Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ اقلیتی بہبود کے 178 ملازمین 5 ماہ کی تنخواہ سے محروم

محکمہ اقلیتی بہبود کے 178 ملازمین 5 ماہ کی تنخواہ سے محروم

اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین فاقہ کشی کا شکار ، اعلیٰ عہدیداروں کی بے حسی
حیدرآباد ۔ 7۔ڈسمبر (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے 178 ملازمین گزشتہ 5 ماہ سے تنخواہوں سے محرومی کے سبب فاقہ کشی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے یہ ملازمین اعلیٰ عہدیداروں کی بے حسی اور عدم توجہی کا شکار ہیں اور وہ دن بہ دن اپنے خاندان کے خرچ کو چلانے کیلئے قرض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے حال ہی میں تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں واضح ہدایات کے باوجود عہدیداروں کو ان غریب خاندانوں کے حالات سے کوئی ہمدردی نہیں۔ ایک طرف نوٹ بندی میں اقلیتی بہبود کے ملازمین کو مکمل تنخواہ کے حصول سے محروم کردیا تو دوسری طرف کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے یہ ملازمین تنخواہوں کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ حیرت تو اس بات پرہے کہ عہدیدار اپنی ضروریات کی تکمیل میں کوئی کسر باقی رکھنا نہیں چاہتے لیکن انہیں ان غریبوں کے حالات سے کوئی ہمدردی  نہیں۔ گزشتہ ماہ یوم اقلیتی بہبود کی تقریب میں ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل ایم ایس پربھاکر نے ڈپٹی چیف منسٹر اور عہدیداروں کی توجہ کی جانب مبذول کرائی تھی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ کسی طرح تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنائے لیکن اب 4 ماہ کے بجائے 5 ماہ گزر گئے لیکن تنخواہیں ادا نہیں کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ ملازمین محکمہ اقلیتی بہبود میں فٹبال کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور جہاں  ضرورت ہو ، ان کی خدمات حاصل کی جاتی ہے۔ اقامتی اسکولوں کے قیام میں ان ملازمین نے اہم رول ادا کیا۔ اس کے بعد نئے اضلاع کی تشکیل سے ملازمین کی کمی دور کرنے کیلئے انہیں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر دفاتر سے مربوط کیا گیا۔ اس طرح جہاں ضرورت ہو، ان کی خدمات حاصل کی جارہی ہے لیکن جب تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ آتا ہے تو اعلیٰ عہدیدار ان سے اس طرح منہ پھیر لیتے ہیں جیسے وہ اقلیتی بہبود کے ملازم نہ ہو۔ گزشتہ سال کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز جن کی تعداد علی الترتیب 43 اور 30 ہے، اردو اکیڈیمی سے اقلیتی فینانس کارپوریشن منتقل کردیا گیا۔ جاریہ سال حکومت نے پہلے سہ ماہی کے تحت 75 لاکھ روپئے جاری کئے تھے ، جس سے 4 ماہ کی زیر التواء تنخواہ جاری کی گئی ،

 

اس کے بعد سے 5 ماہ گزرگئے لیکن ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں۔ ان ملازمین کی تنخواہوں ، کمپیوٹر سنٹرس و لائبریریز کی عمارتوں کا کرایہ  اور دیگر اخراجات کیلئے سالانہ 3 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے ۔ ایک طرف حکومت ان ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے وعدہ پر عمل کرنے سے قاصر ہے تو دوسری طرف ان کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی جارہی ہے ۔ گزشتہ 11 ماہ سے عمارتوں کا کرایہ ادا نہیں کیا گیا۔ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز فی الوقت اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت ہے اور وہاں کے اعلیٰ عہدیداروں کو ان ملازمین کے مسائل کی سماعت کیلئے وقت نہیں ہے ۔ اگر عہدیدار چاہیں تو ٹریننگ اینڈ ایمپلائمنٹ اسکیم کے بجٹ کے ذریعہ تنخواہیں ادا کی جاسکتی ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ تلنگانہ میں کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز غیر کارکرد ہوچکے ہیں جبکہ آندھراپردیش میں کمپیوٹر سنٹرس میں ٹریننگ کے امتحانات منعقد کئے گئے اور بہت جلد اقلیتی طلبہ کیلئے کمپیوٹر کلاسس کا آغاز ہوگا۔ پروگرام کے مطابق اگست میں کمپیوٹر کورسس کے امتحانات منعقد کئے جانے تھے لیکن 5 ماہ گزرنے کے باوجود تلنگانہ میں امتحانات منعقد نہیں کئے گئے ۔ ملازمین نے شکایت کی کہ تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں ان کی سنوائی کرنے عہدیدار دستیاب نہیں ہوتے۔ مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کو اقلیتی اقامتی اسکولس کی ذمہ داری دی گئی اور وہ اپنا زیادہ وقت سوسائٹی میں گزار رہے ہیں۔ لہذا حج ہاؤز میں وہ وقت دینے سے قاصر ہیں۔ ایسے میں تنخواہ سے محروم ملازمین در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ان کی شکایت ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں کی عدم موجودگی میں ان کے ماتحت افراد کا رویہ غیر انسانی ہے۔ مینجنگ ڈائرکٹر سے قربت رکھنے والے ایک ریٹائرڈ عہدیدار کی جانب سے بدتمیزی کے ساتھ پیش آنے کی بھی ملازمین نے شکایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عہدیدار ایسے افراد کی سرپرستی کر رہے ہیں ، جو نہ صرف باقاعدگیوں میں ملوث ہیں بلکہ کارپوریشن کے ایک کروڑ سے زائد رقم کو غیر قانونی طور پر حاصل کرچکے ہیں۔ ملازمین نے شکایت کی کہ سرکاری رقومات کو غیر قانونی طریقہ سے لوٹنے والے افراد اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی میں ابھی بھی کام کر رہے ہیں جبکہ دن رات مکمل دیانتداری کے ساتھ خدمات انجام دینے کے باوجود وہ 5 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو وہ احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT