Saturday , September 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / محمد مسعود علی فاروقی ایڈوکیٹ کو خراج عقیدت

محمد مسعود علی فاروقی ایڈوکیٹ کو خراج عقیدت

محبوب نگر میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد، مختلف شخصیتوں کا خطاب

محبوب نگر میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد، مختلف شخصیتوں کا خطاب
محبوب نگر /7 دسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلم سنگھم محبوب نگر کی جانب سے سنگھم کے دفتر میں جناب محمد مسعود علی فاروقی سینئر ایڈوکیٹ کے سانحہ ارتحال پر ایک تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا، جس کی صدارت محمد عبد الرزاق صدر سنگھم نے کی۔ جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے محمد امتیاز اسحاق ٹی آر ایس قائد نے کہا کہ موصوف کے دور صدارت میں مدینہ ایجوکیشنل سوسائٹی نے زبردست ترقی کی اور انھیں کی قیادت میں مولانا آزاد ایجوکیشن فنڈ دہلی سے حاصل کرکے تعمیر مکمل کی گئی۔ انھوں نے قانونی رہبری کے ذریعہ اپنا نام روشن رکھا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ موصوف کی یاد میں کوچنگ سنٹر یا اسٹڈی سرکل قائم کیا جائے گا۔ جناب عبد العلیم جنرل سکریٹری سنگھم نے جلسہ کی کارروائی چلائی۔ جناب عبد الرحمن موظف لکچرار نے ان کی علمی و قانونی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرحوم ماہر اقبالیات تھے۔ 1969ء کی تلنگانہ تحریک میں انھوں نے کلیدی رول ادا کیا تھا۔ جناب حلیم بابر صدر بزم کہکشاں نے ان کی طویل علمی اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مجھے مرحوم کی شاگردی کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ وہ مشہور قانون داں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شفیق استاد بھی تھے۔ جلسہ کو محمد اکبر الماس، مقصود سکریٹری وقف کامپلیکس کمیٹی، نذیر علی، عبد المجید، محمد منیر، نصیر الدین، بشیر الدین کے علاوہ صدر جلسہ جناب عبدر الرزاق نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا اور مرحوم کے مشن کو جاری رکھنے کے لئے کام کرنے کا عہد کیا۔ جلسہ کا آغاز جناب عبد الرحمن صوفی کی قراء ت کلام پاک سے ہوا اور حافظ محمد قاسم کی دعا پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔
٭٭ جناب بصیر خالد صدر تحریک قلم نے سعودی عرب سے جناب محمد مسعود علی فاروقی ایڈوکیٹ کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی پیام روانہ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مرحوم ایک زبردست علمی قابلیت کے حامل شخص تھے۔ ان کا سب سے بڑا مشن ملت کے نوجوانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا تھا، جس کے لئے وہ آخری سانس تک سرگرم رہے۔ المدینہ ایجوکیشن سوسائٹی اور اس کے ماتحت ادارہ جات ان کی کاوشوں کی یادگار ہیں۔ مرحوم کو انگریزی زبان پر خاص عبور تھا، لیکن اردو زبان و ادب کے لئے وہ ہمیشہ سب سے آگے رہتے۔ انھوں نے کہا کہ محبوب نگر کی ادبی انجمنیں انھیں ماہر اقبالیات کی حیثیت سے یاد رکھیں گی۔ علاوہ ازیں 1969ء کی تلنگانہ تحریک کو طاقت دینے میں انھوں نے اہم رول ادا کیا تھا۔ جناب بصیر خالد نے مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔

TOPPOPULARRECENT