمدردان ملت کے حق میں دعائیں

شادی سے عین ایک دن قبل دو پاؤں اور ہاتھ سے محروم نوجوان خوشی سے سرشار ، ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور ہمدردان ملت کے حق میں دعائیں

حیدرآباد ۔ 18 ۔ مارچ : زندگی میں کب کس کے ساتھ کیا ہوجائے یہ کوئی کہہ نہیں سکتا اور نہ ہی اس کے بارے میں دعوے کرسکتا ہے ۔ وہی ہوتا ہے جو قدرت کو منظور ہوتا ہے ۔ اگر کسی کے ساتھ ماں کی دعائیں اور باپ کی شفقت موجود ہو تو وہ دنیا کی ہر مصیبت کا خندہ پیشانی سے سامنا کرسکتا ہے کیوں کہ ماں کی دعائیں اور باپ کی شفقت سے رب ذوالجلال اس پر مہربان ہوتاہے اور ایسے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں کہ کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ ورنگل کے ایک چھوٹے سے گاوں مری پیڈا کے رہنے والے 28 سالہ محمد عبدالحفیظ کی زندگی ایک مرحلہ پر تباہ ہوگئی ۔ شادی سے عین ایک دن قبل ہی موبائیل فون پر گفتگو کے دوران برقی شاک کی زد میں آجانے کے باعث وہ دو پیروں اور ایک ہاتھ سے محروم ہوگئے شادی کا گھر جہاں بھائی بہن و رشتہ دار خوشیاں منا رہے تھے ماں اپنے بیٹے کی خوشیوں پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی اچانک خاموشی چھا گئی اور پھر ہاسپٹل میں ڈاکٹروں نے عبدالحفیظ کی زندگی بچانے کے لیے اس کے دو پیر اور ایک ہاتھ کو جسم سے علحدہ کردیا ۔ ماں باپ اپنے جواں بیٹے کی حالت زار پر تڑپ کر رہ گئے اور رات دن ماں بارگاہ رب العزت میں ہاتھ پھیلائے اپنے نور نظر کی زندگی کے لیے دعائیں مانگنے لگی ۔ ایک تڑپتی اور بلکتی ماں کے آنسوؤں پر قدرت کو رحم آیا اور اس نے عبدالحفیظ کے لیے روزنامہ سیاست کے ذریعہ خوشحالی کا سامان فراہم کیا جس کے نتیجہ میں آج محمد عبدالحفیظ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوگیا ہے ۔ سیاست میں اس نوجوان کے بارے میں درد ناک رپورٹ کی اشاعت کے فوری بعد ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے ورنگل میں سیاست کے زیر اہتمام منعقدہ رشتوں کے دوبدو پروگرام میں عبدالحفیظ کو 50 ہزار روپئے کی امداد فراہم کی جس کے بعد سے حیدرآباد ملک و بیرون ملک میں مقیم قارئین سیاست اور ہمدردان ملت مدد کے لیے دوڑ پڑے اس طرح صرف 18 دنوں میں نہ صرف اس نوجوان کے لیے سیاست نے 325000 روپئے جمع کئے بلکہ اسے مصنوعی پاؤں نصب کروانے کے انتظامات کئے ۔

چنانچہ ہیلپنگ ہینڈ فاونڈیشن کی مدد اور آرتھوانڈیا کی مہارت سے جرمنی ساختہ مصنوعی پیر لگائے گئے ۔ این آر آئی احمد اللہ خاں اور ان کے ساتھیوں کا بھی اس نیک کام میں تعاون حاصل رہا ۔ آج دفتر سیاست پر عبدالحفیظ جو فی الوقت صنعت نگر میں اپنی بہن کے ہاں مقیم ہیں اپنی ماں علیمہ بیگم کے ہمراہ پہونچ کر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے ملاقات کی اور سیاست کے ساتھ ساتھ ہمدردان ملت اور قارئین سیاست کے حق میں دعائیں کیں جب کہ محمد عبدالحفیظ خوشی کے مارے کچھ کہنے سے قاصر تھے ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اس نوجوان نے بہت ہی مشکل سے کہا کہ وہ ان کی ماں اور باپ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ورنگل سے 90 کیلو میٹر دور واقع ایک چھوٹے سے دیہات میں تڑپتے ہوئے اس خاندان کی کوئی مدد کرے گا ۔

لیکن سیاست نے اس دور دراز مقام پر پہنچ کر ایک مصیبت زدہ نوجوان کی مدد کا بیڑا اٹھایا وہ اور ان کا خاندان زندگی بھر ہمدردان ملت اور سیاست خاص طور پر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور ان کے فرزند عامر علی خاں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھے گا ۔ علیمہ بیگم نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی معذوری کو دیکھ کر روتی اور رو رو کر بارگاہ رب العزت میں دعائیں کرتیں ۔ ان کی دعاؤں کو اللہ نے شرف قبولیت بخشا اور آج ان کا بیٹا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ واضح رہے کہ محمد عبدالحفیظ کو مصنوعی پاؤں نصب کرنے پر 1,49000 روپئے کے مصارف آئے جب کہ 3,25000 میں سے بچی بقیہ رقم جھلس جانے کے فوری بعد علاج کے لیے حاصل کردہ قرض کی ادائیگی میں خرچ ہوگی ۔ دوسری جانب بعض این آر آئیز نے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ وہ عبدالحفیظ کو روزگار کی فراہمی میں مدد کریں گے تاکہ وہ نہ صرف خود کی بلکہ اپنے خاندان کی مدد کرسکے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT