Monday , June 18 2018
Home / ہندوستان / محکمہ انکم ٹیکس نے 3500 کروڑ مالیتی بے نامی جائیداد ضبط کی

محکمہ انکم ٹیکس نے 3500 کروڑ مالیتی بے نامی جائیداد ضبط کی

پلاٹس ‘ فلیٹس ‘ زیورات ‘ گاڑیاں اور بینک کھاتے شامل ۔ حکومت کے اقدامات میں تیزی

نئی دہلی،11جنوری(سیاست ڈاٹ کام) محکمہ انکم ٹیکس نے کالے دھن اور بے نامی جائیدادوں پر کارروائی میں تیزی لانے کا اعلان کرتے ہوئے آج کہا کہ اس کی کارروائی میں تاحال 900سے زیادہ معاملوں میں 3500کروڑ روپے سے زائد قیمت کی بے نامی جائیداد ضبط کی گئی ہے ۔محکمہ نے یکم نومبر2016سے بے نامی جائیدادوں کے لین دین (پروہبیشن آف بے نامی پراپرٹی ٹرانزیکشنز ایکٹ)میں تیزی دکھائی جن میں زمینوں کے پلاٹ ،فلیٹس ،دوکانیں ، زیورات ،گاڑیاں ، بینک کھاتوں میں جمع کی گئی رقوم اور فکسڈ ڈپاز ٹ شامل ہیں۔ ضبط کی گئی ان املا ک کی مالیت تین ہزار 500 کروڑ روپے سے زائد ہے ، جن میں دو ہزار900 کروڑروپے کی مالیت کی غیر منقولہ املاک بھی شامل ہیں۔ پانچ معاملات ایسے ہیں ،جن میں 150 کروڑروپے کی مالیت کی املاک ضبط کی گئی ہیں اور مجاز اتھارٹی نے ان کی تصدیق بھی کردی ہے ۔ ایسے ہی ایک معاملے میں پایا گیا کہ رئیل اسٹیٹ کمپنی نے 50 ایکڑ زمین حاصل کی تھی۔110 کروڑ روپے کی مالیت کی یہ زمین بے نامی اداروں کی حیثیت سے مختلف ناموں سے حاصل کی گئی تھی۔ایسے ہی ایک دوسرے معاملے میں نوٹ بندی کے بعد دو افراد کو مختلف بینک کھاتوں میں اپنے ملازمین اور اداروں کے نام سے نوٹ بند کی جانے والی کرنسی جمع کرائی گئی تھی۔ اس کام میں بینک کھاتوں میں جمع کرائی جانے والی کل رقم تقریباََ 39 کروڑ روپے تھی ، جو بالآخر فائدہ یافتہ مالکوں کیلئے جمع کی گئی تھی۔ ایک اور معاملے میں ایک گاڑی سے 1.11 کروڑروپے کی نقد رقم ضبط کی گئی تھی لیکن گاڑی پرسوار شخص نے اس رقم کی ملکیت سے انکار کردیا تھا۔ نتیجتاًکسی نے بھی اس رقم کی ملکیت کا عویٰ نہیں کیا اور مجاز اتھارٹی نے اسے بے نامی اثاثہ قرار دے دیا تھا۔قبل ازیں محکمہ انکم ٹیکس نے پروہبیشن آف بے نامی پراپرٹی ٹرانزیکشنز ایکٹ (بے نامی ایکٹ ) کے تحت کارروائی تیز کردی تھی۔ اس ایکٹ کی رو سے املاک کا عبوری اٹیچمنٹ کیا جاسکے گا اور بالآخر انہیں ضبط کیا جاسکے گا ،خواہ وہ منقولہ املاک ہوں یا غیر منقولہ۔ اس ایکٹ کی روسے فائدہ یافتہ مالک پر مقدمہ درج کیا جاسکے گا۔اس کے ساتھ ہی بے نامی سودوں میں مدد کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جاسکے گا، جس کے نتیجے میں سات سال تک کی سزائے قید اور بازار میں اس اثاثے کی قیمت کے 25 فیصد کے بقدر جرمانہ وصول کیا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی محکمہ انکم ٹیکس نے اپنی تفتیشی ڈائریکٹوریٹس کے تحت مئی 2017 تک ملک بھر میں 24 بے نامی پروہبیشن یونٹ بھی قائم کرلئے ہیں تاکہ بے نامی املاک کے معاملے میں فوری کارروائی کی جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT