Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی ٹھپ ، اسکیمات پر عمل آوری نہ کہ برابر

محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی ٹھپ ، اسکیمات پر عمل آوری نہ کہ برابر

درخواست گذار محکمہ کے چکر کاٹنے پر مجبور ، اسکیمات میں غبن و دھاندلیاں ، کئی ٹولیاں ہنوز سرگرم
حیدرآباد ۔ 11۔ جولائی (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی عملاً ٹھپ ہوچکی ہے کیونکہ محکمہ کی تمام اسکیمات پر عمل آوری نہیں کے برابر ہے جس کے سبب ہزاروں درخواست گزار روزانہ محکمہ کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ جاریہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کی اسکیمات کیلئے مایوس کن ثابت ہوا۔ ایک طرف حکومت نے جاریہ مالیاتی سال کا بجٹ جاری نہیں کیا تو دوسری طرف اعلیٰ عہدیدار بھی بجٹ حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ حکومت نے کئی نئی اسکیمات کا اعلان کیا لیکن ان پر عمل آوری نہیں ہوپا رہی ہے۔ اسکیمات میں بے قاعدگیوں کی شکایات عام ہیں، جس کے باعث حقیقی مستحقین کو اسکیمات کے فوائد نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ ان حالات میں اقلیتوں کی معاشی ترقی کی اس طرح توقع کی جاسکتی ہے۔ جاریہ سال حکومت نے پہلے سہ ماہی کے تحت 479 کروڑ جاری کئے جبکہ دوسرے سہ ماہی کا آغاز ہوچکا ہے۔ حکومت کی اہم اسکیمات جیسے شادی مبارک ، اوورسیز اسکالرشپ ، فیس ری ایمبرسمنٹ ، پری میٹرک ، پوسٹ میٹرک اسکالرشپس ، بینکوں سے مر بوط سبسیڈی اسکیم ، ٹریننگ و ایمپلائمنٹ اسکیم ، اون یوور آٹو اسکیم جیسی اہم اسکیمات ٹھپ ہوچکی ہیں اور اس بارے میں عہدیدار کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔ عہدیداروں کے ناعاقبت اندیش فیصلوں اور بدعنوانیوں میں ملوث افراد کی سرپرستی سے محکمہ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بھی اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں ایک سے زائد مرتبہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے محکمہ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں کی خدمات حاصل کی ہیں اور انہیں حکومت کو تجاویز پیش کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ شادی مبارک اسکیم کے تحت صرف حیدرآباد میں 6 ہزار سے زائد درخواستیں زیر التواء ہیں اور ریاست بھر میں  یہ تعداد 10 ہزار سے زائد ہوچکی ہیں۔ غریب لڑکیوں کے ماں باپ اسکیم کی منظوری کیلئے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں اور بروکرس انہیں آسانی سے نشانہ بنارہے ہیں۔ گزشتہ 6 ماہ سے یہ اسکیم سست رفتاری کا شکار ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے تین ماہ قبل گریٹر حیدرآباد کے حدود میں درخواستوں کی جانچ کا کام محکمہ پولیس کے اسپیشل برانچ سے کرانے کا فیصلہ کیا تھا  لیکن تین ماہ گزرنے کے بعد پولیس نے اس ذمہ داری سے انکار کردیا۔ اس طرح تین ماہ تک درخواستوں کی یکسوئی نہیں کی جاسکی۔ اسی طرح اوورسیز اسکالرشپ کے سلسلہ میں صورتحال غیر واضح ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن محض ایک ادارہ کے طور پر برقرار ہے لیکن ایک بھی اسکیم پر عمل نہیں کیا گیا ۔ سبسیڈی اسکیم ، مرکزی حکومت کی اسکالرشپ اسکیم اور ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم پر عمل آوری میں عہدیداروں کو کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ حد تو یہ ہے کہ چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کی ہدایت کے باوجود آٹو اسکیم کے باقی درخواست گزاروں کو آٹو رکشا جاری نہیں کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے کارپوریشن میں اندرونی طور پر دھاندلیاں جاری ہیں اور اسکیمات کے لئے منظورہ بجٹ میں غبن کیا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض افراد باقاعدہ گروہ کی شکل میں کام کر رہے ہیں اور انہیں فرضی اداروں اور فرضی افراد کے ناموں پر لاکھوں روپیہ کا غبن کیا ہے ۔ حکومت سے کارپوریشن کے معاملات کی جانچ کا مطالبہ کیا گیا لیکن بتایا جاتا ہے کہ ان افراد کو اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی حاصل ہے۔ سبسیڈی اور ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیمات میں گزشتہ تین برسوں کی جانچ کی جائے تو کئی افراد ملوث پائے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی کے سبب کارپوریشن کے ایک عہدیدار نے اپنی تاریخ پیدائش میں تحریف کرتے ہوئے پانچ سال زائد خدمات انجام دیں اور غیر قانونی طریقہ سے ایک کروڑ سے زائد کی رقم بطور تنخواہ حاصل کی۔ سی آئی ڈی رپورٹ اور الزامات ثابت ہونے کے باوجود محکمہ کے اعلیٰ عہدیدار کارروائی کرنے کے بجائے نہ صرف تحفظ کر رہے ہیں بلکہ اقامتی اسکولس کی سوسائٹی میں ملازمت فراہم کی اوراس کے لئے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ اعلیٰ عہدیدار محکمہ میں جاری بے قاعدگیوں اور ان میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرتے تاکہ اسکیمات سے حقیقی مستحقین کو فائدہ ہو اور سرکاری رقومات کا صحیح استعمال ہو۔

TOPPOPULARRECENT