Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی میں حکومت کا رویہ مشکوک

محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی میں حکومت کا رویہ مشکوک

جاریہ مالیاتی سال تا حال کسی اسکیم پر عمل آوری نہیں، اس مرتبہ بھی منظورہ رقم سرکاری خزانہ میں واپس ہونے کا اندیشہ

جاریہ مالیاتی سال تا حال کسی اسکیم پر عمل آوری نہیں، اس مرتبہ بھی منظورہ رقم سرکاری خزانہ میں واپس ہونے کا اندیشہ
حیدرآباد۔/14اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے جاریہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کیلئے 1105کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے لیکن گزشتہ مالیاتی سال کے تجربہ کی بنیاد پر جاریہ سال مکمل بجٹ کی اجرائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔ محکمہ اقلیتی بہبود کا قلمدان چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے پاس ہے لیکن گزشتہ 10ماہ کے دوران چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود سے متعلق ایک بھی اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس طلب نہیں کیا جس کے نتیجہ میں محکمہ فینانس اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں پر اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں کوئی دباؤ نہیں ہے جس کے نتیجہ میں محکمہ اقلیتی بہبود بے بس ہوچکا ہے۔ مالیاتی سال 2015-16 کے بجٹ کی منظوری کو 15دن گزر گئے لیکن جاریہ سال کے بجٹ سے ابھی تک ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا جبکہ دیگر محکمہ جات کیلئے محکمہ فینانس نے بجٹ کی اجرائی کا آغاز کردیا ہے۔ گزشتہ سال بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے 1034کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے لیکن بمشکل 250کروڑ روپئے ہی خرچ کئے گئے باقی رقم سرکاری خزانہ میں واپس چلی گئی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حکومت نے گزشتہ سال بعض مخصوص اسکیمات کیلئے اعلانات کئے تھے لیکن مالیاتی سال کے اختتام کے ساتھ ہی وہ رقم بھی سرکاری خزانہ میں واپس ہوگئی جس میں جامعہ نظامیہ کیلئے اعلان کردہ 9کروڑ 60لاکھ اور اجمیر میں رباط کی تعمیر کے 5کروڑ شامل ہیں۔ جاریہ سال ان رقومات کی اجرائی کیلئے تازہ احکامات جاری کرنے ہوں گے۔ حکومت نے جاریہ سال اقلیتی بہبود کیلئے 1105کروڑ روپئے مختص کئے ہیں لیکن اس کے مکمل خرچ اور تمام اسکیمات پر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے ابھی تک چیف منسٹر کی سطح پر کوئی جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیا گیا۔ چیف منسٹر نے اسمبلی کے حالیہ بجٹ سیشن میں اقلیتوں سے متعلق کئی اعلانات کئے اور اقلیتوں کے مسائل پر عوامی نمائندوں کے ساتھ جائزہ اجلاس طلب کرنے کا بھی تیقن دیا تھا لیکن آج تک وہ اجلاس بھی منعقد نہیں ہوسکا۔ اسی دوران محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے چیف منسٹر کی سطح پر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی تجویز حکومت کو پیش کی ہے تاکہ چیف منسٹر کے حالیہ اعلانات کے تناظر میں اہم فیصلے کئے جاسکیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے چیف منسٹر کے حالیہ اعلانات پر مشتمل تفصیلی نوٹ تیار کررکھا ہے تاکہ اسے چیف منسٹر کو پیش کرتے ہوئے عمل آوری کی حکمت عملی طئے کی جاسکے۔ لیکن چیف منسٹر کے دفتر سے جائزہ اجلاس کے سلسلہ میں ابھی تک کوئی مثبت اشارے نہیں ملے ہیں۔ اقلیتی بہبود کے عہدیدار کئی اعلانات اور ان پر عمل آوری کے سلسلہ میں حکومت سے واضح ہدایات نہ ملنے کے سبب تذبذب کا شکار ہیں بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں محکمہ فینانس کا معاندانہ رویہ بھی محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے دردِ سر بن چکا ہے۔ اس سلسلہ میں جب کبھی چیف منسٹر کے دفتر سے نمائندگی کی جاتی ہے تو اسے چیف منسٹر سے رجوع نہیں کیا جاتا۔ اقلیتی بہبود کا قلمدان اگرچہ چیف منسٹر نے اپنے پاس رکھا لیکن کسی وزیر کو متعلقہ محکمہ کی نگرانی کی ہدایت بھی نہیں دی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اگرچہ بعض مواقع پر اقلیتی بہبود کا جائزہ اجلاس منعقد کیا لیکن اس اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کو چیف منسٹر کی منظوری حاصل نہیں ہوسکی جس کے باعث یہ اجلاس بھی بے فیض ثابت ہوئے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ جب تک چیف منسٹر کی سطح پر اجلاس منعقد نہیں ہوگا اس وقت تک بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں محکمہ فینانس پر دباؤ نہیں پڑے گا۔ چیف منسٹر جو اسمبلی اور عام جلسوں میں اقلیتوں کے حق میں کئی اعلانات اور تیقنات دیتے رہے ہیں لیکن ان پر عمل آوری کے سلسلہ میں اگر اسی قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT