Tuesday , November 21 2017
Home / سیاسیات / محنت کشوں کے استحصال کیلئے لیبر قوانین کو کمزور بنانے کی کوشش

محنت کشوں کے استحصال کیلئے لیبر قوانین کو کمزور بنانے کی کوشش

وزیراعظم صنعتکاروں کے وکیل بن گئے ہیں، راہول گاندھی کا الزام، آر ایس ایس کیخلاف بھی لڑائی کا عزم
نئی دہلی، 5 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو آج شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ الزام عائد کیاکہ وہ لیبر قوانین کو کمزور کرنے کی عمداً کوشش میں ہیں جس کے باعث ورکرس (محنت کشوں) میں مایوسی اور بے چینی پیدا ہورہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ ورکرس کے حقوق پر منصوبہ بند طریقہ سے ضرب کاری لگائی جارہی ہے اور کانگریس بھی ان کی جدوجہد میں شامل ہوگی۔ جس طرح حصول اراضیات بل کے خلاف کسانوں کے ساتھ تھی۔ کانگریس کی ملحقہ انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس کی 31 ویں پلینری اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے یہ عزم کیا کہ جس طرح ہم نے کسانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی ہے اسی طرح ورکرس کے لئے بھی کمربستہ ہوجائیں اور ہماری لڑائی بی جے پی، نریندر مودی اور آر ایس ایس کے خلاف بھی ہوگی جس پر شرکاء اجلاس نے تالیاں بجاکر خیرمقدم کیا۔ راہول گاندھی نے کہاکہ اگرچیکہ انھوں نے چین سے مسابقت کیلئے ہندوستان کو گلوبل مینوفیکچرنگ سنٹر (مصنوعات کی تیاری کا مرکز) میں تبدیلی کیلئے وزیراعظم کی تجویز سے اتفاق کیا تھا لیکن عملی منصوبہ پر اختلاف پیدا ہوگیا کیوں کہ وزیراعظم کا یہ نقطہ نظر ہے کہ ہندوستانی ورکرس بے ایمان اور کام چور ہوتے ہیں اور وہ صرف ویلڈنگ کرنے کے قابل ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ یہ امر غور طلب ہے کہ لیبر قوانین کو بے اثر کرنے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے تاکہ ورکرس اپنے گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے آئیں۔

اگر ہم گجرات، راجستھان اور ہریانہ میں وضع کردہ جدید قوانین کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ نریندر مودی نے ورکرس پر حملے شروع کردیئے ہیں۔ انھوں نے یہ ادعا کیاکہ وزیراعظم کا یہ احساس ہے کہ لیبر قوانین کو کمزور اور ورکرس میں ڈسپلن پیدا کیا جائے تاکہ ان سے جبراً محنت کروائی جاسکے اور مودی کا یہ تاثر ہے کہ ورکرس سے کام لو۔ بھگادو کی پالیسی، ٹریڈ یونینوں کو کمزور اور سستی اجرت پر مزدور دستیاب کروایا جائے۔ تاہم میں (گاندھی) نہیں سمجھتا کہ ہمارے ورکرس کام چور اور بے ایمان ہیں لیکن ہمارے ورکرس موجودہ حالات سے خوفزدہ ہیں اور اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل پر فکرمند ہیں اور اس تشویش میں ہیں کہ ان کی ملازمت رہے گی یا جائے گی اور فیکٹری کی گیٹ کل کھلے گی یا نہیں۔ انھوں نے کہاکہ حکومت کو مزدوروں اور آجروں کے درمیان ایک جج کا رول ادا کرنا چاہئے نہ کہ صنعتوں کی وکالت کرنی چاہئے۔ انھوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ اگر وہ محنت کشوں کے ذہنوں سے خوف اور اندیشہ دور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تو یقینا ہندوستان بھی چین سے بھی زیادہ ترقی کر جائے گا۔ مذکورہ اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہاکہ لیبر مخالف اور انحطاط پذیر معاشی پالیسیوں کی وجہ سے محنت کشوں میں ناراضگی پیدا ہوگئی ہے جس کا مظاہرہ 2 سپٹمبر کو ملک گیر ہڑتال میں دیکھا گیا تھا۔ اجلاس کی صدارت آئی این ٹی یو سی کے صدر مسٹر جی سنجیوا ریڈی نے کی۔

TOPPOPULARRECENT