Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / محمد علی مغرب میں اسلام کے سفیر

محمد علی مغرب میں اسلام کے سفیر

محمد ریاض احمد
ہالی ووڈ اسٹار واک آف فیم میں 5000 سے زائد مصروف شخصیتوں کے نام فٹ پاتھ پر نصب ستاروں پر کندہ گئے ہیں، لیکن دوسروں کی طرح دنیا میں باکسنگ کی شان محمد علی کا نام فرش پر کندہ اسٹار پر نہیں لکھا گیاہے بلکہ ان کے نام کا اسٹار بڑے احترام کے ساتھ دیوار پر نصب کیاگیا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ دنیا کی بے شمار مشہور شخصیتوں کے نام زمین پر بنائے گئے تارو ں (اسٹارس) پر کندہ کئے گئے ہیں لیکن محمد علی کا نام زمین پر نہیں بلکہ دیوار پر نصب کیا گیا ہے۔ انڈی پنڈنٹ برطانیہ نے اس سلسلہ میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں افسانوی باکسر محمد علی کی اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر معمولی محبت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ تین مرتبہ کے ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپین محمد علی کا نام دیوار پر نصب اسٹار پر کندہ کئے جانے کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ دراصل سال 2002ء میں جب ہالی ووڈ کے واک آف فیم میں محمد علی کو ایک اسٹار کے اعزاز سے نوازنے کی پیشکش کی گئی تب منتظمین کو محمد علی کی ایک شرط مانتے ہوئے اپنی روایتوں سے انحراف کرنے پر مجبور ہونا پڑا، کیونکہ محمد علی نے جن کی عمر اس وقت 59 برس تھی منتظمین سے واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کا احترام نہ کرنے والے لوگ راہ میں نصب کردہ اسٹار پر کندہ ان کے نام کو روندتے ہوئے چلیں۔ انہوں نے منتظمین کو پرزور انداز میں بتایا ’’میرے نام میں ہمارے پیارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک شامل ہے اور میرے لئے یہ ممکن نہیں کہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک کو روندنے کی اجازت دوں‘‘۔

محمد علی کی اس شرط کو منتظمین نے نہ صرف مان لیا بلکہ ان کے نام کے اسٹار کو ایک دیوار پر نصب کیا۔ اس طرح کوڈک تھیٹر انٹرٹینمنٹ کامپلکس کے فرش پر صرف محمد علی کا نام نہیں ہے بلکہ اسے دیوار پر بڑے ہی احترام کے ساتھ سجایا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد علی کے اسٹار کی تنصیب کو متعلقہ کمیٹی نے اس بنیاد پر منظوری دی کہ باکسنگ ایک راست مظاہرہ ہے اور تفریحی صنعت کے فروغ میں اس کا اہم کردار ہے۔ آپ کو بتادیں کہ ہالی ووڈ واک آف فیم میں 2500 سے زائد مشہور و معروف شخصیتوں کے ناموں کے اسٹارس  (تارے) ہیں۔ یہ اسٹارس دراصل، ہالی ووڈ باولوارڈ کے 15 بلاکس اور Vine street ہالی ووڈ کیلیفورنیا کے 15 بلاکس کے فٹ پاتھ پر کندہ کئے گئے ہیں جس کی صفائی کو دیکھ کر دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ افسانوی باکسر محمد علی نے جن کا گزشتہ جمعہ کو 74 سال کی عمر میں انتقال ہواعین اپنے عروج کے زمانے میں عیسائیت ترک کرتے ہوئے دامن اسلام میں پناہ لی تھی اور اکثر و بیشتر وہ مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پھیلائے جانے والے پروپگنڈہ کا جواب دیا کرتے تھے۔ تقریباً 30 برسوں تک پارکنسنسر بیماری کا مقابلہ کرتے ہوئے محمد علی نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ محمد علی ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے ۔ وہ اکثر یہی کہا کرتے تھے کہ زندگی بہت مختصر ہے۔ اللہ عزوجل یہی دیکھتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے کس طرح کا سلوک روا رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد کیسے کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ کسی لڑکے نے جب ان سے پوچھا کہ آپ باکسنگ سے سبکدوشی کے بعد کیا کریں گے تب محمد علی نے جواب دیا تھا کہ اگرچہ انسان کی زندگی بہت مختصر ہے، لیکن زندگی باقی رہے تو میں اپنے نام اور اپنی شہرت کو خیراتی اداروں کے فائدہ کے لئے استعمال کروں گا۔ لوگوں کی مدد اور ان میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کروں گا۔ محمد علی کا یہ بھی کہنا تھا کہ انسان اپنی زندگی میں برسوں سوتا رہتا ہے کئی برس سفر و سیاحت میں گذاردیتا ہے۔ کافی عرصہ بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے اپنی نصف سے زیادہ زندگی بیکار گذاردی ہے۔ اس وقت محمد علی نے یہ بھی کہا تھا کہ آئندہ 16 برسوں میں وہ جو کچھ بہتر کرسکتے ہیں۔ وہ ہے اپنے رب سے ملنے کی تیاری اور جو انسان آخرت کی تیاری کرتا ہے وہی کامیاب رہے گا۔ محمد علی کی موت سے خاص طور پر امریکی مسلمانوں کاایک بہت بڑا نقصان ہوا ہے کیونکہ وہ حقیقت میں ان کے لئے ایک عظیم ہیرو کی حیثیت رکھتے تھے۔ محمد علی درحقیقت امریکہ میں اسلام کے خیرسگالی سفیر تھے اور انہوں نے اپنی یہ ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے امریکہ میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ممکنہ کوشش کی۔ واشنگٹن کی مسجد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امام طالب شریف کے مطابق ’’ہم محمد علی کے لئے اللہ کا شکر اداکرتے ہیں۔ ہفتہ کو واشنگٹن میں محمد علی کا تعزیتی جلسہ منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے طالب شریف نے جو مسجد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدر بھی ہیں کہا کہ امریکہ کو محمد علی کے لئے بارگاہ خداوندی میں شکر بجالانا چاہئے وہ ایک امریکی ہیرو تھے۔ 1960ء کی شہری حقوق اور سیاہ مسلم تحریکیں ہوں یا 11 ستمبر 2001ء کے بعد کے سیاہ دن محمد علی امریکی مسلمانوں کے ہیرو رہے۔ انہوں نے ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کی مدافعت کی۔ مسلمان محمد علی کی جو ستائش کرتے ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ وہ سماجی انصاف کے چیمپین تھے۔ تاحیات خیراتی و فلاحی کاموں میں مدد کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے علاوہ ویٹنام میں امریکی جنگ کی بھی انہوں نے شدت سے مخالفت کی۔ امریکی مسلمانوں کا احساس تھا کہ عیسائی اکثریتی ملک امریکہ میں محمد علی ایک ایسے واحد مسلمان تھے جنہیں لوگوں نے ٹوٹ کر چاہا۔ ان کی جی کھول کر پذیرائی کی۔ 1964ء میں کیاسیس کلے Cassius clay سے محمد علی بننے کے بعد بھی امریکی عوام نے بلالحاظ مذہب و ملت محمد علی کو بہت پیار دیا۔ نیشن آف اسلام کے سابق لیڈر کے فرزند وارث دین محمد دوم محمد علی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’جب ہم آفریقی۔ امریکی کمیونٹی کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں امریکہ میں اسلام کو مقبول بنانے میں محمد علی ایک اہم عنصر دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ میں کم از کم 3.3 ملین مسلمان آباد ہیں ان میں اکثر نے دوسرے مذاہب ترک کرتے ہوئے دین اسلام کے دامن میں پناہ لی ہے۔ سال 2001ء کے بعد سے تو امریکہ میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں دشمنوں نے کافی غلط فہمیاں پیدا کی گمراہ کن پروپگنڈہ کیا۔ ان حالات میں بھی محمد علی نے اسلام اور مسلمانوں کی مدافعت کی۔

محمد علی نے جب ویتنام کے خلاف امریکی جنگ کی مخالفت کی تب انہیں امریکہ میں غدار کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا۔ 1964 میں محمد علی نے اسلام قبول کیا اور مسلک سنت الجماعت کی پیروی کی۔ محمد علی صوفی ازم سے بھی گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔ امریکی صدارتی عہدہ کی امیدواری کے لئے نامزد کئے جانے کی دوڑ میں شامل ری پبلکن امیدوار رونالڈ ٹرمپ نے جب امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی عائد کرنے کا اشتعال انگیز بیان دیا تب محمد علی نے مسلمانوں کی مدافعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے سیاسی قائدین کو مذہب اسلام سمجھنے اور سمجھانے میں اپنے مقام و مرتبہ کا استعمال کرنا چاہئے خاص طور پر یہ وضاحت کرنے کے لئے کہ ان گمراہ قاتلوں نے لوگوں کو اسلام کی سچائی اور اس کی حقانیت سمجھنے میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔ محمد علی نے ایرانی جیل میں 18 ماہ  قید برداشت کرنے والے واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹر جاسن رضاپن کی رہائی کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔ انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے مغویہ رپورٹرڈائنل پرل کی رہائی کے لئے بھی کافی کوشش کی تھی۔ دوسری جانب کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشن نہاد عوض نے محمد علی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں نہ صرف مسلمانوں بلکہ ساری دنیا کے لئے خدا کا ایک تحفہ قرار دیا۔ بہرحال ہم نے سطور بالا میں ہالی ووڈ کے واک آف فیم میں محمد علی کے ستارے کا جو ذکر کیا ہے اس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ محمد علی ایک سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے، جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد سے اپنے آخری وقت تک اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں دشمنان دین کی مہم کا جواب دیا۔ ہالی ووڈ واک آف فیم میں انہوں نے اپنے نام کے ستارہ کو فرش پر کندہ کرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ ان کے خیال میں اسے لوگ جو انہیں پسند نہیں کرتے شاید ان کے نام کو روندتے چونکہ ان کے نام میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اور فاتح خیر حضرت علی ؓ کے اسم مبارک شامل ہے ایسے میں انہیں یہ گوارا نہیں تھا کہ  ان مبارک اسما کی بے حرمتی ہو۔ محمد علی نے شاید اپنا نام بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عشق میں اور شیر خدا حضرت علی ؓ کی بہادری و شجاعت سے متاثر ہوکر محمد علی رکھا تھا اور اس نام کی برکت نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہ نچایا۔ عزت کے تاج سے سرفراز فرمایا۔

باکسنگ رنگ میں اپنے دشمن پر شیر کی طرح ٹوٹ پڑنے والے محمد علی باکسنگ رنگ کے باہر اپنی انسانیت نوازی کیلئے شہرت رکھتے تھے ۔ بے پناہ شہرت و دولت کے باوجود ان میں سادگی، ایثار و خلوص ، ہمدردی اور انسانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ 12 سال کی عمر میں ہی ان میں ایک اچھے باکرس کے گن پیدا ہوگئے تھے اور پھر 1960 ء میں جبکہ ان کی عمر صرف 18 سال تھی روم کے سمر اولمپکس میں لائیٹ ہیوی ویٹ زمرہ میں گولڈ میڈل حاصل کر کے انہوں نے باکسنگ کی دنیا پر اپنی دھاک جمادی۔ اس کامیابی کے بعد کلے نے دامن اسلام میں پناہ لی۔ یہ 1964 ء کی بات ہے کاسیس مارسلیس کلے نے اسلام قبول کر کے نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا میں ہلچل مچادی۔ نیگروز کا نام دے کر سیاہ فام باشندوں کو ظلم اور نسلی امتیاز کا نشانہ بنانے والے سفید فام باشندوں اور اسلام دشمن قوتوں کو کلے کے اسلام قبول کرنے سے زیادہ نام تبدیل کر کے اپنا نام محمد علی رکھنے پر بہت تکلیف پہنچی لیکن امریکہ کے ہر گھر میں محمد علی کے نام کے ڈنکے بجنے لگے۔ جس طرح بی آر امبیڈکر کے بدھ مت قبول کرنے پر لاکھوں دلتوں نے بدھ مت اختیار کیا تھا ، اسی طرح امریکہ میں محمد علی کو دامن اسلام میں مطمئن پاکر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں سیاہ فام باشندوں نے اسلام قبول کرلیا۔ 22 سال کی عمر میں WBC اور WBA ہیوی ویٹ چمپین بننے والے محمد علی اپنے نام کی تبدیلی کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ کاسیس کلے غلامانہ ذہنیت کی علامت تھا اور میں نے اپنا نام محمد علی رکھ کر غلامی کے اس طوق کو نکال پھینکا ۔ 1964 ء 1974 اور 1978 ء میں تین مرتبہ ورلڈ ہیوی ویٹ چمپین رہے۔ محمد علی ایک سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ انہوں نے اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ علم دین کی ترویج و اشاعت پر خرچ کیا۔ امریکیوں میں انہوں نے دین اسلام اور سیرت النبیؐ کی کتابیں مفت تقسیم کیں۔ محمد علی کو امریکہ میں سیاہ فام باشندوں سے روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک سے بہت دکھ ہوتا تھا کیونکہ خود بچپن میں انہیں ایک اسٹور میں صرف اس لئے پینے کا پانی نہیں دیا گیا کیونکہ ان کا رنگ سیاہ تھا۔ وہ اسلامی اخوت سے کافی متاثر تھے۔ محمد علی نے چار شادیاں کیں۔ وہ اسلامی تعلیمات پر سختی سے عمل کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنی پہلی بیوی سونجی رائے کو صرف اس لئے طلاق دی کیونکہ اس نے خواتین کے لباس سے متعلق اسلامی آداب پر اعتراض کیا تھا۔

[email protected]

TOPPOPULARRECENT