Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ سیول سپلائز کے تجارتی اداروں پر دھاوے

محکمہ سیول سپلائز کے تجارتی اداروں پر دھاوے

مقررہ جی ایس ٹی سے زائد رقم وصولی پر کارروائی، 357 مقدمات کا اندراج
حیدرآباد ۔ 28 اکٹوبر (سیاست نیوز) کمشنر سیول سپلائز سی وی آنند نے بتایا کہ گذشتہ دو دن کے دوران ریاست کے مختلف مقامات پر دھاوے کرتے ہوئے پیاک کردہ اشیاء پر مقرر قیمت (ایم آر پی) سے زیادہ جی ایس ٹی وصول کرنے والے 357 تاجرین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ کمشنر سیول سپلائز نے بتایا کہ عوام کی سہولت کیلئے واٹس اپ کے علاوہ دوسرے ٹیلیفون نمبرات کی فراہمی پر مثبت ردعمل کااظہار کیا جارہا ہے۔ ریاست کے مختلف مالس، ہوٹلس، بیکریوں، ملٹی پلکس، بار اینڈ ریسٹورنٹس کے علاوہ دوسرے چھوٹے بڑے تجارتی اداروں کی جانب سے پیاک کردہ اشیاء پر ایم آر پی سے زیادہ جی ایس ٹی وصول کرنے کی شکایتیں وصول ہوئی ہیں جس پر محکمہ سیول سپلائز کی جانب سے فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کئی تجارتی مراکز کی جانچ کی گئی ہے۔ سدی پیٹ کے اکشے بار اینڈ ریسٹورنٹ میں واٹر باٹل پر ایم آر پی سے زیادہ جی ایس ٹی وصول کرنے کی واٹس اپ پر شکایت وصول ہوئی۔ اس شکایت پر ضلع لیگل میٹرو لابی عہدیداروں نے جانچ کرتے ہوئے ریسٹورنٹ کے خلاف مقدمہ درج کیا اور 25 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ سی وی آنند نے کہا کہ عوام سے شکایتیں وصول ہونے کے بعد اس کی تحقیقات کی گئی اور قصوروار ثابت ہونے والے افراد کے خلاف صرف دو دن میں 357 مقدمات درج کئے گئے۔ عوام کو جی ایس ٹی کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے ساتھ دھاوے بھی کئے جارہے ہیں۔ جی ایس ٹی کے نام سے ایم آر پی سے زیادہ قیمت وصول کرنے والوں میں بگ بازار، مور، رتنادیپ، ہیپر مارکٹ، ستارہ گرانڈ ہوٹ، امراوتی ہوٹل، سنتوش دھابہ، چیلز، آئی ناس کاچیگوڑہ، آئی میاکس خیریت آباد، وی آر کے سرکل جیسے تجارتی مراکز کے خلاف بھی مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ صرف ایک آئی ماکس میں 6 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ کمشنر سیول سپلائز نے کہا کہ کئی تاجرین جو اشیاء جی ایس ٹی میں شامل نہیں ہے اس پر بھی اضافی قیمت وصول کررہے ہیں۔ جی ایس ٹی نمبر کے بغیر جی ایس ٹی کے نام سے ایم آر پی سے زیادہ قیمت وصول کررہے ہیں۔ بیشتر تاجرین جی ایس ٹی قواعد پر عمل آوری کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ حالیہ دھاوؤں میں اس بات کا پتہ چلا ہے۔ رجسٹرڈ کردہ برانڈ اشیاء پر ہی جی ایس ٹی لاگو ہوتا ہے لیکن بغیر رجسٹرڈ کردہ برانڈ اشیاء پر بھی جی ایس ٹی وصول کیا جارہا ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT