Tuesday , December 19 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود کی نا اہلی ، تلنگانہ کے لاکھوں طلبہ تعلیمی مستقبل پر پریشان حال

محکمہ اقلیتی بہبود کی نا اہلی ، تلنگانہ کے لاکھوں طلبہ تعلیمی مستقبل پر پریشان حال

سکریٹری و مشیر اقلیتی امور حکومت سے منظورہ رقم حاصل کرنے سے قاصر
حیدرآباد۔18 ستمبر (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی نااہلی کے نتیجہ میں تلنگانہ کے لاکھوں طلباء اپنے تعلیمی مستقبل کو لے کر فکرمند ہیں۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کے لیے اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں لایا اور ان اسکولوں کی تعداد 71 سے بڑھ کر 206 ہوچکی ہے۔ اقامتی اسکول کے قیام کا مقصد کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا انتظام ہے۔ چیف منسٹر نے اسکولوں کے قیام کے علاوہ اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی جیسی اسکیمات کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ گزشتہ تین برسوں میں اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی اسکیمات پر عمل آوری کا موقف انتہائی مایوس کن ہے۔ تلنگانہ کی ا قلیتیں یہ طے نہیں کرپا رہی ہیں کہ اس صورتحال کے لیے کسے ذمہ دار سمجھیں۔ حکومت تو ہر سال بجٹ میں اضافہ کررہی ہے لیکن تعلیم سے متعلق اہم اسکیمات پر عمل آوری میں عہدیدار ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ اسکیمات پر موثر عمل آوری کے لیے چیف منسٹر نے ایک سینئر ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار کو اقلیتی امور کا مشیر مقرر کیا اس کے علاوہ گزشتہ تین برسوں سے سکریٹری اقلیتی بہبود کے عہدے پر مسلم عہدیدار کو برقرار رکھا گیا لیکن دونوں اہم عہدیدار بھی اقلیتوں کی تعلیمی ترقی سے متعلق اسکیمات پر موثر عمل آوری میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں کے بجٹ کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو دونوں اسکیمات کے لیے 2014-15ء سے آج تک کروڑہا روپئے کے بقایاجات ہیں۔ جاریہ مالیاتی سال اسکالرشپ کے لیے محکمہ نے 5 کروڑ 79 لاکھ اور فیس باز ادائیگی کے لیے 25 کروڑ 34 لاکھ خرچ کرنے کا دعوی کیا ہے لیکن اس دعوے میں سچائی اس لیے بھی نظر نہیں آتی کہ مذکورہ خرچ میں زیادہ تر رقم صرف جی اوز کی اجرائی کی صورت میں ہے جبکہ ٹریژری سے رقم جاری نہیں کی گئی۔ محکمہ فینانس کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں اسکیمات کے خرچ سے متعلق محکمہ اقلیتی بہبود کے دعوئوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ یہ رقم ابھی خرچ کے مرحلہ میں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ محکمہ کے عہدیداروں کو دونوں اسکیمات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ 2014-15ء سے 2016-17ء تک کے اعداد و شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہر سال مکمل نشانے کی تکمیل نہیں کی گئی۔ 2014-15ء میں دونوں اسکیمات کے تحت جملہ 2029 کروڑ کے خرچ کا دعوی کیا گیا۔ جبکہ 18 کروڑ کے بقایاجات دکھائے گئے۔ اسی طرح 2015-16ء میں فیس ری ایمبرسمنٹ کے تحت 176 کروڑ جاری کیے گئے جبکہ اسکالرشپ کے لیے 37 کروڑ 51 لاکھ کی اجرائی عمل میں آئی۔ اس طرح 214 کروڑ روپئے کی اجرائی کا دعوی کیا گیا۔ اس سال 30 کروڑ روپئے کی اجرائی باقی رہی۔ 2016-17ء میں دونوں اسکیمات پر عمل آوری مزید ابتر نظر آتی ہے۔ ان اسکیمات کے تحت موصولہ درخواستوں کے لیے جملہ 210کروڑ روپئے کی اجرائی باقی ہے جس میں فیس بازادائیگی کے 165 کروڑ 86 لاکھ اور اسکالرشپ کے 44 کروڑ 83 لاکھ روپئے شامل ہیں۔ 2016-17ء میں فیس بازادائیگی کے تحت صرف 10 کروڑ روپئے جاری کیے گئے جبکہ اسکالرشپ کے لیے 5 کروڑ 10 لاکھ روپئے کی اجرائی عمل میں آئی۔ گزشتہ تین برسوں کی اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جاریہ سال بھی موقف میں بہتری کی امید دکھائی نہیں دیتی۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو اقلیتی طلباء کے مستقبل سے کھلواڑ کے بجائے حکومت کی جاری کردہ مکمل رقم خرچ کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ جاریہ سال اسکالرشپ کے لیے 40 کروڑ اور فیس باز ادائیگی کے لیے 180 کروڑ روپئے بجٹ میں مختص کیے گئے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ عہدیدار کس حد تک رقم خرچ کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT