محکمہ صحت تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تبادلوں کا اسکام

ترقی و تبادلوں پر پابندی کے باوجود ڈیپوٹیشن کے نام پر من پسند مقامات پر تعیناتی کا انکشاف

ترقی و تبادلوں پر پابندی کے باوجود ڈیپوٹیشن کے نام پر من پسند مقامات پر تعیناتی کا انکشاف
حیدرآباد۔/6مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے محکمہ صحت میں بڑے پیمانہ پر تبادلوں کا اسکام منظر عام پر آیا ہے جس کی حکومت نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ صحت کے زون 6 کے تحت 130 عہدیداروں کو ڈیپوٹیشن کے نام پر غیر قانونی طریقہ سے تبادلے کئے گئے۔ اس کیلئے بعض عہدیداروں نے خود کو سابق وزیر صحت کا رشتہ دار ظاہر کرکے بھاری رقومات حاصل کی ہیں۔ڈیپوٹیشن کے نام پر تبادلے اسوقت کئے گئے جب تلنگانہ میں تبادلوں و ترقی پر پابندی تھی لیکن بعض عہدیداروں نے نیا راستہ اختیار کیا اور ڈیپوٹیشن کے نام پر 130عہدیداروں کو ان کی پسند کے مقامات پر تعینات کیا۔ واضح رہے کہ محکمہ صحت میں بے قاعدگیوں اور رشوت ستانی کی شکایات کے بعد چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے وزیر صحت کی حیثیت سے ڈاکٹر راجیا کو برطرف کردیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد زون 6کے تحت علاقوں میں بعض عہدیداروں نے خود کو اسوقت کے وزیر صحت کا رشتہ دار ظاہر کرکے لاکھوں روپئے حاصل کئے۔ پرنسپال سکریٹری محکمہ صحت نے اس معاملہ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن ابھی تک تحقیقات میں پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ بے قاعدگیوں کی اطلاع پر ضلع کلکٹر نلگنڈہ نے ڈیپوٹیشن پر آنے والوں کے احکامات کو منسوخ کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن ابھی تک ان احکامات پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ حیدرآباد علاقہ کے تحت رنگاریڈی، محبوب نگر، نلگنڈہ، میدک اور کھمم اضلاع آتے ہیں اور دیہی علاقوں میں خدمات انجام دینے والے عہدیدار حیدرآباد میں پوسٹنگ کیلئے بھاری رقومات ادا کرنے کی شکایات ملی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان اضلاع سے تقریباً 130سے زائد ایم پی ایچ ایس سوپر وائزر، نرسنگ اسٹاف کو منتقل کیا گیا۔ ان کے علاوہ محکمہ صحت کے بعض اعلیٰ عہدیداروں کے تقررات اور تبادلوں کے سلسلہ میں بھی بڑے پیمانے پر رشوت ستانی کی اطلاعات ملی ہیں۔ اس معاملہ کی تحقیقات میں سستی حکومت نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور عہدیداروں کو تحقیقات جلد مکمل کرنے اور رپورٹ پیش کرنے ہدایت دی ۔ اس معاملہ کو اپوزیشن جماعتیں اسمبلی اجلاس میں اٹھانے کی تیاری کررہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT