Wednesday , December 19 2018

محکمہ اقلیتی بہبود کی تقسیم کا کام تیزی سے جاری

وقف بورڈ اور اردوا کیڈیمی بھی تقسیم کے اداروں میں شامل ، گورنر کی راست نگرانی

وقف بورڈ اور اردوا کیڈیمی بھی تقسیم کے اداروں میں شامل ، گورنر کی راست نگرانی
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اپریل (سیاست نیوز) ریاست کی تقسیم کے پیش نظر دیگر محکمہ جات کی طرح محکمہ اقلیتی بہبود کی تقسیم کا کام بھی تیزی سے جاری ہے ۔ ریاستی گورنر ای ایس ایل نرسمہن جو اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ روزانہ محکمہ جات کی تقسیم کے عمل کا جائزہ لے رہے ہیں، چیف سکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ تمام محکمہ جات کی تقسیم کا عمل جلد از جلد مکمل کرلیا جائے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کو بھی دونوں ریاستوں میں علحدہ محکمہ کا موقف حاصل رہے گا۔ تاہم تلنگانہ میں سکریٹری رتبہ کے عہدیدار محکمہ کے انچارج ہوں گے جبکہ آندھراپردیش میں کمشنر اقلیتی بہبود کو محکمہ کی ذمہ داری دی جائے گی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی تقسیم کے سلسلہ میں اعلیٰ سطح پر تمام ضروری امور کو قطعیت دیدی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود خود کمشنر اقلیتی بہبود کی زائد ذمہ داری سنبھالیں گے ۔

اس کے علاوہ سکریٹری اقلیتی بہبود نائب صدر نشین و مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدہ پر فائز ہوں گے ۔ اس طرح فینانس کارپوریشن میں مینجنگ ڈائرکٹر کا علحدہ عہدہ نہیں رہے گا۔ آندھراپردیش میں صورتحال اس کے برخلاف ہوگی ۔ کمشنر اقلیتی بہبود انچارج سکریٹری اقلیتی بہبود کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے اور وہی نائب صدرنشین و مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن ہوں گے۔ حکومت نے کرسچین فینانس کارپوریشن کو اقلیتی فینانس کارپوریشن میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فی الوقت سکریٹری اقلیتی بہبود کے علاوہ کمشنر اقلیتی بہبود اور مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے علحدہ علحدہ عہدے موجود ہیں۔ تاہم ریاست کی تقسیم کے بعد عہدوں کی تعداد میں کمی کی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں حکومتوں پر بوجھ کم کرنے کیلئے غیر معروف اور چھوٹے کارپوریشنوں اور بورڈس کو دیگر اداروں میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس سے نہ صرف عہدیداروں بلکہ سرکاری خزانہ پر بوجھ بھی کم ہوگا۔

بتایا جاتا ہے کہ 2 جون کو ریاست کی تقسیم اور تلنگانہ ریاست کے قیام کے دن سے 2 ادارے منقسم ہوجائیں گے ، جن میں اقلیتی فینانس کارپوریشن اور سروے کمشنر وقف شامل ہیں۔ وقف بورڈ اور اردو اکیڈیمی 2 جون کے بعد تقسیم ہونے والے اداروں میں شامل رہیں گے ۔ حج کمیٹی کو جاریہ سال حج سیزن تک برقرار رکھا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں ریاستوں میں علحدہ حج کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔ اقلیتی کمیشن تلنگانہ میں برقرار رہے گا جبکہ آندھراپردیش میں نیا اقلیتی کمیشن قائم کیا جائے گا۔ سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز (سی ای ڈی ایم) کے تلنگانہ میں موجود مراکز پہلے کی طرح عثمانیہ یونیورسٹی کے تحت کام کریں گے جبکہ آندھراپردیش میں موجود علاقائی سنٹرس اور دیگر مراکز کو آندھرا یونیورسٹی کے تحت کردیا جائے گا۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارہ دائرۃ المعارف دونوں ریاستوں کا مشترکہ اثاثہ ہوگا۔ تقسیم ہونے والے تمام اداروں کے بجٹ ، ملازمین ، اثاثہ جات اور دفاتر کے بارے میں تمام تفصیلات سکریٹری اقلیتی بہبود نے حکومت کو پیش کردی ہیں۔ توقع ہے کہ 2 جون سے قبل محکمہ اقلیتی بہبود اور اس کے اداروں کی تقسیم کا عمل مکمل ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT