Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود میں فرض شناس عہدیدار بے بس ، اعلی افسران کی بیزارگی

محکمہ اقلیتی بہبود میں فرض شناس عہدیدار بے بس ، اعلی افسران کی بیزارگی

تعیناتی کے تیسرے ہی دن رخصت کیلئے ڈپٹی سکریٹری کی درخواست ، وقت کی پابندی کیلئے احمد ندیم کی ہدایت پر ناراضگی

تعیناتی کے تیسرے ہی دن رخصت کیلئے ڈپٹی سکریٹری کی درخواست ، وقت کی پابندی کیلئے احمد ندیم کی ہدایت پر ناراضگی

حیدرآباد۔/5ڈسمبر، ( سیاست نیوز) کیا دیانتدار اور فرض شناس عہدیداروں کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود میں کوئی جگہ نہیں؟ یہ سوال آج اسوقت کھڑا ہوا جب محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ میں ڈپٹی سکریٹری کی حیثیت سے فائز کئے گئے عہدیدار نے جائزہ حاصل کرنے کے تین دن بعد ایک ماہ کی طویل رخصت کی درخواست پیش کردی اور محکمہ کے سکریٹری کے رویہ کی شکایت کی۔ واضح رہے کہ حکومت نے جی اے ڈی سے تعلق رکھنے والی خاتون عہدیدار کا تبادلہ کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود میں ڈپٹی سکریٹری کے طور پر فائز کیا تھا۔ اس خاتون نے پیر کے دن اپنے عہدہ کی ذمہ داری سنبھالی لیکن سکریٹری اقلیتی بہبود کی جانب سے فائیلوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں دی گئی ہدایات کو مبینہ طور پر بے خاطر کرتے ہوئے انہوں نے رخصت کی درخواست پیش کردی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم جو کمشنر ایکسائیز کے علاوہ اقلیتی بہبود کی زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں‘ وہ محکمہ میں اسٹاف کی کمی کے باوجود اقلیتی بہبود کی کارکردگی بہتر بنانے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں لیکن ماتحت عہدیداروں کی سُستی اور عدم تعاون کے رویہ نے ان کیلئے مشکلات پیدا کردیں۔ تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود میں اگرچہ ڈپٹی سکریٹری رینک عہدیدار کی گنجائش نہیں ہے تاہم اعلیٰ عہدیداروں سے مسلسل نمائندگی کرتے ہوئے جناب احمد ندیم نے جی اے ڈی سے ڈپٹی سکریٹری عہدیدار کو حاصل کیا تاکہ محکمہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ فائیلوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں تجربہ کی کمی کے باعث ماتحت عہدیدار سکریٹری سے مکمل تعاون کرنے سے قاصر تھے۔اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے انہوں نے ڈپٹی سکریٹری کو حاصل کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض فائیلوں کی عاجلانہ یکسوئی کے سلسلہ میں دی گئی ہدایات سے ناراض ہوکر ڈپٹی سکریٹری نے جائزہ حاصل کرنے کے تین دن بعد ہی ایک ماہ کی رخصت کی درخواست پیش کردی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی سکریٹری نے سکریٹریٹ گزیٹیڈ آفیسرس اسوسی ایشن سے رجوع ہوکر سکریٹری اقلیتی بہبود کی شکایت کی۔ خود اسوسی ایشن کے عہدیدار بھی ڈپٹی سکریٹری کی اس حرکت پر حیرت زدہ رہ گئے کیونکہ جناب احمد ندیم کی فرض شناسی اور کام کے طریقہ کار سے ہر کوئی اچھی طرح واقف ہیں۔ اسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ناراض ڈپٹی سکریٹری کو مشورہ دیا کہ وہ شکایت کے بجائے اپنی ذمہ داری بہتر طور پر نبھاتے ہوئے خدمات جاری رکھیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ جی اے ڈی اے اعلیٰ عہدیدار اس سلسلہ میں مداخلت کرتے ہوئے مذکورہ عہدیدار کو رخصت واپس لینے کی ترغیب دیں گے۔ واضح رہے کہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں کی شدید قلت ہے اور جو عہدیدار موجود ہیں وہ اس قدر قابل اور ماہر نہیں کہ فائیلوں پر نوٹ تحریر کرسکیں۔ محکمہ میں فی الوقت ایک اسسٹنٹ سکریٹری، 2سیکشن آفیسر، 3اسسٹنٹ سیکشن آفیسر، 5 ڈاٹا انٹری آپریٹرس، 3اٹینڈرس اور 2کنٹراکٹ ملازمین ہیں۔ فائیلوں کی یکسوئی کیلئے ڈپٹی سکریٹری رینک کے کم از کم دو عہدیداروں کی ضرورت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر فائیل پر نوٹ تحریر کرنے کیلئے خود جناب احمد ندیم کو وقت لگانا پڑ رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ گزشتہ چند دن سے صبح سکریٹری پہنچ کر اقلیتی بہبود کے دفاتر کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن وہاں مقررہ وقت پر کسی بھی ملازم کو موجود نہیں پایا جس کے بعد انہوں نے ماتحت عہدیداروں اور ملازمین کو وقت کی پابندی اور فائیلوں کی یکسوئی میں مہارت پیدا کرنے کی ہدایت دی۔ یہی چیز بعض افراد کو ناگوار گزری اور وہ عدم تعاون پر اُتر آئے ہیں۔ تلنگانہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ فوری اس سلسلہ میں مداخلت کرے اور سکریٹری اقلیتی بہبود کیلئے قابل عہدیدار فراہم کرے تاکہ محکمہ کی کارکردگی بہتر ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT