Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / محکمہ قضأت میں کارپوریٹ طرز کے اسکیانرس و عصری کمپیوٹرس

محکمہ قضأت میں کارپوریٹ طرز کے اسکیانرس و عصری کمپیوٹرس

میاریج و دیگر اسناد کی بروقت اجرائی پر توجہ ، چیرمین وقف بورڈ محمد سلیم کا جائزہ
حیدرآباد۔23 اگست (سیاست نیوز) محکمہ قضات کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے بعض اہم فیصلے کیئے ہیں جس کے تحت کارپوریٹ آفس کی طرح قضات کے دفتر میں اسکیانرس اور عصری کمپیوٹرس نصب کئے جارہے ہیں تاکہ میریج اور دیگر سرٹیفکیٹس کی بروقت اجرائی ممکن ہوسکے۔ اس کے علاوہ ریکارڈ بھی مکمل طور پر کمپیوٹر میں محفوظ ہوجائے گا اور فائلوں کا سسٹم ختم ہوسکتا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے قضات کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اسے عصری بنانے کے لیے پیش کردہ منصوبے کو منظوری دے دی جس کے مطابق قضات کا دفتر بھی اب حج ہائوز کی پہلی منزل کے بجائے گرائونڈ فلور پر منتقل کیا جارہا ہے۔ 30 اگست کو امریکن کونسلیٹ کے عہدیداروں کی جانب سے قضات کے دفتر کے معائنے تک امکان ہے کہ دفتر نئی عمارت میں منتقل ہوجائے گا۔ حج ہائوز کے پہلے بلاک میں گرائونڈ فلور پر وسیع جگہ موجود ہے جہاں چیمبرس بھی تیار کئے گئے ہیں۔ اس علاقے کو قضات کے دفتر کے طور پر استعمال کیا جائے گا تاکہ عوام بالخصوص خواتین کو پہلی منزل تک پہنچنے کی زحمت نہ ہو۔ خواتین کو قضات کے دفتر جانے کے لیے مسجد کے راستے سے گزرنا پڑرہا تھا۔ قضات کا موجودہ دفتر بھی جگہ کے اعتبار سے ناکافی تھا۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ جس طرح پاسپورٹ آفس میں عصری اسکیانرس اور کمپیوٹرس کے ذریعہ خدمات انجام دی جاتی ہیں اسی طرح قضات کا دفتر بھی عصری سہولتوں سے آراستہ ہوگا۔ اس سلسلہ میں ماہر ملازمین کی تعیناتی عمل میں آئے گی۔ اس طرح عملے کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ اسکیانرس اور کمپیوٹرس چلانے کے لیے ماہرین کی ضرورت ہے اور نئی تبدیلیوں کے سبب درخواست گزار انتظار کی زحمت سے بچ جائیں گے۔ درخواست اور اس سے مربوط تمام دستاویزات کو اسکیان کرتے ہوئے دوسرے مرحلہ میں ان کی جانچ کی جائے گی۔ جانچ کی تکمیل کے بعد مقررہ فیس حاصل کرتے ہوئے سرٹیفکیٹ جاری کردیا جائے گا۔ اس طرح فائلوں کا بوجھ خودبخود کم ہوسکتا ہے۔ تمام دستاویزات کمپیوٹر میں محفوظ ہوجائیں گے جو نام اور تاریخ کے ٹائپ کرتے ہی اسکرین پر آسکتے ہیں۔ صدرنشین نے بتایا کہ ٹوکن سسٹم بھی متعارف کیا جائے گا تاکہ قطار میں کوئی بے قاعدگی نہ ہو۔ صدرنشین وقف بورڈ نے بتایا کہ دفتر کی منتقلی سے بروکرس کے رول میں اضافہ کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعہ قضات پر نظر رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قضات سیکشن کا کوئی بھی عہدیدار یا ملازم بروکرس کے ساتھ ملی بھگت کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور تحقیقات میں ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قضات سیکشن میں کافی بے قاعدگیوں کی شکایات موجود ہیں جس کے نتیجہ میں حالیہ عرصہ میں ملازمین کو تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بروکرس کے اشارے پر مالی منفعت کے لیے کام کرنے والے افراد کو بخشا نہیں جائے گا اور بروکرس کو پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے درخواست گزار کا موجود ہونا لازمی رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT