Sunday , August 19 2018
Home / Top Stories / محمود عباس کا فلسطین کو اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کا مطالبہ

محمود عباس کا فلسطین کو اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کا مطالبہ

اسرائیل اور فلسطین کوایک دوسرے کو تسلیم کرنے کی اپیل، قیام امن کے وسیع تر منصوبے پر زور
واشنگٹن،21فروری(سیاست ڈاٹ کام)فلسطینی رہنما محمود عباس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے اس سال کے وسط تک ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فلسطینیوں کے علیحدہ ریاست کے حق کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے وسیع تر منصوبے کا حصہ بنایا جا سکے ۔ سلامتی کونسل میں ایک غیر معمولی خطاب میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ وہ فلسطین کیلئے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیں گے اور جن ملکوں نے فلسطین کو تسلیم نہیں کیا ان کو ایسا کرنے کیلئے کہیں گے ۔محمود عباس نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے ضروری ہے کہ ایک کثیر القومی نظام بنایا جائے جس کی بنیاد ایک بین الاقومی کانفرنس کے ذریعے ڈالی جائے ۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب ایک ایسے وقت کیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے سے فلسطینیوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انھوں نے مسئلہ فلسطین میں امریکہ کے ثالث کے کردار کو مسترد کر دیا ہے ۔بی بی سی کے مطابق عباس نے اپنی تجویز کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس میں فلسطین کو مکمل رکنیت دی جائے ، اسرائیل اور فلسطین ایک دوسرے کو تسلیم کریں اور کثیر الملکی نظام تشکیل دیا جائے جس کے تحت اس مسئلے کا حتمی اور مستقل حل تلاش کیا جائے ۔ فلسطینی صدر محمود عباس اپنا خطاب ختم کرنے کے بعد سلامتی کونسل کے اجلاس سے چلے گئے اور ان کی عدم موجودگی میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن یہ شکایت کرتے نظر آئے کے عباس ایک مرتبہ پھر ‘مذاکرات سے بھاگ’ رہے ہیں۔ چند ہفتے قبل اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے محمود عباس پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر الزام لگایا تھا کہ ‘ان میں قیام امن کیلئے مذاکرات کرنے کی جرات نہیں ہے ‘۔ عباس کے سلامتی کونسل میں اجلاس کے دوران امریکی سفیر نکی ہیلی کے ہمراہ ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے امریکی سفیر جیسن گرین بیلٹ بھی موجود تھے ۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے ایک اور امن منصوبے پر کام کر رہی ہے گو کہ اس کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو اپنی علیحدہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں اور یو این کی کئی قراردادیں مسئلہ فلسطین کے مستقل حل تک اقوام عالم پر اپنے سفارت خانے بیت المقدس منتقل کرنے کی ممانعت کرتی ہیں۔گذشتہ سال دسمبر میں یو این جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے امریکہ کے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT