محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی سے چیف منسٹر ناراض،یوم اقلیتی بہبود تقریب میں بے جا خرچ کی اطلاع پر کے سی آر کی عدم شرکت

حیدرآباد۔ 13 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی سے ناراض ہیں جس کا اظہار انہوں نے 11 نومبر کو ’’یوم اقلیتی بہبود تقریب‘‘ میں عدم شرکت کے ذریعہ کیا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر ہر سال یوم اقلیتی بہبود منایا جاتا ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود نے اس موقع پر لال بہادر اسٹیڈیم میں اقامتی اسکول سوسائٹی کا پروگرام طئے کیا تھا۔ چیف منسٹر نے پروگرام میں شرکت کا نہ صرف وعدہ کیا بلکہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے تقریر تیار کرلی تھی، جس میں اقلیتوں سے متعلق حکومت کی اسکیمات کو شامل کیا گیا۔ پروگرام کے آغاز کے نصف گھنٹہ قبل تک بھی اسٹیڈیم میں سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے اور چیف منسٹر کی آمد کا انتظار تھا لیکن اچانک چیف منسٹر کے سکیورٹی عملہ نے اسٹیڈیم سے واپس ہوتے ہوئے اطلاع دی کہ چیف منسٹر بعض مصروفیات کے سبب شرکت سے قاصر ہیں۔ چیف منسٹر کی عدم شرکت کے فیصلے پر حکومت کے قریبی حلقوں نے بتایا کہ کے سی آر ، محکمہ کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کو اطلاع دی کہ یوم اقلیتی بہبود کیلئے اقامتی اسکول سوسائٹی کے بجٹ سے لاکھوں روپئے خرچ کئے جارہے ہیں جبکہ اس قدر بھاری رقم خرچ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سوسائٹی نے پروگرام پر 30 تا 40 لاکھ روپئے خرچ کئے اور پروگرام کی خصوصیت یہ رہی کہ 5 لاکھ روپئے سے زائد کے پٹاخے جلائے گئے جو اقلیتی ادارے کیلئے قطعی موزوں نہیں تھا اور نہ ہی مولانا آزاد کے یوم پیدائش سے اس کی کوئی مناسبت ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کو جب اس قدر بھاری انتظامات کی اطلاع ملی تو انہوں نے لمحہ آخر میں شرکت سے گریز کیا تاکہ محکمہ کو اپنی ناراضگی سے واقف کروایا جاسکے۔ چیف منسٹر کی شرکت یقینی اس لئے تصور کی جارہی تھی کیونکہ انہوں نے اس تقریب میں ’’مولانا آزاد قومی ایوارڈ‘‘ پیش کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ پروگرام کے مطابق یہ ایوارڈ 18 نومبر کو اُردو اکیڈیمی کے پروگرام میں دیا جانا تھا۔ حیدرآباد کی نامور شخصیت اور مشہور ماہر امراض قلب ڈاکٹر حیدر خاں کو 11 نومبر کی تقریب میں چیف منسٹر ایوارڈ پیش کرنا چاہتے تھے لیکن محکمہ کی فضول خرچی اور عدم کارکردگی نے انہیں ناراض کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کو اعلیٰ عہدیداروں اور خاص طور پر انٹلیجنس کے ذریعہ یہ اطلاع دی گئی کہ پروگرام میں 8,000 سے زائد طلبہ، ان کے سرپرستوں اور اقامتی اسکولوں کے اساتدہ کو مدعو کیا گیا ہے اور ان تمام کیلئے کھانے کا انتظام ہے۔ تقریب میں عام افراد کی شرکت کا کوئی امکان نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے علاوہ ڈپٹی چیف منسٹر اور حکومت کے مشیر بھی اس پروگرام سے ناراض تھے۔ پروگرام کے اختتام کے بعد ان دونوں شخصیتوں نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں اور خاص طور پر اقامتی اسکولس سوسائٹی کے ذمہ داروں سے بازپرس کی۔ یوم اقلیتی بہبود کے نام پر پہلے تو طویل پروگرام طئے کیا گیا جس میں آتش بازی پر لاکھوں روپئے خرچ کرنا معنی خیز ہے۔ سوسائٹی نے جو کلچرل پروگرامس پیش کئے تھے، اس میں تلنگانہ اور حیدرآبادی تہذیب کی کوئی جھلک نہیں تھی بلکہ یہ کلچرل پروگرامس مغربی تہذیب کی عکاسی کررہے تھے اور ان کے عنوان بھی ویسٹرن کلچرل کے عین مطابق رکھے گئے تھے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے عہدیداروں سے سوال کیا کہ پروگرام کے درمیان آتش بازی اور اس پر لاکھوں روپئے کا خرچ کیا معنی رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک بھی کلچرل ایٹمس ایسا نہیں تھا جس سے تلنگانہ یا حیدرآبادی تہذیب کی جھلک دکھائی دے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف منسٹر نے دو دن قبل ہی تلنگانہ اسمبلی میں اقلیتوں کی بھلائی کیلئے 16 مختلف اعلانات کئے تھے۔ انہوں نے نظام حیدرآباد نواب میر عثمان علی خاں اور موجودہ نواب میر برکت علی خاں مکرم جاہ بہادر کی بھرپور ستائش کی تھی لہذا یوم اقلیتی بہبود میں ان کی شرکت یقینی تھی۔ چیف منسٹر کی ناراضگی کا اثر کچھ یوں ہوا کہ انہوں نے پیام کے ذریعہ بھی مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش نہیں کیا جبکہ وزیراعظم اور چیف منسٹرس کی جانب سے قومی قائدین کو خراج پیش کرنے کی روایت ہے۔ تلنگانہ کے گورنر اور نہ ہی چیف منسٹر نے مولانا آزاد کو یوم پیدائش پر خراج پیش کرنے کیلئے پیام تک جاری نہیں کیا۔

 

TOPPOPULARRECENT