Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ انکم ٹیکس سے تاحال 250 کروڑ روپیوں کی ضبطی

محکمہ انکم ٹیکس سے تاحال 250 کروڑ روپیوں کی ضبطی

50 مقدمات ، تجارتی سرگرمیوں پر سخت نظر ، کرنسی ضبطی کی سی بی آئی تحقیقات
حیدرآباد۔15ڈسمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآبادمیں8نومبر کے بعد سے اب تک 250کروڑ کی غیر محسوب رقومات و اثاثہ جات کی ضبطی عمل میں لائی گئی ہے۔ تفصیلات کے بموجب محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے گذشتہ 36یوم کے دوران50مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں 24بڑے مقدمات ہیں جس میں چند اہم مقدمات مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے حوالہ کی گئی ہیں اور 12مقدمات انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے علاوہ 12مقدمات سی بی آئی کو تفویض کئے گئے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ملک میں کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد متحرک انکم ٹیکس عہدیداروں نے مختلف مقامات پر کئے گئے دھاؤوں کے علاوہ تلاشی مہم کے دوران پکڑی گئی جملہ رقومات کے سلسلہ میں مقدمات درج کئے ہیں اور کھاتوں میں جمع کروائی جانے والی رقومات کا جائزہ لیتے ہوئے بھی مقدمات درج کئے جانے کا عمل جاری ہے۔ذرائع کے بموجب پٹرول پمپ مالکین ‘ تاجرین اور ایسے افراد جن کے معروف کاروبار ہیں ان کے کھاتوں کے علاوہ ایسے کھاتوں پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے جن میں ایک کروڑ روپئے تک کی رقومات جمع کروائی جا رہی ہیں۔ان کے علاوہ شہر حیدرآباد میں سونے کے تاجرین کی سرگرمیوں کے علاوہ ان کی جانب سے کی گئی خرید و فروخت کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور 100سونے کے تاجرین ایسے ہیں جن کی سرگرمیاں مشتبہ سمجھی جا رہی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ 2لاکھ سے زائد مالیتی سونے کی فروخت کے لئے شناختی کارڈ یا آدھار کارڈ نہ لینے والے سونے کے تاجرین کی خرید و فروخت پر نظر رکھی گئی ہے۔ انکم ٹیکس عہدیداروں کے بموجب ملک میں 8نومبر کو کرنسی کی تنسیخ کے فیصلہ کے فوری بعد اندرون چند گھنٹے 5100افراد نے سونے کی خریدی کی ہے جن کی تفصیلات اکٹھا کی جا رہی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیداروں کی جانب سے جو 250کروڑ کی ضبطی عمل میں لائی گئی ہے اس میں غیر محسوب اثاثہ جات شامل ہیں جنہیں شبہات کی بنیاد پر ضبط کیا گیا ہے اور نقد رقمی منتقلی کے دوران ضبط کی گئی رقومات کے علاوہ پوسٹ آفس عہدیدار کے رشتہ داروں کے مکانات پر کئے گئے دھاؤوں میں ضبط نئی کرنسی کے علاوہ بعض تاجرین کے بینک کھاتوں میں جمع کردہ رقومات بھی شامل ہیں۔ شہر حیدرآباد میں کرنسی تبدیلی کے کاروبار میں ملوث پائے گئے افراد کے پاس سے ضبط کردہ کرنسی کے حصول کے ذرائع کے متعلق تفصیلات اکٹھا کی جا رہی ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جار ہا ہے کہ رقومات کی تبدیلی کیلئے کن ذرائع سے اتنی بھاری رقومات ان افراد کو حاصل ہوئی جن سے وہ 30فیصد پر پرانی کرنسی کی تبدیلی کے کاروبار کر رہے تھے۔نئی کرنسی اور رقومات کی شکل میں جو ضبطی عمل میں لائی گئی ہے ان کی تحقیقات سی بی آئی کو تفویض کی جا رہی ہے کیونکہ ان رقومات کے حصول کے ذریعہ کی گئی معلومات کا حصول محکمہ انکم ٹیکس اور حکومت کے لئے ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT