Wednesday , December 19 2018

محمد ہدایت نے بالآخر چیرمین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کا جائزہ حاصل کرلیا

حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے اقلیتی قائدین کے احتجاج کے دوران گنٹور سے تعلق رکھنے والے محمد ہدایت نے آج صدرنشین آندھراپردیش اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیا۔ محمد ہدایت کل صبح سے ہی صدرنشین کی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے کوشش کر رہے تھے۔ تاہم عہدیداروں نے تکنیکی وجوہات

حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے اقلیتی قائدین کے احتجاج کے دوران گنٹور سے تعلق رکھنے والے محمد ہدایت نے آج صدرنشین آندھراپردیش اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیا۔ محمد ہدایت کل صبح سے ہی صدرنشین کی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے کوشش کر رہے تھے۔ تاہم عہدیداروں نے تکنیکی وجوہات کا بہانہ بناکر جائزہ لینے سے روک دیا تھا۔ چند ڈائرکٹرس کے ساتھ وہ کل دن بھر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دفتر میں موجود تھے جہاں شام میں انہیں تلنگانہ کے کانگریس قائدین کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتحال پر قابو پانے کیلئے پولیس کو طلب کرلیا گیا تھا ۔ بعد میں سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل نے انہیں طلب کیا اور اس مسئلہ پر قانونی رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ قانونی رائے کی بنیاد پر چیف سکریٹری عہدہ کا جائزہ دینے کی ہدایت دی، جس کے بعد آج دوپہر محمد ہدایت نے صدرنشین کے عہدہ کا جائزہ لے لیا۔ اس موقع پر مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور ، جنرل مینجر ولایت حسین اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔ صدرنشین کے علاوہ حیدرآباد ، سدی پیٹ، محبوب نگر اور کرنول سے تعلق رکھنے والے 4 ارکان بورڈ آف ڈائرکٹرس نے بھی جائزہ حاصل کرلیا۔

جس وقت محمد ہدایت جائزہ حاصل کر رہے تھے، کانگریس کے اقلیتی قائدین اچانک پہنچ گئے اور ہنگامہ آرائی کی۔کانگریس کے اقلیتی قائدین نے چیمبر میں موجود چیف منسٹر کی تصویر کے ساتھ کیلنڈرس کو پھاڑ دیا۔ احتجاجیوں نے صدرنشین کے بعض حامیوں کو مارپیٹ کی اور محمد ہدایت کو بھی ڈھکیل دیا۔ احتجاجی قائدین ٹیبل پر چڑھ گئے اور محمد ہدایت سے واپس جانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے جائزہ لینے سے متعلق کاغذات کو چھین کر پھاڑ دیا۔ ہنگامہ آرائی کے دوران محمد ہدایت نے ٹیبل کے نیچے زمین پر بیٹھ کر کاغذات پر دستخط کئے۔ کارپوریشن کے عہدیداروں نے قواعد کے مطابق انہیں عہدے کا جائزہ دیا۔ بعد میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدرنشین نے کہا کہ وہ کارپوریشن کے تحت موجود تمام اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تلنگانہ

اور سیما آندھرا علاقوں کے ساتھ مساوی انصاف کا رویہ اختیار کرتے ہوئے دونوں علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو اسکیمات سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کریں گے۔ محمد ہدایت نے کہا کہ ان کے پیش نظر اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی ہوگی اور وہ علاقہ واریت کے جذبات سے بالاتر ہوکر خدمات انجام دیں گے ۔ واضح رہے کہ حکومت نے 17 فروری کی رات دیر گئے جی او آر ٹی 60 جاری کرتے ہوئے 15 رکنی بورڈ نامزد کیا تھا ۔ صدرنشین کے علاوہ 14 ارکان میں تین ارکان سرکاری عہدیدار ہیں جبکہ مابقی 12 ارکان میں صرف تین کا تعلق تلنگانہ سے ہے، جن میں محبوب نگر ، میدک اور حیدرآباد سے ایک ایک کو نمائندگی دی گئی۔ گنٹور ، کڑپہ اور چتور سے دو دو ارکان کو بورڈ میں نمائندگی دی گئی جبکہ اننت پور ، کرنول اور کرشنا سے ایک ایک ڈائرکٹر نامز

TOPPOPULARRECENT