Tuesday , June 19 2018
Home / کھیل کی خبریں / محمد کیف کیلئے سیاسی اننگ آسان نہیں

محمد کیف کیلئے سیاسی اننگ آسان نہیں

نئی دہلی۔ 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کرکٹر محمد کیف اب ایک نئی سیاسی اننگ شروع کرنے جارہے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے کل اپنی پہلی فہرست جاری کی جس میں لوک سبھا انتخابات کیلئے محمد کیف کو پھول پور سے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اب تک امیتھی کے تعلق سے مختلف تبصرے جاری تھے لیکن پھول پور کی بھی منفرد شناخت ہے۔ یہ حلقہ اتر

نئی دہلی۔ 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کرکٹر محمد کیف اب ایک نئی سیاسی اننگ شروع کرنے جارہے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے کل اپنی پہلی فہرست جاری کی جس میں لوک سبھا انتخابات کیلئے محمد کیف کو پھول پور سے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اب تک امیتھی کے تعلق سے مختلف تبصرے جاری تھے لیکن پھول پور کی بھی منفرد شناخت ہے۔ یہ حلقہ اترپردیش کے ضلع الہ آباد میں واقع ہے اور لوک سبھا کی اس نشست سے جواہر لال نہرو سب سے پہلے ہندوستانی پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ لوک سبھا حلقہ پھول پور نے ملک کو پہلا وزیراعظم دیا تھا۔ 1952ء، 1957ء اور 1962ء میں پنڈت نہرو اس حلقہ سے کامیاب ہوتے رہے۔ اس کے بعد جواہر لال نہرو کی بہن وجیا لکشمی پنڈت نے اس حلقہ پر قبضہ برقرار رکھا اور 1967ء تک وہ کامیاب ہوتی رہیں۔

1971ء میں مستقبل کے وزیراعظم وشواناتھ پرتاپ سنگھ نے انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر اس حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی، لیکن 1984ء کے بعد پھول پور سے کانگریس کو پھر کامیابی نہ مل سکی۔ اس وقت رام پوجن پاٹل یہاں سے پارٹی امیدوار تھے۔ رام پوجن پاٹل نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے جنتا دل میں شمولیت اختیار کی اور 1989ء اور 1991ء میں اس حلقہ سے کامیاب رہے۔ 2004ء میں مافیا سے سیاست داں بننے والے عتیق احمد (سماج وادی پارٹی) نے یہاں سے کامیابی حاصل کی۔ 2009ء میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے کپل منی کروریا نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار کانگریس نے کرکٹر محمد کیف کو حلقہ پھول پور سے لوک سبھا انتخابات میں اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

کانگریس کی مخالفت میں جاری موجودہ لہر کے باعث محمد کیف کے لئے یہ اننگ زیادہ آسان نہیں رہے گی۔ وہ سیاسی میدان میں ناتجربہ کار ہیں۔ چند دن قبل تک وہ اُترپردیش کیلئے رانجی ٹروفی کھیلتے رہے جس کی وجہ سے انہیں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا زیادہ موقع نہ مل سکا۔ محمد کیف کو ایک ایسی نشست سے مقابلہ کی ذمہ داری دی گئی ہے جہاں پر کانگریس نے 30 سال سے کامیابی حاصل نہیں کی۔ محمد کیف کرکٹ کے میدان میں بہترین فیلڈنگ کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں لیکن سیاسی میدان میں انہیں کافی محنت کرنی پڑے گی، کیونکہ ان کے لئے یہ سیاسی مقابلہ آسان نہیں ہوگا۔ محمد کیف نے بتایا کہ وہ الہ آباد میں پیدا ہوئے اور یہیں بڑے ہوئے۔ انہوں نے شہر کی سڑکوں پر کرکٹ کھیلی ہے۔

لوگ جب مجھے ہندوستان کیلئے کھیلتا ہوا دیکھتے ہیں تو فخر محسوس کرتے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ لوگ سیاسی میدان میں بھی ان کی تائید کریں گے۔ محمد کیف نے کہا کہ کرکٹ کے بعد سیاست ان کیلئے دوسری اننگ ہے اور انہیں اس میں بھی کامیابی کی توقع ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کرکٹ سے سبکدوشی اختیار کرلیں گے تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ سیاست اور کرکٹ پر مساوی توجہ دیں گے۔ وہ فام میں ہیں اور چند دن قبل ہی جئے پور میں کھیلتے ہوئے دونوں اننگز میں 80 اور70 رنز اسکور کرچکے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے انتخابی مقابلہ میں ٹکٹ کی خواہش کی تھی، تو انہوں نے اس کی تردید کی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ذریعہ فون کانگریس امیدوار کی حیثیت سے انتخاب کے بارے میں اطلاع دی گئی اور انہوں نے اس سے اتفاق کرلیا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ فون کس نے کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT