Tuesday , December 11 2018

محکمہ آبرسانی ملازمین کی ہڑتال دوسرے دن میں داخل

سربراہی آب متاثر ہونے کا امکان، مطالبات کی یکسوئی تک احتجاج جاری رہے گا

سربراہی آب متاثر ہونے کا امکان، مطالبات کی یکسوئی تک احتجاج جاری رہے گا
حیدرآباد ۔ 7 جولائی (سیاست نیوز) محکمہ آبرسانی کے ملازمین پی آر سی پر عمل آوری کا مطالبہ کرتے ہوئے غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا آغاز کرچکے ہیں اور ان کی یہ ہڑتال آج دوسرے دن بھی داخل ہوچکی ہے۔ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے ملازمین کی مختلف تنظیموں نے پی آر سی پر عمل آوری کا مطالبہ کرتے ہوئے کی جارہی اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور آئندہ دو یوم میں ہڑتال میں مزید شدت پیدا کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔ ملازمین کے بموجب اگر ہڑتال کا سلسلہ مزید دو یوم جاری رہتا ہے تو ایسی صورت میں دونوں شہروں کے بیشتر علاقوں میں پانی کی سربراہی متاثر ہوسکتی ہے۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران ملازمین کی یونین کی جانب سے کی گئی اس ہڑتال کے سبب شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ملازمین کا کہنا ہیکہ متعدد مرتبہ بات چیت کے ناکام ہونے کے بعد بھی بحالت مجبوری ملازمین نے غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا آغاز کیا ہے اور بہت جلد کامگار یونین اوزار رکھ دو مہم کا آغاز کرتے ہوئے محکمہ آبرسانی سے متعلق مکمل کام کاج کو بند کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔ محکمہ آبرسانی کے ملازمین کی جانب سے مکمل ہڑتال کی صورت میں شہر کے کئی علاقوں میں حالات ابتر ہوسکتے ہیں چونکہ محکمہ آبرسانی کے ملازمین کی ذمہ داری صرف پانی کی سربراہی کو یقینی بنانا نہیں ہے بلکہ دونوں شہروں کا سیوریج نظام بھی محکمہ آبرسانی کے ملازمین کی نگرانی میں چلتا ہے جس کی صفائی اور بہتری کی ذمہ داری بھی ان ملازمین پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اسی لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر ملازمین کے مسائل کی یکسوئی کیلئے بات چیت کا آغاز کرتے ہوئے ہڑتال کو ختم کروانے کے اقدامات کرے۔

TOPPOPULARRECENT