Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / محکمہ آبرسانی میں 102 اہل امیدواروں کا عدم تقرر

محکمہ آبرسانی میں 102 اہل امیدواروں کا عدم تقرر

ہریش راؤ سے بھی نمائندگی رائیگاں ، جی او کے منافی اقدامات

ہریش راؤ سے بھی نمائندگی رائیگاں ، جی او کے منافی اقدامات
حیدرآباد ۔ 7 ۔ اپریل : ( راست ) : حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے گذشتہ جون میں 658 جائیدادوں پر تقررات کے لیے شہر کے مختلف اخبارات میں اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جن میں 450 مخلوعہ جائیدادوں کو جنرل پریس ایمپلائی ( واٹر سپلائی ) اور 208 کو جنرل پریس ایمپلائی ( سیوریج ) کے طور پر بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ عہدیداروں کی جانب سے درخواست گذاروں سے باقاعدہ طور پر انٹرویوز لی گئی اور 510 جائیدادوں پر اہل پائے گئے امیدواروں کا تقرر عمل میں لایا گیا ۔ 46 جائیدادوں پر تقرر نہ کرنے کا فیصلہ لیا گیا اور مابقی 102 اہل پائے گئے افراد کو کچھ عرصہ بعد تقرر کرنے کا تیقن دیتے ہوئے واپس کردیا گیا ۔ انٹرویوز کے عمل کو تکمیل ہوئے تقریبا 10 ماہ کا عرصہ گذر چکا ہے ۔ تاہم ان 102 نوجوانوں کو آج تک ملازمتیں فراہم نہیں کی گئیں ۔ روزگار حاصل کرنے کی امید میں نوجوان حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی اور سیوریج بورڈ کے دفتر کے چکریں کاٹ رہے ہیں ۔ شہر کے ذی اثر سیاسی قائدین ، وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ سے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 102 افراد کو تقرر کرنے کے متعلق فائل منظوری کے لیے چیف منسٹر پیشی کو روانہ کردی گئی ہے جس پر چیف منسٹر کی دستخط ہونا باقی ہے ۔ اس فائل جس کا سیریل نمبر 2261 اور فائل نمبر 5938/C2/2014 ہے ۔ گذشتہ چار ماہ سے منظوری کے لیے منتظر ہے ۔ اس دوران 102 نوجوان اپنے غیر یقینی مستقبل سے فکر مند اور خدشات کا شکار ہیں ۔ ایک طرف چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر کام کو تیزی سے انجام دینے کی بات کررہے ہیں تو دوسری طرف ان ہی کے دفتر میں ایک فائل جو 102 نوجوانوں کے مستقبل کے متعلق ہے گذشتہ چار ماہ سے منظوری کے لیے رکی ہوئی ہے ۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ چیف منسٹر اور ارباب مجاز اس جانب توجہ دیں گے اور 102 نوجوانوں کو حصول روزگار کے لیے راہ ہموار کریں گے تاکہ سنہرے تلنگانہ کو حاصل کرنے کے مقصد کی جانب عملی طور پر ایک قدم بڑھایا جاسکے ۔ کئی سیاسی قائدین کے علاوہ ٹی ہریش راؤ سے متعدد بار ملنے کے بعد سبھی ہمارے آرڈرس ملنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ دس مہینے سے ہم سب 102 نوجوان جن میں 38 ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور میناریٹی کے نوجوان شامل ہیں کافی پریشان ہے ۔ وزیر اعلیٰ سے ملنے کی سبھی کئی بار کوشش کی گئی مگر وزیر اعلی سے ملنے بھی ہمیں نہیں دیا جاتا ۔ محکمہ آبرسانی کے موجودہ کام گار یونین کے صدر ستیش کمار جو ہمارے آرڈرس ملنے کے بارے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہمارے آرڈرس منسوخ کر کے پورے جائیداد ڈپارٹمنٹ میں کام کررہے لوگوں کو ہی دئیے جائیں ۔ جب کہ ڈپارٹمنٹ ہمیں پہلے ہی منتخب کرچکا ہے ۔ ہائی کورٹ کے جی او نمبر 33 کے تحت 80 فیصد لوکل امیدوار اور 20 فیصد نان لوکل امیدوار پر تقررات کیے جانا تھا ۔ اسی کے تحت منتخب کیا گیا مگر یونین لیڈر سی ستیش کمار نے دھرنا دے کر ہمارے آرڈرس رکوادئیے اور اب دس ماہ ہوچکے ہیں ہمارا تقرر ابھی بھی نہیں کیا گیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT