Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود چار عہدیداروں پر منحصر ، ایک دوسرے میں تال میل کا فقدان

محکمہ اقلیتی بہبود چار عہدیداروں پر منحصر ، ایک دوسرے میں تال میل کا فقدان

بیک وقت کئی اداروں کی ذمہ داری ، دیانتدار عہدیدار وقف مافیا کا شکار ، سکریٹری کی سرپرستی
حیدرآباد۔/11مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے کئی نئی اسکیمات کا آغاز کیا لیکن افسوس کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں اسکیمات پر عمل آوری کیلئے عہدیدار نہیں ہیں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر کے تبادلہ کے بعد محکمہ کا انحصار صرف 4عہدیداروں پر ہوچکا ہے ان میں بھی 3 زائد ذمہ داریوں کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ حکومت ایک طرف اسکیمات پر موثر عمل آوری کی خواہاں ہے لیکن اس نے مزید عہدیداروں کے تقرر کے بجائے مخصوص لابی کے زیر اثر ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کا تبادلہ کردیا۔ اس طرح محکمہ میں اب صرف 4 عہدیدار ہی باقی رہ گئے ہیں جو کئی اداروں کو بیک وقت سہارا دے رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان چار عہدیداروں میں بھی باہمی تال میل کی کمی ہے جس نے کارکردگی کو مزید سُست کردیا ہے۔ اقلیتی بہبود کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی عہدیدار اپنے اعلیٰ عہدیدار کی رائے سے اختلاف نہیں کرسکتا بھلے ہی اعلیٰ عہدیدار غلطی پر کیوں نہ ہو۔ اگر کوئی عہدیدار قواعد کی خلاف ورزی پر اعتراض کرے یا کسی فیصلہ کی مخالفت کرے تو اسے مختلف انداز سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یوں تو محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت جملہ 13ادارے ہیں لیکن ان میں چند ادارے ہی عوام سے راست طور پر متعلق ہیں۔ اقلیتی بہبود کے تحت ڈائرکٹوریٹ اقلیتی بہبود، اقلیتی فینانس کارپوریشن، کرسچین فینانس کارپوریشن، وقف بورڈ، سروے کمشنر وقف، اردو اکیڈیمی، سی ای ڈی ایم ، حج کمیٹی، دائرہ المعارف، وقف ٹریبونل، اقلیتی کمیشن، مکہ مسجد و شاہی مسجد اور اسٹڈی سرکل برائے اقلیتی طلباء شامل ہیں۔ ان میں سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمرجلیل کے پاس فی الوقت ڈائرکٹر اقلیتی بہبود، عہدیدر مجاز وقف بورڈ اور ویجلینس آفیسر کی زائد ذمہ داریاں ہیں۔ وقف بورڈ ہی ایسا ادارہ ہے جس پر مخصوص وقف مافیا تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے اور سکریٹری کو ان کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے۔ محکمہ میں دوسرے عہدیدار بی شفیع اللہ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن ہیں جنہیں ایم جے اکبر کی جگہ منیجنگ ڈائرکٹر مقرر کیا گیا اور ان کا تعلق ٹاملناڈو سے بتایا جاتا ہے۔ شفیع اللہ کے پاس اسٹڈی سرکل برائے اقلیتی طلبہ اور 70اقامتی اسکولس کے قیام سے متعلق سوسائٹی کی زائد ذمہ داریاں ہیں۔ تیسرے عہدیدار پروفیسر ایس اے شکور سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی ہیں جن کے پاس اسپیشل آفیسر حج کمیٹی اور ڈائرکٹر سی ای ڈی ایم کی زائد ذمہ داریاں ہیں۔ عازمین حج کیلئے بہترین خدمات کے ساتھ حج کیمپ کا انعقاد ان کا کارنامہ ہے اس کے علاوہ اردو اکیڈیمی کی تمام اسکیمات پر عمل آوری مکمل کرلی گئی اور سی ای ڈی ایم کے ذریعہ مختلف کورسیس میں اقلیتی طلباء کیلئے کوچنگ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔چوتھے عہدیدار محمد اسد اللہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ ہیں۔ محمد اسد اللہ جن کا تعلق محکمہ مال سے ہے انہوں نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور غیر مجاز قابضین کے خلاف کارروائیوں میں اہم رول ادا کیا جس کے نتیجہ میں ان پر بھی زبردست دباؤ بنایا جارہا ہے۔ حالیہ عرصہ میں مسجد نانا باغ کی اراضی کے تحفظ کیلئے ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس دیانتدار عہدیدار کو بھی مختلف گوشوں اور اعلیٰ سطح سے ہراسانی کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے علاوہ سروے کمشنر وقف کی حیثیت سے معصومہ بیگم کام کررہی ہیں جبکہ مہ جبین اختر کو ڈائرکٹر دائرہ المعارف مقرر کیا گیا۔ الغرض اقلیتی بہبود کو چلانے کیلئے سکریٹری کے بشمول صرف چار عہدیدار ہی موجود ہیں اور اگر سیاسی اور دیگر سطحوں سے مداخلت کا سلسلہ جاری رہا تو موجودہ عہدیدار بھی محکمہ کو چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ دیانتدار و فرض شناس عہدیداروں کو کام کی مکمل آزادی فراہم کرے اور ایسے عناصر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرے جو مختلف بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے باوجود محکمہ میں برقرار رہتے ہوئے ناسور بنے ہوئے ہیں۔ اقلیتی اداروں اور تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ اقلیتی بہبود کیلئے کسی حرکیاتی پرنسپال سکریٹری کا تقرر کیا جانا چاہیئے تاکہ وہ تمام عہدیداروں کو ساتھ لے کر اقلیتوں کی ترقی کیلئے کام کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT