Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود کے ملازمین حصول تنخواہ کیلئے بینک کے چکر لگانے پر مجبور

محکمہ اقلیتی بہبود کے ملازمین حصول تنخواہ کیلئے بینک کے چکر لگانے پر مجبور

گھنٹوں طویل قطار میں ٹھہرنے پر بھی مایوسی، ملازمین کے مسائل میں مزید اضافہ
حیدرآباد۔/3ڈسمبر، ( سیاست نیوز) کرنسی نوٹ کی تنسیخ کا اثر دیگر محکمہ جات کے ساتھ ساتھ محکمہ اقلیتی بہبود پر بھی بری طرح مرتب ہوا ہے اور ملازمین اپنی تنخواہوں کیلئے بینکوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ اقلیتی اداروں نے ایک دن قبل ہی ملازمین کی تنخواہوں کی رقم کا چیک متعلقہ بینکس کو روانہ کردیا اور تنخواہ کے مماثل ملازمین کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کردی گئی۔ ریاستی حکومت کے فیصلے کے مطابق یکمشت 10 ہزار روپئے حاصل کرنے کیلئے ملازمین جب اپنے متعلقہ بینک پہنچے تو انہیں یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ ملازمین کیلئے کوئی علحدہ کاؤنٹرس قائم نہیں کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ بینکوں میں کیاش کی کمی کا بہانہ بناکر 10ہزار روپئے کے بجائے صرف 4 ہزار روپئے ادا کرنے سے اتفاق کیا۔ کئی ملازمین تو ایسے ہیں جو گھنٹوں قطار میں ٹھہرنے کے باوجود رقم سے محروم رہے اور ان کا نمبر آنے تک بورڈ آویزاں کردیا گیا کہ کیاش ختم ہوچکا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں وقف بورڈ، اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی، فینانس کارپوریشن، سی ای ڈی ایم اور ڈائرکٹوریٹ اقلیتی بہبود کے ملازمین کو بھی یہ شکایت ہے کہ ان کی تنخواہیں اگرچہ بینک کھاتوں میں موجود ہے لیکن وہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ کم از کم 10 ہزار روپئے کے حصول کی صورت میں وہ بنیادی ضروریات کی تکمیل کرسکتے تھے لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ ان کیلئے مسائل میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی ضروری اشیاء کی خریدی کے سلسلہ میں دکانداروں کو نومبر کا بل ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں جس کے باعث دکانداروں نے انہیں کریڈٹ پر سامان فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ اے ٹی ایم سے بیک وقت دو تا ڈھائی ہزار روپئے حاصل ہورہے ہیں جو انتہائی ناکافی ہیں۔ غریب اور متوسط گھرانے کیلئے صرف 10ہزار روپئے پر انحصار ممکن نہیں ہے۔ ملازمین نے کہا کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے وہ گھریلو ضروری اشیاء کے علاوہ بچوں کے تعلیمی اخراجات کی تکمیل سے بھی قاصر ہیں۔ ملازمین کے اصرار پر اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں نے متعلقہ بینک منیجر سے ربط قائم کیا لیکن بینک عہدیداروں کا یہ جواب تھا کہ جب تک انہیں مناسب مقدار میں کیاش دستیاب نہیں ہوگا اسوقت تک وہ ہر ملازم کو 10 ہزار روپئے ادا کرنے کے موقف میں نہیں رہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT